Sahih Bukhari — Hadith 2018
Narrated by Tawus
حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَا مَعْنَی قَوْلِهِ لَا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ فَقَالَ لَا يَکُنْ لَهُ سِمْسَارًا
عیاش بن عبدالولید، عبدالاعلی، معمر، ابن طاؤس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کے قول لَا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، کے کیا معنی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس کا دلال نہ بنے۔
Narrated Tawus: I asked Ibn 'Abbas, "What is the meaning of, 'No town dweller should sell (or buy) for a desert dweller'?" Ibn 'Abbas said, "It means he should not become his broker."