خرید وفروخت کے بیان
Explanation of Buying and Selling
1.اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاو2.حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں ۔3.مشبہات کی تفسیر کا بیان، اور حسان بن ابی سنان نے بیان کیا کہ میں نے پرہیزگاری سے زیادہ آسان کوئی چیز نہیں دیکھی جو چیز شک کی ہے اس کو چھوڑ کر اس چیز کو اختیار کرو جس میں شک نہیں ہے ۔4.مشتبہہ چیزوں سے پرہیز کا بیان5.ان لوگوں کا بیان جنہوں نے وسوسہ وغیرہ کو مشتبہہ چیزوں میں نہیں سمجھا6.اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب وہ لوگ تجارت یا کھیل کی چیز دیکھتے تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ۔7.اس شخص کا بیان کہ جس کو کچھ پروا نہ ہو کہ کہاں سے مال حاصل کیا ہے ؟8.خشکی میں تجارت کرنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ وہ لوگ جنہیں تجارت اور خرید وفروخت ذکر الٰہی سے غافل نہیں کرتی اور قتادہ نے کہا کہ لوگ تجارت اور خرید وفروخت کرتے تھے لیکن جب ان پر اللہ کا حقوق میں سے کوئی حق آجاتا تو خرید وفروخت انہیں ذکر الٰہی سے غافل نہیں کرتی یہاں تک کہ وہ اس کو ادا کرلیتے ۔9.تجارت کے لئے نکلنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ زمین میں پھیل جاو10.سمندر میں تجارت کرنے کا بیان11.(اللہ تعالیٰ کا قول) اور جب تجارت یا کھیل کی دیکھتے تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ وہ لوگ جنہیں تجارت اور خرید وفروخت ذکر الٰہی سے غافل نہیں کرتی اور قتادہ نے کہا کہ لوگ تجارت کرتے تھے لیکن جب اللہ کے حقوق میں سے کسی حق کی ادائے گی کا وقت آجاتا تو انہیں تجارت اور خرید وفروخت یاد الٰہی سے غافل نہ کرتی یہاں تک کہ وہ اس حق کو ادا کرلیتے ۔12.اللہ تعالیٰ کا قول کہ اپنی پاکیزہ کمائی میں سے خرچ کرو۔13.اس شخص کا بیان جو رزق میں وسعت چاہے۔14.نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ادھار خریدنے کا بیان ۔15.آدمی کا کمانا اور اپنے ہاتھ سے محنت کرنے کا بیان۔16.خرید وفروخت میں سہولت اور فیاضی کرنے کا بیان اور جو شخص حق طلب کرے تو سختی سے بچتے ہوئے طلب کرے ۔17.مالدار کو مہلت دینے کا بیان۔18.تنگ دستوں کو مہلت دینے کا بیان ۔19.جب بیچنے والے اور خریدنے والے صاف صاف بیان کردیں اور کوئی عیب نہ چھپائیں اور دونوں ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں اور عداء بن خالد سے منقول کیا ہے انہوں نے کہا کہ مجھ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھ کر دیا کہ یہ تحریر ہے اس بات کی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عداء بن خالد سے فلاں چیز خریدی ہے اور یہ مسلمان کے ہاتھ میں مسلمان کی خرید وفروخت کی طرح ہے اس میں نہ تو کوئی بیماری ہے اور نہ کوئی برائی اور نہ غائلہ ہے اور قتادہ نے کہا کہ غائلہ سے مراد، زنا، چوری، اور بھاگ جانا ہے ۔ اور ابراہیم نخعی سے پوچھا گیا کہ بعض ولال خراسان اور سجستان کا نام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جانور کل ہی خراسان سے آیا ہے، آج ہی سجستان سے آیا ہے ابراہیم نے اس کو بہت برا سمجھا اور عقبہ بن عامر نے بیان کیا کہ کسی شخص کے لئے ایسے سامان کا بیچنا جائز نہیں جس کے متعلق اسے معلوم ہو کہ اس میں عیب ہے مگر یہ کہ اس کو بیان کردے۔