TrueHadith

Sahih Muslim, Hadith 2271 · Explanation of Hajj

Sahih MuslimHadith 2271

و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ تَدْفَعُ قَبْلَهُ وَقَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ وَکَانَتْ امْرَأَةً ثَبِطَةً يَقُولُ الْقَاسِمُ وَالثَّبِطَةُ الثَّقِيلَةُ قَالَ فَأَذِنَ لَهَا فَخَرَجَتْ قَبْلَ دَفْعِهِ وَحَبَسَنَا حَتَّی أَصْبَحْنَا فَدَفَعْنَا بِدَفْعِهِ وَلَأَنْ أَکُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ فَأَکُونَ أَدْفَعُ بِإِذْنِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، افلح، ابن حمید، قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مزدلفہ کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے منیٰ چلی جائیں اور لوگوں کے ہجوم سے پہلے نکل جائیں کیونکہ وہ بھاری بدن کی عورت تھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سودہ کو اجازت دے دی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے نکل گئیں اور ہم رکے تھے یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لے لیتی کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت سے جانا مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ جس سے میں خوش ہو رہی تھی۔

'A'isha (Allah be pleased with her) reported: Sauda (the wife of the Holy Prophet) who was bulky sought the permission of Allah's Messenger (may peace be upon him) on the night of Muzdalifa to move from (that place) ahead of him and before the multitude (set forth). He (Allah's Apostle) gave her the permission. So she set forth before his (Holy Prophet's) departure. But we stayed there until it was dawn and we moved on when he departed. And if I were to seek the permission of Allah's Messenger (may peace be upon him) as Sauda had sought permission, I could have also gone with his permission and it would have been better for me than that for which I was happy.

Permalink

See the full chapter: کمزور لوگ اور عورتوں وغیرہ کو مزدلفہ سے منی کی طرف رات کے حصہ میں روانہ ہونے کے استحباب کے بیان میں ۔