TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 2944 · Explanation of Buying and Selling

Sunan Abu DawoodHadith 2944

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی الرَّازِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ کِلَاهُمَا عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَاللَّفْظُ لِلْأَوْزَاعِيِّ حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهَا إِنَّمَا کَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَی الْمَاذِيَانَاتِ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَأَشْيَائَ مِنْ الزَّرْعِ فَيَهْلَکُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلَکُ هَذَا وَلَمْ يَکُنْ لِلنَّاسِ کِرَائٌ إِلَّا هَذَا فَلِذَلِکَ زَجَرَ عَنْهُ فَأَمَّا شَيْئٌ مَضْمُونٌ مَعْلُومٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ أَتَمُّ و قَالَ قُتَيْبَةُ عَنْ حَنْظَلَةَ عَنْ رَافِعٍ قَالَ أَبُو دَاوُد رِوَايَةُ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَنْظَلَةَ نَحْوَهُ

ابراہیم بن موسی، عیسی، اوزاعی، قتیبہ بن سعید، لیث ربیعہ، بن ابی عبدالرحمن اوزاعی، حضرت حنظلہ بن قیس انصاری سے روایت ہے کہ میں نے رافع بن خدیج سے سونے یا چاندی کے بدلہ میں زمین کو کرایہ پر دینے کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں لوگ اجارہ کرتے تھے۔ پانی کی رواں نالیوں کے سرے اور کھیتی کی جگہوں پر تو کبھی یہ ہلاک ہوتا اور وہ سلامت رہتا اور کبھی وہ ہلاک ہوتا اور یہ سلامت رہتا۔ اس صورت کے سوا لوگوں میں اور کرایہ مروج نہ تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا اور جو چیز محفوظ و مامون ہو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔ اور ابراہیم کی روایت مکمل ہے۔ اور قتیبہ نے عن حنظلہ عن رافع کہا ہے۔ ابوداؤد فرماتے ہیں کہ یحیی بن سعید کی حنظلہ سے اسی طرح روایت ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان