TrueHadith

Sunan An-Nasa'i, Hadith 3148 · Hadiths Related to Marriage

Sunan An-Nasa'iHadith 3148

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ الْمُخَرَّمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُنْتُ أَغَارُ عَلَی اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقُولُ أَوَتَهَبَ الْحُرَّةُ نَفْسَهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تُرْجِي مَنْ تَشَائُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْکَ مَنْ تَشَائُ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَرَی رَبَّکَ إِلَّا يُسَارِعُ لَکَ فِي هَوَاکَ

محمد بن عبداللہ بن مبارک، ابواسامہ، ہشام بن عروہ، ابیہ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں ان خواتین کے بارے میں شرم و حیا محسوس کرتی تھی جو خود کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد فرمایا کرتی تھیں اور میں کہا کرتی تھی کہ کیا کوئی آزاد خاتون خود کو ہبہ کر سکتی ہے؟ اس پر خداوند قدوس نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی آخرتک۔ یعنی ان میں سے جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل چاہے دور رکھیں اور جس کو دل چاہے نزدیک رکھیں۔ پھر جن کو دور رکھا تھا اگر ان میں سے پھر کسی کو طلب کریں جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ تو میں نے عرض کیا خدا کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پروردگار جس بھی شئی کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواہش فرماتے ہیں فورا عطا فرما دیتا ہے۔

It was narrated that Sahl bin Saad said: “I was among the people when a woman said: ‘I offer myself (in marriage) to you, Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, see what you think of me.’ A man stood up and said: ‘Many me to her.’ He said: ‘Go and find (something), even if it is an iron ring.’ So he went, but he could not find anything, not even an iron ring. So the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘Do you have (memorized) any Surahs of the Qur’an?’ He said: ‘Yes.’ So he married him to her on the basis of what he knew of Surahs of the Qur’an.” (Sahih)

Permalink

See the full chapter: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نکاح سے متعلق فرمان اور ازواج اور ان کے بارے میں جو کہ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حلال فرمائی لیکن لوگوں کے واسطے حلال نہیں اور اس کا سبب اعزاز نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فضیلت مطلع فرمانا ہے