TrueHadith

مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کا بیان

Sunan Abu DawoodHadith 2941

Narrated by Ibn Abbad

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ مَا کُنَّا نَرَی بِالْمُزَارَعَةِ بَأْسًا حَتَّی سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهَا فَذَکَرْتُهُ لِطَاوُسٍ فَقَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا وَلَکِنْ قَالَ لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُکُمْ أَرْضَهُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا

محمد بن کثیر، سفیان، عمرو بن دینار، حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ ہم مزارعت کو برا سمجھتے تھے یہاں تک کہ ہم نے رافع بن خدیج سے سنا وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا ہے میں نے طاؤس سے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا ابن عباس کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا بلکہ آپ نے یہ فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی کو اپنی زمین بغیر کرائے کے دیدے تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہے۔

Narrated Ibn Abbad: Amr ibn Dinar said: I heard Ibn Umar say: We did not see any harm in sharecropping till I heard Rafi' ibn Khadij say: The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) has forbidden it. So I mentioned it to Tawus. He said: Ibn Abbas told me that the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) had not forbidden it, but said: It is better for one of you to lend to his brother than to take a prescribed sum from him.

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2942

Narrated by Zayd ibn Thabit

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرٌ الْمَعْنَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَا وَاللَّهِ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ إِنَّمَا أَتَاهُ رَجُلَانِ قَالَ مُسَدَّدٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ثُمَّ اتَّفَقَا قَدْ اقْتَتَلَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ کَانَ هَذَا شَأْنَکُمْ فَلَا تُکْرُوا الْمَزَارِعَ زَادَ مُسَدَّدٌ فَسَمِعَ قَوْلَهُ لَا تُکْرُوا الْمَزَارِعَ

ابو بکر بن ابی شیبہ، ابن علیہ، مسدد، بشر، عبدالرحمن بن اسحاق ، ابوعبیدہ ابن محمد بن عمار، ولید بن ابوولید، حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ زید بن ثابت نے کہا۔ اللہ رافع بن خدیج کی مغفرت فرمائے بخدا میں انسے زیادہ حدیث کو سمجھتا ہوں۔ اصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دو شخص آئے۔ مسدد کی روایت میں ہے کہ یہ انصاری تھے۔ پھر ابوبکر اور مسدد متفق ہو گئے اور کہا ان دونوں نے جھگڑا کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تمھارا یہ حال ہے تو زمین کو کرایہ پر مت دیا کرو یا مسدد نے یہ مزید روایت کیا کہ رافع بن خدیج نے بس اتنا ہی سنا کہ زمین کو کرایہ پر مت دیا کرو۔ (اور اسی کو روایت کر دیا)

Narrated Zayd ibn Thabit: Zayd ibn Thabit said: May Allah forgive Rafi' ibn Khadij. I swear by Allah, I have more knowledge of Hadith than him. Two persons of the Ansar (according to the version of Musaddad) came to him who were disputing with each other. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) said: If this is your position, then do not lease the agricultural land. The version of Musaddad has: So he (Rafi' ibn Khadij) heard his statement: Do not lease agricultural lands.

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2943

Narrated by Sa'd

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِکْرِمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدٍ قَالَ کُنَّا نُکْرِي الْأَرْضَ بِمَا عَلَی السَّوَاقِي مِنْ الزَّرْعِ وَمَا سَعِدَ بِالْمَائِ مِنْهَا فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ وَأَمَرَنَا أَنْ نُکْرِيَهَا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ

عثمان بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، ابراہیم بن سعد، محمد بن عکرمہ، عبدالرحمن بن حارث بن ہشام، حضرت سعد (ابن ابی وقاص) سے روایت ہے کہ ہم زمین کو کرایہ پر دیا کرتے تھے اس قدر پیداوار کے بدلہ میں جو نالیوں کے کنارے پر ہو اور جس پر پانی خود بخود پہنچ جائے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو اس سے منع فرمایا اور ہم کو زمین کو سونے یا چاندی کے بدلہ میں کرایہ پر دینے کا حکم فرمایا۔

Narrated Sa'd: We used to lease land for what grew by the streamlets and for what was watered from them. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) forbade us to do that, and commanded us to lease if for gold or silver.