20.کھجور ملا کر بیچنے کا بیان۔21.ان روایات کا بیان جو گوشت بیچنے والے اور قصاص کے متعلق منقول ہیں ۔22.بیع میں عیب چھپانے اور جھوٹ بولنے سے برکت چلی جاتی ہے ۔23.اللہ تعالیٰ کا قول، کہ اے ایمان والو!سود کئی گنا کرکے نہ کھاو24.سود کھانے والے اس کی گواہی دینے والے اور اس کو لکھنے والے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ اس طرح کھڑے ہوئے ہوں گے جس طرح وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جس کو شیطان نے ہاتھ لگا کر مجبور کردیا ہو یہ اس لئے کہ وہ کہتے تھے کہ بیع بھی سود کی طرح ہے اور اللہ نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا تو جس کے پاس اسکے رب کی طرف سے نصیحت آگئی اور وہ سود سے رک گیا تو جو کر درگزر اسی کا ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور جو اس کے باوجود دوبارہ سود لیں تو وہ دوزخی ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔25.سود کھانے والے کے گناہ کا بیان بدلیل ارشاد خداوندی کہ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور تم چھوڑ و جو سود باقی رہ گیا ہے اگر تم ایمان والے ہو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول سے اعلان جنگ کرو اور اگر تم نے توبہ کرلی تو تمہارے لئے تمہارا اصلی مال ہے نہ تم کسی کو ستاو26.اللہ سود کو مٹادیتا ہے، اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ ہر ناشکرے گناہ گار کو پسند نہیں کرتا۔27.بیع میں قسم کھانے کی کراہت کا بیان ۔28.سنار کے پیشہ کے متعلق جو روایتیں آئی ہیں اور طاو29.لوہاروں کا بیان ۔30.درزی کا بیان ۔31.جولاہے کا بیان ۔32.بڑھئی کا بیان۔33.ضرورت کی چیزیں خود خریدنے کا بیان اور ابن عمرنے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک اونٹ خریدا اور عبدالرحمن بن ابی بکر نے بیان کیا کہ ایک مشرک بکریاں لے کر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بکری خریدی اور جابر رضی اللہ عنہ سے ایک اونٹ خریدا۔34.چوپایوں اور گدھوں کے خرید نے کا بیان اور جب کوئی شخص جانور یا اونٹ خریدنے اور بیچنے والا اس پر سوار ہو تو کیا اترنے سے پہلے خریدار کا قبضہ ہوگا اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس کویعنی سرکش اونٹ کو میرے ہاتھ بیچ دے ۔35.ان بازاروں کا بیان جو جاہلیت کے زمانہ میں تھے اور اسلام کے زمانہ میں بھی لوگ وہاں خرید وفروخت کرتے ۔36.جس اونٹ کو استسقاء کا مرض ہوگیا ہو یا خارشی اونٹ کی خرید وفروخت کا بیان، ہائم کے معنی ہیں ہر چیز میں میانہ روی کے خلاف کرنے والا۔37.فتنہ فساد وغیرہ کے زمانہ میں ہتھیاروں کے بیچنے کا بیان اور عمران بن حصین نے فتنہ کے زمانہ میں اس کے بیچنے کو مکروہ سمجھا ہے ۔38.عطار کا اور مشک بیچنے کا بیان۔39.پچھنے لگانے والے کا بیان۔40.ان چیزوں کی تجارت کا بیان جن کا پہننا مردوں اور عورتوں کے لئے مکروہ ہے ۔41.مال کا مالک قیمت بیان کرنے کا زیادہ مستحق ہے ۔42.کب تک بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے ؟43.اگر اختیار کی تعین نہ کرے تو کیا بیع جائز ہے ؟44.بیچنے والے اور خریدنے والے کو اختیار ہے جب تک کہ دونوں جدا نہ ہوئے ہوں، ابن عمر رضی اللہ عنہ شریح، شعبی، طاو45.جب (بائع اور مشتری میں سے) ایک دوسرے کو بیع کے بعد اختیار دے تو بیع پوری ہوگئی۔46.اگر بائع کے لئے اختیار ہو تو کیا بیع جائز ہے ؟47.جب کوئی چیز خریدے اور جدا ہونے سے پہلے اسی وقت کسی کو ہبہ کردے بائع مشتری کا انکار نہ کرے یا کسی غلام کو خریدا اور اس کو آزاد کردیا اس شخص کے متعلق جو رضامندی سے کوئی سامان خریدے پھر اس کو بیچ دے طاؤس نے کہا بیع واجب ہوگئی اور نفع خریدار کو ملے گا48.بیع میں دھوکہ دینے کی کراہت کا بیان۔49.بازاروں کے متعلق جو کہا گیا اس کا بیان اور عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا کہ جب ہم مدینہ آئے تو میں نے پوچھا یہاں کوئی بازار بھی ہے جہاں تجارت ہوتی ہو؟ کہا قینقاع کا بازار ہے اور انس نے بیان کیا کہ عبدالرحمن نے کہا کہ مجھ کو بازار بتاو50.بازاروں کے متعلق جو کہا گیا اس کا بیان اور عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا کہ جب ہم مدینہ آئے تو میں نے پوچھا یہاں کوئی بازار ہے جہاں تجارت ہوتی ہو؟ کہا قینقاع کا بازار ہے اور انس نے بیان کیا کہ عبدالرحمن نے کہا کہ مجھ کو بازار بتاو51.بازار میں شور وغل مچانے کی کراہت کا بیان۔52.ناپنے کی اجرت بیچنے والے اور دینے والے پرہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب وہ ان کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں، کالوھم، سے مراد ہے ان کے لئے ناپتے ہیں اور، وزنوھم، سے مراد ہے ان کے لئے وزن کرتے ہیں جس طرح، یسمعونکم سے مراد یسمعونلکم، ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ پورے طور پر ناپ تول کیا کرو اور حضرت عثمان سے منقول ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب بیچو تو ناپ کردو اور جب خریدو تو ناپ کر لو۔53.غلہ کاناپنا مستحب ہے۔54.نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع اور مد میں برکت کا بیان اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے۔55.ان روایات کا بیان جو غلہ بیچنے اور احتکار کے متعلق منقول ہیں ۔56.قبضہ کرنے سے پہلے غلہ بیچنے کا بیان اور اس چیز کا بیان جو پاس موجود نہ ہو۔57.جب کوئی شخص غلہ اندازہ سے خریدے، توبعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کو نہ بیچے جب تک کہ اپنے ٹھکانے پر نہ لے آئے اور اس پر سزادینے کا بیان ۔58.جب کوئی سامان یا جانور خریدے تو اس کو بائع کے پاس رہنے یا قبضہ کرنے سے پہلے مرجائے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب کسی زندہ اور ہوش وحو اس رکھنے والے سے معاملہ ہوجائے تو وہ خریدار ہے ۔59.اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کے مول پر مول کرے جب تک کہ وہ اسے اجازت نہ دے یا چھوڑ دے۔60.نیلام کی بیع کا بیان اور عطاء نے بیان کیا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ مال غنیمت کو نیلام کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔61.نجش کا بیان اور بعض کا خیال ہے کہ یہ بیع جائز نہیں ہے اور ابن اوفی نے کہا کہ نجش کرنے والا سود خورخائن ہے اور یہ فریب باطل ہے، جائزنہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوزخ میں لے جائے گا اور جس نے وہ کام کیا جس کا میں نے حکم نہیں دیا تو وہ مردود ہے ۔62.دھوکہ کی بیع اور حبل الحبلہ کی بیع کا بیان۔63.