TrueHadith

حیوان کے عوض حیوان اور غلام کے ادھار بیچنے کا بیان اور ابن عمرنے ایک اونٹنی چار انٹنیوں کے عوض خریدی جس کے متعلق ذمہ داری لے لی تھی کہ ربذہ میں حوالہ کر دیں گے اور ابن عباس نے فرمایا کہ کبھی ایک اونٹ دوانٹوں کے عوض خریدا اور ان میں سے ایک تو بائع کو دیدیا اور دوسرے کے متعلق کہا کہ کل انشاء اللہ بلا تاخیر دیدوں گا بن میب نے کہا حیوان میں سود نہیں ایک اونٹ دو اونٹ کے عوض اور ایک بکری دو بکریوں کے عوض ادھار خرید سکتا ہے اور ابن سیرین نے کہا دو اونٹ کے عوض ایک اونٹ بیچنے میں کوئی مضائقہ نہیں

Sahih BukhariHadith 2077

Narrated by Abu Said Al-Khudri

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مُحَيْرِيزٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا فَنُحِبُّ الْأَثْمَانَ فَکَيْفَ تَرَی فِي الْعَزْلِ فَقَالَ أَوَإِنَّکُمْ تَفْعَلُونَ ذَلِکَ لَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِکُمْ فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ کَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ خَارِجَةٌ

ابوالیمان، شعیب، زہری، ابن محیریز، ابوسعید خدری سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ایک بار وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم قیدی عورتوں کے پاس پہنچتے ہیں تو جماع کرتے ہیں اور انہیں ہم بیچنا چاہتے ہیں تو آپ عزل کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم لوگ ایسا کرتے ہو اگر تم لوگ ایسا نہ کرو تو بھی کوئی مضائقہ نہیں اس لیے کہ جس جان کا پیدا ہونا مقدر میں لکھا جا چکا ہے وہ پیدا ہو کر رہے گی۔

Narrated Abu Said Al-Khudri: that while he was sitting with Allah's Apostle he said, "O Allah's Apostle! We get female captives as our share of booty, and we are interested in their prices, what is your opinion about coitus interrupt us?" The Prophet said, "Do you really do that? It is better for you not to do it. No soul that which Allah has destined to exist, but will surely come into existence. ________________________________________

Permalink