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2944

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی الرَّازِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ کِلَاهُمَا عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَاللَّفْظُ لِلْأَوْزَاعِيِّ حَدَّثَنِي حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهَا إِنَّمَا کَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَی الْمَاذِيَانَاتِ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَأَشْيَائَ مِنْ الزَّرْعِ فَيَهْلَکُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلَکُ هَذَا وَلَمْ يَکُنْ لِلنَّاسِ کِرَائٌ إِلَّا هَذَا فَلِذَلِکَ زَجَرَ عَنْهُ فَأَمَّا شَيْئٌ مَضْمُونٌ مَعْلُومٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ أَتَمُّ و قَالَ قُتَيْبَةُ عَنْ حَنْظَلَةَ عَنْ رَافِعٍ قَالَ أَبُو دَاوُد رِوَايَةُ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَنْظَلَةَ نَحْوَهُ

ابراہیم بن موسی، عیسی، اوزاعی، قتیبہ بن سعید، لیث ربیعہ، بن ابی عبدالرحمن اوزاعی، حضرت حنظلہ بن قیس انصاری سے روایت ہے کہ میں نے رافع بن خدیج سے سونے یا چاندی کے بدلہ میں زمین کو کرایہ پر دینے کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں لوگ اجارہ کرتے تھے۔ پانی کی رواں نالیوں کے سرے اور کھیتی کی جگہوں پر تو کبھی یہ ہلاک ہوتا اور وہ سلامت رہتا اور کبھی وہ ہلاک ہوتا اور یہ سلامت رہتا۔ اس صورت کے سوا لوگوں میں اور کرایہ مروج نہ تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا اور جو چیز محفوظ و مامون ہو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔ اور ابراہیم کی روایت مکمل ہے۔ اور قتیبہ نے عن حنظلہ عن رافع کہا ہے۔ ابوداؤد فرماتے ہیں کہ یحیی بن سعید کی حنظلہ سے اسی طرح روایت ہے۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2945

Narrated by Rafi' ibn Khadij

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ فَقَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ فَقَالَ أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ

قتیبہ بن سعید، مالک، ربیعہ بن عبدالرحمن، حضرت حنظلہ بن قیس سے روایت ہے کہ انھوں نے رافع بن خدیج سے زمین کو کرایہ پر دینے کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے پھر میں نے پوچھا اگر سونے اور چاندی کے بدلہ زمین کو کرایہ پر دے تو کیسا ہے؟ انھوں نے کہا اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

Narrated Rafi' ibn Khadij: Hanzalah ibn Qays said that he asked Rafi' ibn Khadij about the lease of land. He replied: The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) forbade the leasing of land. I asked: (Did he forbid) for gold and silver (i.e. dinars and dirhams)? He replied: If it is against gold and silver, then there is no harm in it.

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2946

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي اللَّيْثِ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ يَکْرِي أَرْضَهُ حَتَّی بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَنْهَی عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ يَا ابْنَ خَدِيجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي کِرَائِ الْأَرْضِ قَالَ رَافِعٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَکَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ کُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُکْرَی ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَکُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِکَ شَيْئًا لَمْ يَکُنْ عَلِمَهُ فَتَرَکَ کِرَائَ الْأَرْضِ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَاهُ أَيُّوبُ وَعُبَيْدُ اللَّهِ وَکَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَمَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ رَافِعٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ حَفْصِ بْنِ عِنَانٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ رَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَذَلِکَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَتَی رَافِعًا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ وَکَذَا قَالَ عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو دَاوُد أَبُو النَّجَاشِيِّ عَطَائُ بْنُ صُهَيْبٍ

عبدالملک، بن شعیب بن لیث، عقیل، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ ابن عمر سے روایت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی زمینیں مزارعت (بٹائی) پر دیا کرتے تھے حتی کہ جب انہیں یہ حدیث پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزارعت سے منع فرمایا کرتے تھے تو عبداللہ بن عمر نے حضرت رافع بن خدیج سے ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ اے رافع بن خدیج کیا تم یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین کو بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ، حضرت رافع کہنے لگے کہ میں نے اپنے دو چچاؤں سے جو کہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے، گھر والوں سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم مجھے معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں زمین کو کرایہ پر دیا جاتا تھا لیکن پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ خدشہ ہوا کہ ممکن ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں کوئی نیا حکم فرمایا ہو جس کا انہیں علم نہ ہوا ہو، لہذا اس خدشہ کی بناء پر انہوں نے زمین کو کرائے پر دینا ترک کر دیا۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو ایوب، عبیدا للہ، کثیر بن فرقد اور مالک نے نافع سے اور انہوں نے اس کو حفص بن عنان سے اور انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے اسی طرح زید بن ابی بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت کیا ہے حکم سے انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ وہ حضرت رافع کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا تم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں اور اسی طرح حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عمار نے ابوالنجاشی سے اور انہوں نے حضرت رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے اور اوزاعی نے ابوالنجاشی سے اور انہوں نے حضرت رافع بن خدیج سے اور انہوں نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2947

Narrated by Rafi' ibn Khadij

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ يَعْلَی بْنِ حَکِيمٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ قَالَ کُنَّا نُخَابِرُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِهِ أَتَاهُ فَقَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ کَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا وَأَنْفَعُ قَالَ قُلْنَا وَمَا ذَاکَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا يُکَارِيهَا بِثُلُثٍ وَلَا بِرُبُعٍ وَلَا بِطَعَامٍ مُسَمًّی

عبیداللہ بن عمر میسرہ، خالد بن حارث، سعید بن یعلی بن حکیم، سلیمان بن یسار، رافع بن خدیج سے روایت کہ ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مخابرہ (مزارعت) کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ میرے ایک چچا آئے اور کہنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے معاملہ سے منع فرمایا ہے جو ہمارے واسطے بے حد نافع تھا لیکن اللہ اور رسول کی اطاعت ہمارے لیے بہت زیادہ نفع مند ہے، راوی کہتے ہیں کہ ہم نے کہا کہ وہ کیا ہے (یعنی وہ معاملہ کیا ہے جس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا) فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس زمین ہو تو اسے چاہیے کہ اس میں خود زراعت کرے یا (اگر خود نہیں کرتا) تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو دیدے زراعت کے لئے اور زمین کو کرائے پر نہ دے ایک تہائی مال کے بدلہ میں یا کسی متعین غلہ اور اناج کے بدلہ میں۔

Narrated Rafi' ibn Khadij: The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) forbade muhaqalah and muzabanah. Those who cultivate land are three: a man who has (his own) land and he tills it: a man who has been lent land and he tills the one lent to him; a man who employs another man to till land against gold (dinars) or silver (dirhams).

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith (internal ref #1330003)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ کَتَبَ إِلَيَّ يَعْلَی بْنُ حَکِيمٍ أَنِّي سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ بِمَعْنَی إِسْنَادِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَحَدِيثِهِ

محمد بن عبید، حماد بن زید، ایوب، یعلی بن حکیم، یہ حدیث سابقہ حدیث کی طرح ہے۔

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2948

Narrated by Rafi' ibn Khadij

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَائَنَا أَبُو رَافِعٍ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ کَانَ يَرْفُقُ بِنَا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ أَرْفَقُ بِنَا نَهَانَا أَنْ يَزْرَعَ أَحَدُنَا إِلَّا أَرْضًا يَمْلِکُ رَقَبَتَهَا أَوْ مَنِيحَةً يَمْنَحُهَا رَجُلٌ

ابو بکر بن ابی شیبہ، وکیع، عمر بن ذر، مجاہد، ابن رافع، بن خدیج سے مروی ہے کہ ان کے والد ابورافع حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے معاملہ سے منع فرما دیا جو ہمارے لئے آسان تھا لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت ہمارے لئے بہت زیادہ آسان ہے ہمیں منع فرما دیا۔ (حضور نے) اس بات سے منع فرما دیا کہ ہم سے کوئی اپنی زمین کے علاوہ کسی دوسری زمین میں زراعت کرے الا یہ کہ ایسی زمین میں زراعت کرے جسے کسی نے ہمیں ہدیہ کیا ہو۔

Narrated Rafi' ibn Khadij: AbuRafi' came to us from the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) said: The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) forbade us from a work which benefited us; but obedience to Allah and His Apostle (peace_be_upon_him) is more beneficial to us. He forbade that one of us cultivates land except the one which he owns or the land which a man lends him (to cultivate).