بیع ملامسہ کا بیان اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ۔64.بیع منابذہ کا بیان اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ۔65.بائع کے لئے منع ہے کہ اونٹ گائے اور بکری کو نہ دوہے (تاکہ دودھ زیادہ معلوم ہو) اور محفلہ اور مصراۃ وہ جانور ہے جس کا دودھ نہ دوہا گیا ہو اور دودھ روک کر تھن میں جمع کردیا گیا ہو۔ اور کئی دن تک نہ دوہا گیا ہو اور تصریہ کے اصل معنی پانی کو روکنا ہے اور اسی سے آتا ہے صریت المائ(یعنی پانی کو روک رکھنا) ۔66.اگر چاہے تو مصراۃ جانور کو واپس کرے اور اس کے دودھ کے عوض ایک صاع کھجور دے۔67.زانی غلام کی بیع کا بیاناور شریح نے کہا کہ اگر چاہے تو زنا کے سبب سے اس کو واپس کردے ۔68.عورتوں سے خرید وفروخت کرنے کا بیان۔69.کیاشہری دیہاتی کے لئے بغیر اجرت کے بیچ سکتا ہے اور کیا اس کی مدد یاخیرخواہی کرسکتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے نیک مشورہ طلب کرے تو اسے نیک مشورہ دینا چائیے، اور عطا نے اس کی اجازت دی ہے ۔70.بعض لوگوں نے دیہاتی کے لئے شہری کی بیع کو بغیر اجر کے مکروہ سمجھا ہے ۔71.شہری دیہاتی کے لئے دلالی کے ساتھ نہ بیچے، اور ابن سیرین نے بائع اور مشتری دونوں کے لئے مکروہ سمجھا، اور ابراہیم نے کہا کہ عرب کہتے تھے، بع لی ثوبا اور اس سے مراد ان کی یہ ہوتی تھی کہ میرے لئے کپڑے خرید لو۔72.آگے جا کر قافلہ والوں سے ملنے کی ممانعت، اور اس کی بیع مردود ہے، اس لئے کہ اس کا کرنے والا نا فرمان گنہگار ہے جب کہ وہ جانتا ہے، کہ یہ بیع ایک قسم کا دھوکا ہے، اور دھوکہ جائز نہیں ۔73.مال والوں کی پیشوائی کس مقام تک ممنوع ہے ؟74.بیع میں ایسی شرطوں کے لگانے کا بیان جو جائز نہیں ہیں ۔75.کھجور کے عوض کھجور بیچنے کا بیان ۔76.منقی کے عوض منقی اور غلہ کے عوض غلہ بیچنے کا بیان ۔77.جو کے عوض جو بیچنے کا بیان ۔78.سونے کے عوض سونا بیچے کا بیان ۔79.چاندی کے عوض چاندی بیچنے کا بیان ۔80.دینار کے عوض دینار کو ادھار بیچنے کا بیان81.سونے کے عوض چاندی ادھار بیچنے کا بیان ۔82.چاندی کے عوض سونا بیچنے کا بیان ۔83.بیع مزابنہ کا بیان مزابنہ یہ ہے کہ خشک کھجور کے عوض درخت سے لگی ہوئی کھجور اور کشمش انگور کے عوض بیچے اور بیع عرایا کا بیان انس نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ۔84.سونا کے عوض درخت پر لگی ہوئی کھجور بیچنے کا بیان ۔85.عرایا کی تفسیر امام مالک نے کہا عریہ یہ ہے کہ ایک شخص کسی کو کھجور کا درخت دیدے پھر اس کے بار بار آنے سے اس کو تکلیف ہو تو اس کو اجازت دی گئی ہے کہ خشک کھجور دے کر اس درخت کو خرید لے اور ابن ادریس نے کہا عریہ تمر کے عوض دست بدست ناپ کر ہوتا ہے اندازے سے نہیں ہوتا اور سہل بن ابی حثمہ کا قول اس کی تائید کرتا ہے کہ عریہ وسقوں سے ناپ تول کر ہوتا ہے اور ابن اسحق نے اپنی احادیث میں نافع سے انہوں نے ابن عمر سے روایت کی کہ عرایا یہ ہے کہ ایک شخص اپنے مال میں سے کھجور کا ایک یا دو درخت دیدے یزید نے سفیان بن حسین سے نقل کیا کہ عرایا کھجور کے درخت ہو رہے تھے جو مسکینوں کو دئے جاتے تھے مگر وہ اس کے پکنے کا انتظار نہ کر سکتے تھے تو انہیں اس بات کی اجازت دی گئی کہ جس قدر کھجور کے عوض چاہیں بیچ ڈالیں86.