Narrated by Abdullah Ibn Umar
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَائِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ أَحْسَبُهُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ فَغَلَبَ عَلَی النَّخْلِ وَالْأَرْضِ وَأَلْجَأَهُمْ إِلَی قَصْرِهِمْ فَصَالَحُوهُ عَلَی أَنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفْرَائَ وَالْبَيْضَائَ وَالْحَلْقَةَ وَلَهُمْ مَا حَمَلَتْ رِکَابُهُمْ عَلَی أَنْ لَا يَکْتُمُوا وَلَا يُغَيِّبُوا شَيْئًا فَإِنْ فَعَلُوا فَلَا ذِمَّةَ لَهُمْ وَلَا عَهْدَ فَغَيَّبُوا مَسْکًا لِحُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ وَقَدْ کَانَ قُتِلَ قَبْلَ خَيْبَرَ کَانَ احْتَمَلَهُ مَعَهُ يَوْمَ بَنِي النَّضِيرِ حِينَ أُجْلِيَتْ النَّضِيرُ فِيهِ حُلِيُّهُمْ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَعْيَةَ أَيْنَ مَسْکُ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ قَالَ أَذْهَبَتْهُ الْحُرُوبُ وَالنَّفَقَاتُ فَوَجَدُوا الْمَسْکَ فَقَتَلَ ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ وَسَبَی نِسَائَهُمْ وَذَرَارِيَّهُمْ وَأَرَادَ أَنْ يُجْلِيَهُمْ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ دَعْنَا نَعْمَلْ فِي هَذِهِ الْأَرْضِ وَلَنَا الشَّطْرُ مَا بَدَا لَکَ وَلَکُمْ الشَّطْرُ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي کُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ
ہارون بن زید بن ابی زرقاء، حماد بن سلمہ، عبیداللہ بن عمر، نافع، حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر والوں سے جنگ کی تو آپ ان کی زمین اور ان کے باغوں پر غالب آ گئے اور ان کو ان کے قلعہ میں محصور کر دیا پھر انھوں نے آپ سے اس شرط پر صلح کرلی کہ سونا اور چاندی اور تمام اسلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حق ہیں اس کے علاوہ جس قدر سامان وہ اپنے اونٹوں پر لاد سکیں لے جائیں مگر اس شرط پر کہ (سونے یا چاندی کی) کوئی چیز نہ چھپائیں گے اگر ایسا کریں گے تو مسلمانوں پر جو ان کا ذمہ ہے وہ اٹھ جائے گا۔ اور کوئی عہد باقی نہ رہے گا۔ پس انھوں نے چمڑے کی ایک تھیلی غائب کردی جو حُیی بن اخطب کے پاس تھی اور وہ خیبر سے پہلے قتل ہوچکا تھا اور اس نے اس تھیلی کو اس وقت اٹھا لیا تھا جب بنی نضیر نکالے جا رہے تھے اور اس میں ان کے سونے چاندی کے زیورات تھے۔ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سعیہ (ایک یہودی) سے دریافت فرمایا حیی بن اخطب کی تھیلی کہاں ہے؟ اس نے کہا وہ جنگوں میں تباہ ہوگئی اور دیگر ضروریات میں خرچ ہو گئی۔ اس کے بعد صحابہ کو وہ تھیلی ملی۔ تب آپ نے ابن ابی حقیق کو قتل کیا انہی یہودیوں میں سے اور ان کی عورتوں کو قیدی بنایا اور ان کی اولاد کو غلام اور ان کو جلاوطن کرنے کا ارادہ کیا وہ بولے اے محمد! ہم کو یہیں رہنے دو ہم زمین میں محنت کریں گے اور جو پیداوار ہوگی اس میں سے آدھا تم لے لوگے اور آدھا ہم لے لیں گے بس آپ خیبر کی آمدنی میں سے اپنی ازواج میں سے ہر ایک کو اسی اوسق کھجور اور بیس اوسق جَو (سال بھر کے خرچ کے طور پر دیتے۔
Narrated Abdullah Ibn Umar: The Prophet fought with the people of Khaybar, and captured their palm-trees and land, and forced them to remain confined to their fortresses. So they concluded a treaty of peace providing that gold, silver and weapons would go to the Apostle of Allah (peace_be_upon_him), and whatever they took away on their camels would belong to them, on condition that they would not hide and carry away anything. If they did (so), there would be no protection for them and no treaty (with Muslims). They carried away a purse of Huyayy ibn Akhtab who was killed before (the battle of) Khaybar. He took away the ornaments of Banu an-Nadir when they were expelled. The Prophet (peace_be_upon_him) asked Sa'yah: Where is the purse of Huyayy ibn Akhtab? He replied: The contents of this purse were spent on battles and other expenses. (Later on) they found the purse. So he killed Ibn AbulHuqayq, captured their women and children, and intended to deport them. They said: Muhammad, leave us to work on this land; we shall have half (of the produce) as you wish, and you will have half. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) used to make a contribution of eighty wasqs of dates and twenty wasqs of wheat to each of his wives.
