TrueHadith

کمزور لوگ اور عورتوں وغیرہ کو مزدلفہ سے منی کی طرف رات کے حصہ میں روانہ ہونے کے استحباب کے بیان میں ۔

Sahih MuslimHadith 2271

و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ تَدْفَعُ قَبْلَهُ وَقَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ وَکَانَتْ امْرَأَةً ثَبِطَةً يَقُولُ الْقَاسِمُ وَالثَّبِطَةُ الثَّقِيلَةُ قَالَ فَأَذِنَ لَهَا فَخَرَجَتْ قَبْلَ دَفْعِهِ وَحَبَسَنَا حَتَّی أَصْبَحْنَا فَدَفَعْنَا بِدَفْعِهِ وَلَأَنْ أَکُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ فَأَکُونَ أَدْفَعُ بِإِذْنِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، افلح، ابن حمید، قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مزدلفہ کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے منیٰ چلی جائیں اور لوگوں کے ہجوم سے پہلے نکل جائیں کیونکہ وہ بھاری بدن کی عورت تھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سودہ کو اجازت دے دی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے نکل گئیں اور ہم رکے تھے یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لے لیتی کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت سے جانا مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ جس سے میں خوش ہو رہی تھی۔

'A'isha (Allah be pleased with her) reported: Sauda (the wife of the Holy Prophet) who was bulky sought the permission of Allah's Messenger (may peace be upon him) on the night of Muzdalifa to move from (that place) ahead of him and before the multitude (set forth). He (Allah's Apostle) gave her the permission. So she set forth before his (Holy Prophet's) departure. But we stayed there until it was dawn and we moved on when he departed. And if I were to seek the permission of Allah's Messenger (may peace be upon him) as Sauda had sought permission, I could have also gone with his permission and it would have been better for me than that for which I was happy.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2272

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی جَمِيعًا عَنْ الثَّقَفِيِّ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ضَخْمَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَلَيْتَنِي کُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ وَکَانَتْ عَائِشَةُ لَا تُفِيضُ إِلَّا مَعَ الْإِمَامِ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، ثقفی ابن مثنی، عبدالوہاب، ایوب، عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھاری بدن کی عورت تھیں جس کی وجہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مزدلفہ سے رات ہی کو واپس آنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت عطا فرما دی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ کاش میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگتی جیسا کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگی اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مزدلفہ سے واپس نہیں آتی تھیں سوائے امام کے ساتھ۔

A'isha (Allah be pleased with her) reported that (hadrat) Sauda was a bulky lady, so she sought permission from Allah's Messenger (may peace be upon him) to proceed from Muzdalifa (to Mina) in the (latter part of the) night. He granted her permission. 'A'isha said: I wish I had also sought permission from Allah's Messenger (may peace be upon him) as Sauda had sought permission from him. 'A'isha did not proceed but with the Imam.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2273

و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ وَدِدْتُ أَنِّي کُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًی فَأَرْمِي الْجَمْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ فَقِيلَ لِعَائِشَةَ فَکَانَتْ سَوْدَةُ اسْتَأْذَنَتْهُ قَالَتْ نَعَمْ إِنَّهَا کَانَتْ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا

ابن نمیر، عبیداللہ بن عمر، عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ فرماتی ہیں کہ میں چاہتی تھی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگوں جیسا کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت مانگی اور صبح کی نماز منیٰ میں پڑھی تھی اور لوگوں کے آنے سے پہلے جمرہ کو کنکریاں مار لیتی تھیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا گیا کیا حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگی تھی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہاں کیونکہ وہ ایک بھاری جسم کی عورت تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اجازت عطا فرما دی۔

'A'isha said: I wish I had sought permission from Allah's Messenger (may peace be upon him) as Sauda had sought, and observed the dawn prayer at Mina and stoned at al-Jamra before the people had come there. It was said to 'A'isha (Allah be pleased with her): Did Sauda seek permission from him (the Holy Prophet)? She said: Yes. She was a bulky lady and so she sought permission from Allah's Messenger (may peace be upon him) (to proceed to Mina from Muzdalifa ahead of him), and he granted her permission.