قابل انتفاع ہونے سے پہلے پھلوں کے بیچنے کا بیان اور لیث نے ابوالزناد سے نقل کیا کہ عروہ بن زبیر سہل بن ابی حثمہ انصاری سے جو نبی حارثہ میں سے تھے نقل کرتے تھے انہوں نے زید بن ثابت سے روایت کی کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں پھلوں کی خرید وفروخت کرتے تھے جب کا ٹنے کا وقت آجاتا تو خریدار تقاضا کرنے آتے خریدار کہتا کہ پھل کو دمان ہو گیا اس کو مرض ہو گیا قشام ہو گیا دمان مرض قشام درختوں کی بیماریوں کے نام ہیں اسی قسم کی دیگر آفتوں کا تذکرہ کرتے اور جھگڑتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جب اس قسم کے مقدمات کثرت سے آنے لگے تو آپ نے فرمایا کہ یا تو پھلوں کو نہ بیچو جب تک کہ پھل کی پختگی ظاہر نہ ہو اور یہ آپ نے مشورہ کے طور پر فرمایا اس لئے کہ کثرت سے مقدمات آنے لگے تھے اور مجھ سے خارجہ بن زید بن ثابت نے بیان کیا کہ زید بن ثابت اپنی زمین کے پھلوں کو نہ بیچتے جب تک ثریا ستارہ نہ نکلتا اور سرخی وزردی نمایان ہوجاتی ابوعبداللہ (بخاری) نے کہا اس کو علی بن بحر نے بیان کیا مجھ سے حکام نے بواسطہ عنبسہ زکریا ابوالزناد عروہ سہل زید بیان کیا ۔87.قابل انتفاع ہونے سے پہلے کھجور بیچنے کا بیان88.جب کسی نے پھلوں کو قابل انتفاع ہونے سے پہلے بیچ دیا پھر اس پر کوئی آفت آجائے تو بائع کا نقصان ہوگا89.ایک مدت کے وعدے پر غلہ خرید نے کا بیان90.اچھی کھجور کے عوض اگر کوئی خراب کھجور بیچنا چاہے ۔91.اس شخص کا بیان جو پیوند کی ہوئی کھجور یا زمین جس میں فصل لگی ہوئی ہو بیچ دے یا ٹھیکہ پر دے92.اس شخص کا بیان جو پیوند کی ہوئی کھجور یا زمین جس میں فصل لگی ہوئی ہو بیچ دے یا ٹھیکہ پر دے ابوعبداللہ نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام نے بواسطہ ابن جریج ابن ابی ملیکہ نافع ابن عمر کے غلام نے بیان کیا کہ جب بھی پیوند لگے ہوئے کھجور کے درخت بیچے جائیں اور اس میں پھل کا تذکرہ نہ ہو تو پھل اس کا ہے جس نے پیوند لگایا ہے اور یہی حال غلام اور کھیت کا ہے نافع نے اس تینوں چیزوں کا نام ان سے لیا تھا93.کھیتی کا غلہ کے عوض ناپ کے حساب سے بیچنے کا بیان94.درخت کا جڑ سمیت بیچنے کا بیان ۔95.بیع مخاضرہ کا بیان ۔96.کھجور گابھ بیچنے اور اس کے کھانے کا بیان ۔97.خریدوفروخت ٹھیکہ اور ناپ تول میں ہر شہر کے لوگوں کے عرف ان کے رسم ورواج نیتوں اور مشہور طریقوں پر حکم جاری ہوگا اور شریح نے سوت بیچنے والوں سے کہا کہ تمہاری رسم رواج کے مطابق ہی حکم دیا جائے گا اور عبدالوہاب نے بواسطہ اؤب محمد بیان کیا کہ دس کی چیز کا گیا رہ کے عوض بیچنے میں کوئی حرج نہیں اور خرچ کے عوض نفع لے لے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہند سے فرمایا قاعدہ کے مطابق اتنا لے لے جو تجھ کو اور تیرے بچوں کا کافی ہو اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو فقیر ہو تو قاعدہ کے مطابق کھائے اور حسن نے عبداللہ بن مرد اس کا ایک گدھا کرایہ پر لیا تو پوچھا کتنا کرایہ ہوگا کہا دو دانق پھر اس پر سوار ہو گئے پھر دوسری مرتبہ آئے تو کہا گدھا چاہیے گدھا چاہیے اس پر سوار ہو گئے اور کوئی کرایہ طے نہیں کیا اور عبداللہ کو نصف درہم بیج دیا ۔98.ایک شریک کا دوسرے شریک کے ہاتھ بیچنے کا بیان99.مشترک زمین مکا نات اور سامان کے بیچنے کا بیان جو تقسیم نہ ہواہو100.