Narrated by Abdullah ibn Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَی أَنَّا نُخْرِجُهُمْ إِذَا شِئْنَا فَمَنْ کَانَ لَهُ مَالٌ فَلْيَلْحَقْ بِهِ فَإِنِّي مُخْرِجٌ يَهُودَ فَأَخْرَجَهُمْ
احمد بن حنبل، یعقوب بن ابراہیم، ابن اسحاق ، نافع، حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضرت عمرنے فرمایا اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے اس شرط پر معاملہ کیا تھا کہ ہم جب چاہیں گے تمھیں نکال دیں گے۔ پس جس کسی کا مال یہودیوں کے پاس ہو وہ ان سے لے لے کیونکہ میں یہودیوں کو نکالنے والا ہوں پھر آپ نے اس کے بعد ان کو نکال دیا۔
Narrated Abdullah ibn Umar: Umar said: The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) had transaction with the Jews of Khaybar on condition that we should expel them when we wish. If anyone has property (with them), he should take it back, for I am going to expel the Jews. So he expelled them.
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ عَلَی أَنْ يَعْمَلُوا عَلَی النِّصْفِ مِمَّا خَرَجَ مِنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُقِرُّکُمْ فِيهَا عَلَی ذَلِکَ مَا شِئْنَا فَکَانُوا عَلَی ذَلِکَ وَکَانَ التَّمْرُ يُقْسَمُ عَلَی السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ وَيَأْخُذُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمُسَ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَ کُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ أَزْوَاجِهِ مِنْ الْخُمُسِ مِائَةَ وَسْقٍ تَمْرًا وَعِشْرِينَ وَسْقًا شَعِيرًا فَلَمَّا أَرَادَ عُمَرُ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ أَرْسَلَ إِلَی أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُنَّ مَنْ أَحَبَّ مِنْکُنَّ أَنْ أَقْسِمَ لَهَا نَخْلًا بِخَرْصِهَا مِائَةَ وَسْقٍ فَيَکُونَ لَهَا أَصْلُهَا وَأَرْضُهَا وَمَاؤُهَا وَمِنْ الزَّرْعِ مَزْرَعَةَ خَرْصٍ عِشْرِينَ وَسْقًا فَعَلْنَا وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ نَعْزِلَ الَّذِي لَهَا فِي الْخُمُسِ کَمَا هُوَ فَعَلْنَا
سلیمان بن داؤد، ابن وہب، اسامہ بن زید، لیثی، نافع، حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ہمیں خیبر میں اس شرط پر رہنے دیجئے کہ ہم یہیں زمین میں پیداوار پر محنت کریں گے اور جو پیداوار ہوگی اس کا آدھا ہم رکھ لیں گے اور آدھا آپ کو دیں گے۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے میں تم کو تمھاری اس شرط پر رہنے دوں گا مگر اس وقت تک جب تک ہم چاہیں گے (اور جب چاہیں گے نکال دیں گے) پھر وہ اسی شرط پر وہاں رہے اور ان سے حاصل ہونے والی کھجور کے کئی حصے ہوئے۔ پانچواں حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیتے اور آپ اسی پانچویں حصہ میں سے اپنی ہر بیوی کو سو وسق کھجور اور بیس وسق جَو دیتے۔ جب حضرت عمرنے خیبر سے یہودیوں کو نکالنا چاہا تو آپ کی ازواج کو کہلا بھیجا کہ آپ میں سے جس کا جی چاہے میں اس کو اتنے درخت جڑ زمین اور پانی سمیت دے دوں کہ جس سے سو وسق کھجور حاصل ہو سکے اور اسی طرح کھیتی میں سے اتنی زمین جس میں سے بیس وسق جَو حاصل ہو سکے اور جو چاہے اس کا حصہ میں خمس میں سے نکال دیا کروں۔
-
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ح و حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ أَنَّ إِسْمَعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً فَجُمِعَ السَّبْيُ
داؤد بن معاذ، عبدالوارث، یعقوب بن ابراہیم، زیاد بن ایوب، اسماعیل بن ابرہیم، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر پر جہاد کیا تو ہم نے اس کو لڑ کر حاصل کیا لہذا (مسلمانوں میں تقسیم کے لیے) قیدیوں کو جمع کیا گیا۔
-
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا حَدَّثَنِي سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ نِصْفَيْنِ نِصْفًا لِنَوَائِبِهِ وَحَاجَتِهِ وَنِصْفًا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَسَمَهَا بَيْنَهُمْ عَلَی ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا
ربیع بن سلیمان، اسد بن موسی، یحیی بن زکریا، سفیان، یحیی بن سعید، بشیر بن یسار، حضرت سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کو دو حصوں پر تقسیم کیا۔ ایک حصہ اپنی ضرورتوں اور دوسرے مقاصد کے لیے اور دوسرا حصہ مسلمانوں کے واسطے تقسیم کیا اور اس دوسرے حصہ کو اٹھارہ حصوں پر تقسیم کیا۔
-
Narrated by A Group of Companions of the Prophet