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1220628)

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، زہیر بن حرب، عبدالرحمن، سفیان، حضرت عبدالرحمن بن قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت منقول ہے۔

A hadith like this has been narrated by 'Abd al-Rahman b. al-Qasim with the same chain of transmitters.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2274

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَی أَسْمَائَ قَالَ قَالَتْ لِي أَسْمَائُ وَهِيَ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ لَا فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ يَا بُنَيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَتْ ارْحَلْ بِي فَارْتَحَلْنَا حَتَّی رَمَتْ الْجَمْرَةَ ثُمَّ صَلَّتْ فِي مَنْزِلِهَا فَقُلْتُ لَهَا أَيْ هَنْتَاهْ لَقَدْ غَلَّسْنَا قَالَتْ کَلَّا أَيْ بُنَيَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ

محمد بن ابی بکر مقدامی، یحیی، قطان، ابن جریر، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت اسماء کے غلام بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا حالانکہ وہ دار مزدلفہ کے پاس تھیں کیا چاند غروب ہوگیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں تو حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کچھ وقت نماز پڑھی پھر فرمایا اے میرے بیٹے! کیا چاند غروب ہوگیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ چلو میرے ساتھ تو ہم چلے یہاں تک کہ حضرت اسماء نے جمرہ کو کنکریاں ماریں پھر انہوں نے اپنی جگہ میں نماز پڑھی میں نے عرض کیا کہ ہم نے بہت جلدی کی ہے حضرت اسماء نے فرمایا ہرگز نہیں اے میرے بیٹے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کے جلدی جانے کی اجازت دی ہے۔

Abdullah, the freed slave of (Hadrat) Asma', reported: Asma' (Allah be pleased with her), as she was in the house at Muzdalifa, asked me whether the moon had set. I said: No. She prayed for some time, and again said: My son has the moon set? I said: Yes. And she said: Set forth along with me, and so we set forth until (we reached Mina) and the stoned at al-Jamra. She then prayed in her place. I said to her: Respected lady, we set forth (in the very early part of dawn) when it was dark, whereupon she said: My son, there is no harm in it; Allah's Apostle (may peace be upon him) had granted permission to women. This hadith has been narrated by Ibn Juraij with the same chain of transmitters, and In his narration (the words are): "She (Asma') said: My son, Allah's Apostle (may peace be upon him) granted permission to women."

Permalink

Sahih MuslimHadith (internal ref #1220630)

و حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَتِهِ قَالَتْ لَا أَيْ بُنَيَّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِظُعُنِهِ

علی بن خشرم، عیسی، بن یونس، حضرت ابن جریج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور ایک روایت میں حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ نہیں اے میرے بیٹے! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زوجہ مطہرہ کو سفر کی اجازت دے دی تھی۔

It is narrated from Umm Habiba: We used to set forth from Muzdalifa to Mina, (very early in the dawn) when it was dark. And in the narration of Naqid (the words are): "We set from Muzdalifa in the darkness (of the dawn)."

Permalink

Sahih MuslimHadith 2275

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی جَمِيعًا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَنَّ ابْنَ شَوَّالٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَی أُمِّ حَبِيبَةَ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِهَا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ

محمد بن حاتم، یحیی بن سعید، علی بن خشرم، عیسی، ابن جریج، عطاء، حضرت ابن شوال خبر دیتے ہیں کہ وہ ام حبیبہ کی خدمت میں آئے انہوں نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں (حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) رات کے وقت ہی مزدلفہ بھیج دیا تھا۔

Ibn Shawwal (the freed slave of Umm Habiba) reported that he went to Umm Habiba (the wife of Allah's Apostle) who informed him that Allah's Apostle (may peace be upon him) sent her from Muzdalifa during the night.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2276

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ کُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُغَلِّسُ مِنْ جَمْعٍ إِلَی مِنًی وَفِي رِوَايَةِ النَّاقِدِ نُغَلِّسُ مِنْ مُزْدَلِفَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار، عمرناقد، سفیان، عمرو بن دینار سالم بن شوال، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح اندھیرے میں ہی روانہ ہو جاتی تھیں۔

It is narrated from Umm Habiba: We used to set forth from Muzdalifa to Mina, (very early in the dawn) when it was dark. And in the narration of Naqid (the words are): "We set from Muzdalifa in the darkness (of the dawn)."