اگر کوئی چیز دوسرے کے لئے اس کے اجازت کے بغیر خریدے پھر وہ راضی ہو جائے101.مشرکین اور دارلحرب کے رہنے والوں سے خرید و فروخت کر نے کا بیان ۔102.حربی سے غلام خریدنے اس کے ہبہ کرنے اور آزاد کرنے کا بیان اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلمان سے فرمایا کتابت کر لے یہ آزاد تھے لیکن ان پر لوگوں نے ظلم کیا اور انہیں بیچدیا اور عمار وصہیب وبلال قید کئے گئے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت بخشی ہے تو جب لوگوں کو زیادہ روزی دی گئی وہ اپنی لونڈی اور غلاموں پر اپنا رزق واپس کرتے کہ وہ سب برابر ہو جائیں کیا وہ لوگ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں ۔103.دباغت سے پہلے مردار کی کھال کا بیان ۔104.سور ماڈالنے کا بیان اور جابرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سور کی بیع سے منع فرمایا ہے105.مردار کی چربی نہ پگھلائی جائے اور نہ اس کی چکنائی فروخت کی جائے اس کو جابر نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔106.ان چیزوں کی تصویریں کا بیان جس میں جان نہیں ہوتی اور اس میں کو نسی صورت حرام ہے ؟107.شراب کی تجارت کا حرام ہونا اور جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب بیچنے کو حرام قرار دیا ہے108.اس شخص کا گناہ جس نے کسی آزاد کو بیچ دیا109.حیوان کے عوض حیوان اور غلام کے ادھار بیچنے کا بیان۔110.حیوان کے عوض حیوان اور غلام کے ادھار بیچنے کا بیان اور ابن عمرنے ایک اونٹنی چار انٹنیوں کے عوض خریدی جس کے متعلق ذمہ داری لے لی تھی کہ ربذہ میں حوالہ کر دیں گے اور ابن عباس نے فرمایا کہ کبھی ایک اونٹ دوانٹوں کے عوض خریدا اور ان میں سے ایک تو بائع کو دیدیا اور دوسرے کے متعلق کہا کہ کل انشاء اللہ بلا تاخیر دیدوں گا بن میب نے کہا حیوان میں سود نہیں ایک اونٹ دو اونٹ کے عوض اور ایک بکری دو بکریوں کے عوض ادھار خرید سکتا ہے اور ابن سیرین نے کہا دو اونٹ کے عوض ایک اونٹ بیچنے میں کوئی مضائقہ نہیں111.مدبر کا بیان112.کیا لونڈی کے ساتھ قبل اس کے کہ اس کا استبرا کرے سفر کر سکتا ہے اور حسن بصری نے بوسہ یا مباشرت میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا اور ابن عمر نے کہا کہ ایسی لانڈی ہبہ کی جائے یا بیچی جائے یا آزاد ہو جس سے صحبت کی جاتی تھی تو وہ ایک حیض تک استبراء کرے اور کنواری عورت استبرا نہ کرے عطاء نے کہا ہے کہ حاملہ لونڈی سے اس کی شرمگاہ سے فائدہ حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں پر ۔113.مردار اور بتوں کے بیچنے کا بیان۔114.زنا کار لونڈی کی کمائی کا بیان اور ابراہیم نے نوحہ کرنے والی اور گانے والی عورت کی اجرت کو مکروہ سمجھا اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامنی کی زندگی بسر کرنا چاہیں تو حرام کاری پر مجبور نہ کرو تاکہ دنیوی زندگی کا سامان حاصل کرو اور جس نے اس کو مجبور کیا تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کرنے کے بعد بخشنے والا مہربان پے فتیا تکم سے مراد لونڈیاں ہیں ۔115.کتے کی قیمت کا بیان عبداللہ بن یوسف مالک ابن شہاب ابوبکر بن عبدالرحمن حضرت ابومسعود انصاری سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتے کی قیمت زانیہ کی اجرت اور کاہن کی اجرت سے منع فرمایا ہے ۔