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْکِنْدِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ لَمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَی نَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَسَمَهَا عَلَی سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ سَهْمًا جَمَعَ کُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ فَعَزَلَ نِصْفَهَا لِنَوَائِبِهِ وَمَا يَنْزِلُ بِهِ الْوَطِيحَةَ وَالْکُتَيْبَةَ وَمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا وَعَزَلَ النِّصْفَ الْآخَرَ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ الشِّقَّ وَالنَّطَاةَ وَمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا وَکَانَ سَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُحِيزَ مَعَهُمَا
عبداللہ بن سعید کندی، ابوخالد، یحیی بن سعید، حضرت بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب خیبر اپنے نبی کو بطور غنیمت عطا فرمایا تو آپ نے اس کے چھتیس (36) حصے کیے اور ہر حصہ میں سو حصے تھے۔ پھر ان میں سے آدھے اپنی ضروریات اور دوسرے مقاصد کے لیے رکھے۔ اسی میں (دوگاؤں) وطیحہ اور کتیبہ اور ان سے متعلق جائیداد بھی تھی اور بقیہ آدھے حصہ کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا ان میں (دوگاؤں) شق اور نطاء اور ان سے متعلق جائداد تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ ان کے متعلقات میں تھا۔
Narrated A Group of Companions of the Prophet: Bashir ibn Yasar, the client of the Ansar, reported on the authority of a group of the Companions of the Prophet (peace_be_upon_him): When the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) conquered Khaybar, he divided it into thirty-six lots, each lot comprising one hundred portions. One half of it was for the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) and for the Muslims; and he separated the remaining half for the deputations which came to him, other matters and emergent needs of the people.
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ أَنَّ يَحْيَی بْنَ آدَمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي شِهَابٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا فَذَکَرَ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ فَکَانَ النِّصْفُ سِهَامَ الْمُسْلِمِينَ وَسَهْمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَزَلَ النِّصْفَ لِلْمُسْلِمِينَ لِمَا يَنُوبُهُ مِنْ الْأُمُورِ وَالنَّوَائِبِ
حسین بن علی بن اسود، یحیی بن آدم، ابی شہاب، یحیی بن سعید، حضرت بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند صحابہ سے سنا کہ خیبر کی نصف آمدنی میں سب مسلمانوں کے حصے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی حصہ تھا اور جو نصف باقی رہتا وہ مسلمانوں کے ان کاموں کے لیے رکھا جاتا جو ان کو پیش آتے۔
-
Narrated by Bashir ibn Yasar
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَی الْأَنْصَارِ عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَی خَيْبَرَ قَسَمَهَا عَلَی سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ سَهْمًا جَمَعَ کُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ فَکَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِلْمُسْلِمِينَ النِّصْفُ مِنْ ذَلِکَ وَعَزَلَ النِّصْفَ الْبَاقِيَ لِمَنْ نَزَلَ بِهِ مِنْ الْوُفُودِ وَالْأُمُورِ وَنَوَائِبِ النَّاسِ
حسین بن علی، محمد بن فضیل، یحیی بن سعید، حضرت بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند صحابہ سے سنا کہ جب آپ نے خیبر فتح کر لیا تو اس کے چھتیس حصے کیے اور ہر حصہ میں سو حصے تھے۔ ان کے آدھے میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور باقی مسلمانوں کا حصہ تھا اور جو آدھا باقی رہتا اس میں دوسری ضروریات مثلا رفاہی کاموں کے لیے اور باہر سے آنے والے وفود کے لیے تھا۔
Narrated Bashir ibn Yasar: When Allah bestowed Khaybar on the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) as fay' (spoils of war without fighting), he divided the whole into thirty six lots. He put aside a half, i.e. eighteen lots, for the Muslims. Each lot comprised one hundred shares, and the Prophet (peace_be_upon_him) was with them. He received a share like the share of one of them. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) separated eighteen lots, that is, half, for his future needs and whatever befell the Muslims. These were al-Watih, al-Kutaybah, as-Salalim and their colleagues. When all this property came in the possession of the Prophet (peace_be_upon_him) and of the Muslims, they did not have sufficient labourers to work on it. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) called Jews and employed them on contract.
Narrated by Bashir ibn Yasar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْکِينٍ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ قَسَمَهَا سِتَّةً وَثَلَاثِينَ سَهْمًا جَمْعُ فَعَزَلَ لِلْمُسْلِمِينَ الشَّطْرَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا يَجْمَعُ کُلُّ سَهْمٍ مِائَةً النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ لَهُ سَهْمٌ کَسَهْمِ أَحَدِهِمْ وَعَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا وَهُوَ الشَّطْرُ لِنَوَائِبِهِ وَمَا يَنْزِلُ بِهِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَکَانَ ذَلِکَ الْوَطِيحَ وَالْکُتَيْبَةَ وَالسَّلَالِمَ وَتَوَابِعَهَا فَلَمَّا صَارَتْ الْأَمْوَالُ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِينَ لَمْ يَکُنْ لَهُمْ عُمَّالٌ يَکْفُونَهُمْ عَمَلَهَا فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَهُودَ فَعَامَلَهُمْ
محمد بن مسکین، ، یحیی ابن حسان، سلیمان، ابن بلال، یحیی بن سعید، حضرت بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیبر عطاء فرمایا تو آپ نے اس کے چھتیس بڑے حصے کیے (اور ہر حصہ سو مزید حصوں پر مشتمل تھا) پھر اس میں سے آدھا نکالا جو مسلمانوں کے لیے تھا یعنی اٹھارہ حصے نکالے اور ہر حصہ میں سو حصے تھے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ بھی اسی میں شامل تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ بھی اسی قدر تھا جتنا کسی اور کا ۔ (یعنی برابر تھا) اور آپ نے اس میں سے اٹھارہ حصے الگ نکالے یعنی کل کا نصف جو اتفاقی ضروریات کے لیے تھا اور جو حصہ مسلمانوں کی اجتماعی اور اتفاقی ضروریات کے لیے تھا اس میں تین گاؤں وطیحہ کتیبہ اور سلالم اور ان کے متعلقات بھی شامل تھے جب یہ اموال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قبضہ میں آ گئے اور مسلمانوں کو ایسے افراد نہ مل سکے۔ جو ان کی طرف سے محنت کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کو قائم رکھا اور ان سے بٹائی کا معاملہ کر لیا۔ (یعنی آدھا وہ لیں اور آدھا مسلمانوں کو دیں۔
Narrated Bashir ibn Yasar: When Allah bestowed Khaybar on the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) as fay' (spoils of war without fighting), he divided the whole into thirty six lots. He put aside a half, i.e. eighteen lots, for the Muslims. Each lot comprised one hundred shares, and the Prophet (peace_be_upon_him) was with them. He received a share like the share of one of them. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) separated eighteen lots, that is, half, for his future needs and whatever befell the Muslims. These were al-Watih, al-Kutaybah, as-Salalim and their colleagues. When all this property came in the possession of the Prophet (peace_be_upon_him) and of the Muslims, they did not have sufficient labourers to work on it. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) called Jews and employed them on contract.
Narrated by Mujammi' ibn Jariyah al-Ansari,
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَعْقُوبَ بْنَ مُجَمِّعٍ يَذْکُرُ لِي عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَمِّهِ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَکَانَ أَحَدَ الْقُرَّائِ الَّذِينَ قَرَئُوا الْقُرْآنَ قَالَ قُسِمَتْ خَيْبَرُ عَلَی أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا وَکَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ فِيهِمْ ثَلَاثُ مِائَةِ فَارِسٍ فَأَعْطَی الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ وَأَعْطَی الرَّاجِلَ سَهْمًا
محمد بن عیسی، مجمع بن یعقوب بن مجمع بن یزید، ابویعقوب بن مجمع، عبدالرحمن بن یزید، حضرت مجمع بن جاریہ انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کو ان لوگوں پر تقسیم کیا جو صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا اور لشکر والوں کی کل تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی۔ جن میں تین سو سوار تھے (اور باقی بارہ سو پیدل) تو رسول اللہ نے سوار کو دو حصے دئیے اور پیدل کو ایک حصہ دیا۔
Narrated Mujammi' ibn Jariyah al-Ansari,: Khaybar was divided among the people of al-Hudaybiyyah. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) divided it into eighteen portions. The army contained one thousand and five hundred people. There were three hundred horsemen among them. He gave double share to the horsemen, and a single to the footmen.