Permalink

Sahih MuslimHadith 2277

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ أَوْ قَالَ فِي الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ

یحیی بن یحیی، قتیبہ، بن سعید، حماد، یحیی، حماد بن زید، عبداللہ بن یزید، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بوجھل لوگوں میں بھیجا یا فرمایا کہ وہ کمزور لوگ جن کو رات کے وقت ہی مزدلفہ سے بھیج دیا تھا میں بھی انہی میں سے تھا۔

Ibn 'Abbas reported: Allah's Messenger (may peace be upon him) sent me from Muzdalifa ahead (of the caravan) along with the luggage or with the weak ones during (the latter part of the) night.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2278

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، عبیداللہ بن ابی یزید، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر والوں کے جب کمزوروں کو پہلے بھیج دیا تھا میں بھی انہی میں سے تھا۔

Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported: I was among those (i. e. women and children) whom Allah's Messenger (may peace be upon him) sent forth with the weak members of his family.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2279

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، عمرو عطاء، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا کہ اپنے گھر کے جن ضعیف لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے بھیجا تھا۔

This hadith has been transmitted by Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) with a slight variation of words.

Permalink

Sahih MuslimHadith 2280

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَحَرٍ مِنْ جَمْعٍ فِي ثَقَلِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ أَبَلَغَکَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَ بِي بِلَيْلٍ طَوِيلٍ قَالَ لَا إِلَّا کَذَلِکَ بِسَحَرٍ قُلْتُ لَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ وَأَيْنَ صَلَّی الْفَجْرَ قَالَ لَا إِلَّا کَذَلِکَ

عبد بن حمید، محمد بن بکر ابن جریج، عطاء ابن عباس، حضرت ابن جریج رضی اللہ تعالیٰ عنہ خبر دیتے ہیں کہ مجھے حضرت عطاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سامان دے کر مزدلفہ سے صبح سحری کے وقت بھیجا ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا کہ کیا تجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو بہت پہلے بھیج دیا تھا انہوں نے کہا کہ نہیں سوائے اس کے کہ وہ سحری کا وقت تھا ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا کہ کیا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہے کہ ہم نے فجر سے پہلے جمرہ کو کنکریاں ماریں اور فجر کی نماز کہاں پڑھی انہوں نے کہا کہ نہیں سوائے اس کے یعنی صرف اتنی بات کہی۔

'Ata' reported from Ibn Abbas (Allah be pleased with them): Allah's Messenger (may peace be upon him) sent me from Muzdalifa along with his luggage (in the very early part of the dawn). I (Ibn Juraij, one of the narrators) said (to 'Ata'): Has this (news) reached you that Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) had said: "He (Allah's Messenger) had sent me in the latter part of the night"? Thereupon he said: No, it was the dawn. I (again) said to him: (Did you hear) Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) having said this (too): "We stoned al-Jamra before the dawn prayer"? So where did he observe the dawn prayer? He said: No. But he said only so much (as described above).

Permalink

Sahih MuslimHadith 2281

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِاللَّيْلِ فَيَذْکُرُونَ اللَّهَ مَا بَدَا لَهُمْ ثُمَّ يَدْفَعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الْإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًی لِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِکَ فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوْا الْجَمْرَةَ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ أَرْخَصَ فِي أُولَئِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبد اللہ، عبداللہ بن عمر، حضرت ابن شہاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں خبر دی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر والوں میں سے کمزرو لوگوں کو پہلے بھیج دیا کرتے تھے اور وہ رات ہی کو مزدلفہ میں مشعر الحرام کے پاس وقوف کرتے تھے اور اللہ کا ذکر کرتے جتنا چاہتے پھر وہ امام کے وقوف اور اس کے آنے سے پہلے ہی واپس ہوتے تھے اور ان میں سے کچھ لوگ فجر کی نماز کے وقت منی میں پہنچتے اور کچھ اس کے بعد تو جب وہ پہنچ جاتے تو جمرہ کو کنکریاں مارتے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کمزوروں کے بارے میں رخصت دی ہے۔

Salim b. 'Abdullah reported that 'Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) used to send ahead of him the weak members of his household to stay during the night at Mash'ar al-Haram at Muzdalifa. They remembered Allah so long as they could afford, and then they proceeded before the stay of the Imam, and before his return. So some of them reached Mina for the dawn prayer and some of them reached there after that; and as they reached there, they stoned al-Jamra; and Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) used to say: Allah's Messenger (may peace be upon him) has granted this concession to them.

Permalink