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2949

Narrated by Rafi' ibn Khadij

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ قَالَ جَائَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاکُمْ عَنْ أَمْرٍ کَانَ لَکُمْ نَافِعًا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَکُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاکُمْ عَنْ الْحَقْلِ وَقَالَ مَنْ اسْتَغْنَی عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ قَالَ أَبُو دَاوُد وَهَکَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ وَمُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ شُعْبَةُ أُسَيْدٌ ابْنُ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَديِجٍ

محمد بن کثیر، سفیان، منصور، مجاہد، اسید بن ظہیر، رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ حضرت رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خدیج ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا ہے جو تمہارے لئے نفع بخش تھا اور اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت تمھارے لئے زیادہ نفع بخش ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں کھیتی یعنی مزارعت سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ تم میں سے جو شخص اپنی زمین سے مستغنی ہونا چاہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنی زمین اپنے بھائی کو ہدیہ کر دے یا ایسے ہی چھوڑ دے۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ شعبہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جبکہ مفضل بن مہلہل نے بھی منصور سے یہ روایت کیا ہے شعبہ کہتے ہیں کہ سید رافع بن خدیج کے بھتیجے ہیں۔

Narrated Rafi' ibn Khadij: Usayd ibn Zubayr said: Rafi' ibn Khadij came to us and said: The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) forbids you from a work which is beneficial to you; and obedience to Allah and His Prophet (peace_be_upon_him) is more beneficial to you. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) forbids you from renting land for a share of its produce and he said: If anyone is not in need of his land he should lend it to his brother or leave it.

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2950

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ قَالَ بَعَثَنِي عَمِّي أَنَا وَغُلَامًا لَهُ إِلَی سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ فَقُلْنَا لَهُ شَيْئٌ بَلَغَنَا عَنْکَ فِي الْمُزَارَعَةِ قَالَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَرَی بِهَا بَأْسًا حَتَّی بَلَغَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَی بَنِي حَارِثَةَ فَرَأَی زَرْعًا فِي أَرْضِ ظُهَيْرٍ فَقَالَ مَا أَحْسَنَ زَرْعَ ظُهَيْرٍ قَالُوا لَيْسَ لِظُهَيْرٍ قَالَ أَلَيْسَ أَرْضُ ظُهَيْرٍ قَالُوا بَلَی وَلَکِنَّهُ زَرْعُ فُلَانٍ قَالَ فَخُذُوا زَرْعَکُمْ وَرُدُّوا عَلَيْهِ النَّفَقَةَ قَالَ رَافِعٌ فَأَخَذْنَا زَرْعَنَا وَرَدَدْنَا إِلَيْهِ النَّفَقَةَ قَالَ سَعِيدٌ أَفْقِرْ أَخَاکَ أَوْ أَکْرِهِ بِالدَّرَاهِمِ

محمد بن بشار، یحیی، ابوجعفر، فرماتے ہیں کہ مجھے میرے چچا نے ایک غلام کے ہمراہ حضرت سعید بن المسیب کے پاس بھیجا ہم نے ان سے کہا کہ مزارعت کے متعلق ہمیں آپ کی طرف سے ایک روایت پہنچی ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس میں کوئی حرج نہیں کہتے تھے، حتی کہ حضرت رافع بن خدیج کی حدیث پہنچی اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس آئے تو رافع نے انہیں بتلایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو حارثہ کے پاس تشریف لائے تو ظہیر کی زمین میں کچھ زراعت دیکھی تو فرمایا کہ ظہیر کی کھیتی کس قدر اچھی ہے لوگوں نے عرض کیا کہ یہ کھیتی ظہیر کی نہیں ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا یہ زمین ظہیر کی نہیں ہے لوگوں نے کہا کہ ہاں کیوں نہیں لیکن کھیتی فلاں شخص کی ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پس اپنی کھیتی لے لو اور محنت کرنے والے کاشتکار کو اس کی مزدوری دے دو۔ حضرت رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ پس ہم نے اپنی کھیتی لے لی اور اخراجات مزدوری کاشتکار کو دیدی۔ حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ بس اب دو صورتیں ہیں ایک یہ تم اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرد یا یہ کہ دراہم کے عوض اسے زمین کرائے پر دیدو (یعنی عاریتا اسے زمین دیدو اور اس سے کچھ بٹائی وغیرہ وصول نہ کرو)

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2951

Narrated by Rafi' ibn Khadij

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا طَارِقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَقَالَ إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ وَرَجُلٌ اسْتَکْرَی أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍقَالَ أَبُو دَاوُد قَرَأْتُ عَلَی سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ قُلْتُ لَهُ حَدَّثَکُمْ ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ سَعِيدٍ أَبِي شُجَاعٍ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حِجْرِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَجَائَهُ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَهْلٍ فَقَالَ أَکْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلَانَةَ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَقَالَ دَعْهُ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ

مسدد، ابواحوص، طارق بن عبدالرحمن، سعید بن مسیب، رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ زراعت کی تین صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ کسی آدمی کی زمین ہے اور وہ اس میں زراعت کرتا ہے، دوسرے یہ کہ کسی نے زمین عاریة لی ہو او اس مستعار زمین میں وہ زراعت کرے۔ تیسرے یہ کہ کوئی آدمی سونے یا چاندی کے بدلہ میں زمین کرائے پر لے۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث سعید بن یعقوب الطالقانی کے سامنے پڑھی اور ان سے کہا کہ حضرت عبداللہ بن المبارک نے آپ سے یہ حدیث سعید بن ابی شجاع کے واسطہ سے بیان کی اور وہ کہتے ہیں مجھ سے عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج نے یہ حدیث بیان کی اور یہ کہ میں یتیم تھا اور حضرت رافع بن خدیج کی سرپرستی میں تھا، میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو ان کے پاس میرے بھائی عمران بن سہل آئے اور ان سے کہا کہ ہم نے اپنی زمین کرائے پر دی ہے فلاں عورت کو دو سو درہم کے عرض میں تو حضرت رافع نے فرمایا کہ اس معاملہ کو چھوڑ دو اس لئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔

Narrated Rafi' ibn Khadij: AbuJa'far al-Khatmi said: My uncle sent me and his slave to Sa'id ibn al-Musayyab. We said to him, there is something which has reached us about sharecropping. He replied: Ibn Umar did not see any harm in it until a tradition reached him from Rafi' ibn Khadij. He then came to him and Rafi' told him that the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) came to Banu Harithah and saw crop in the land of Zuhayr. He said: What an excellent crop of Zuhayr is! They said: It does not belong to Zuhayr. He asked: Is this not the land of Zuhayr? They said: Yes, but the crop belongs to so-and-so. He said: Take your crop and give him the wages. Rafi' said: We took our crop and gave him the wages. Sa'id (ibn al-Musayyab) said: Lend your brother or employ him for dirhams.

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2952

قَالَ أَبُو دَاوُد قَرَأْتُ عَلَى سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيِّ قُلْتُ لَهُ حَدَّثَكُمْ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ سَعِيدٍ أَبِي شُجَاعٍ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ سَهْلِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ إِنِّي لَيَتِيمٌ فِي حِجْرِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَجَاءَهُ أَخِي عِمْرَانُ بْنُ سَهْلٍ فَقَالَ أَكْرَيْنَا أَرْضَنَا فُلَانَةَ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَقَالَ دَعْهُ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ

مسنگ

-

Permalink

Sunan Abu DawoodHadith 2953

Narrated by Rafi' ibn Khadij

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ حَدَّثَنَا بُکَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ عَامِرٍ عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّهُ زَرَعَ أَرْضًا فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْقِيهَا فَسَأَلَهُ لِمَنْ الزَّرْعُ وَلِمَنْ الْأَرْضُ فَقَالَ زَرْعِي بِبَذْرِي وَعَمَلِي لِي الشَّطْرُ وَلِبَنِي فُلَانٍ الشَّطْرُ فَقَالَ أَرْبَيْتُمَا فَرُدَّ الْأَرْضَ عَلَی أَهْلِهَا وَخُذْ نَفَقَتَکَ

ہارون بن عبداللہ فضل، بن دکین ، بکیر، بن عامر، ابن ابن نعیم، رافع بن خدیج، فرماتے ہیں کہ حضرت رافع بن خدیج نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی انہوں نے ایک زمین میں زراعت کی تھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس زمین پر گزر ہوا اور وہ اس وقت حضرت رافع زمین کو پانی دے رہے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ یہ کھیتی کس کی ہے؟ یہ زمین کس کی ہے۔ رافع نے جواب دیا کہ کھیتی اور بیج میرا ہے اور محنت بھی میری ہے جبکہ پیداوار کا آدھا حصہ میرا ہے اور آدھا فلاں شخص کے لئے ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے سودی معاملہ کیا ہے زمین اس کے مالک کو لوٹا دو اور اپنے اخراجات اس سے وصول کر لو۔

Narrated Rafi' ibn Khadij: Rafi' had cultivated a land. The Prophet (peace_be_upon_him) passed him when he was watering it. So he asked him: To whom does the crop belong, and to whom does the land belong? He replied: The crop is mine for my seed and labour. The half (of the crop) is mine and the half for so-and-so. He said: You conducted usurious transaction. Return the land to its owner and take your wages and cost.

Permalink