Narrated by Abdullah ibn AbuBakr
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَجْلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ وَبَعْضِ وَلَدِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالُوا بَقِيَتْ بَقِيَّةٌ مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ تَحَصَّنُوا فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْقِنَ دِمَائَهُمْ وَيُسَيِّرَهُمْ فَفَعَلَ فَسَمِعَ بِذَلِکَ أَهْلُ فَدَکَ فَنَزَلُوا عَلَی مِثْلِ ذَلِکَ فَکَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً لِأَنَّهُ لَمْ يُوجَفْ عَلَيْهَا بِخَيْلٍ وَلَا رِکَابٍ
حسین بن علی، یحیی ابن آدم، ابن ابی زائدہ، محمد بن اسحاق ، زہری، عبداللہ بن ابی بکر، محمد بن مسلمہ کے کچھ لڑکوں سے روایت ہے کہ (جب خیبر کی جنگ ہوئی اور وہ فتح ہوگیا تو) خیبر کے کچھ قلعے باقی رہ گئے تھے۔ (فتح ہونے سے) پس وہاں کے رہنے والے اپنے اپنے قلعوں میں بند ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ وہ ان کی جان بخش دیں تو وہ یہاں سے نکل جائیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اس پیشکش کو قبول فرمایا۔ فدک (ایک قلعہ کا نام ہے) والوں نے جب یہ سنا تو وہ بھی اس شرط پر نکل کھڑے ہوئے۔ پس یہ فدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خاص ہو گیا کیونکہ اس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے گئے تھے۔ (یعنی فدک بغیر جنگ کے حاصل ہوا تھا اس لیے اس کو مسلمانوں میں تقسیم نہ کیا بلکہ وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلیے خاص رہا۔
Narrated Abdullah ibn AbuBakr: Abdullah ibn AbuBakr and some children of Muhammad ibn Maslamah said: There remained some people of Khaybar and they confined themselves to the fortresses. They asked the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) to protect their lives and let them go. He did so. The people of Fadak heard this; they also adopted a similar way. (Fadak) was, therefore, exclusively reserved for the Apostle of Allah (peace_be_upon_him), for it was not captured by the expedition of cavalry and camelry.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ جُوَيْرِيَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ بَعْضَ خَيْبَرَ عَنْوَةً قَالَ أَبُو دَاوُد وَقُرِئَ عَلَی الْحَارِثِ بْنِ مِسْکِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ أَخْبَرَکُمْ ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ خَيْبَرَ کَانَ بَعْضُهَا عَنْوَةً وَبَعْضُهَا صُلْحًا وَالْکَتِيبَةُ أَکْثَرُهَا عَنْوَةً وَفِيهَا صُلْحٌ قُلْتُ لِمَالِکٍ وَمَا الْکَتِيبَةُ قَالَ أَرْضُ خَيْبَرَ وَهِيَ أَرْبَعُونَ أَلْفَ عَذْقٍ
محمد بن یحیی بن فارس، عبداللہ بن محمد، جویریہ، مالک، حضرت زہری سے روایت ہے کہ سعید بن مسیب نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کا بعض حصہ جنگ سے فتح کیا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ حارث بن مسکین کے سامنے یہ روایت پڑھی گئی اور میں موجود تھا کہ ابن وہب نے بسند مالک ابن شہاب سے روایت کیا ہے کہ خیبر کا کچھ حصہ تو جنگ کے ذریعہ حاصل کیا گیا اور کچھ صلح کے ذریعہ اور کتیبہ کا اکثر حصہ جنگ سے حاصل ہوا اور بعض حصہ کے لیے صلح ہو گئی۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے مالک سے پوچھا کہ کتیبہ کس کو کہتے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ وہ خیبر کا ایک علاقہ ہے جس میں چالیس ہزار کھجور کے درخت ہیں۔
-
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ عَنْوَةً بَعْدَ الْقِتَالِ وَنَزَلَ مَنْ نَزَلَ مِنْ أَهْلِهَا عَلَی الْجَلَائِ بَعْدَ الْقِتَالِ
ابن سرح، ابن وہب، یونس، ابن شہاب سے روایت ہے کہ مجھ کو یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کو قتال کے بعد بزور فتح کیا تھا اور وہاں لوگوں نے وطن سے نکل جانے کی شرط پر ہتھیار ڈالے تھے۔
-
Narrated by Ibn Shihab
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ خَمَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ ثُمَّ قَسَمَ سَائِرَهَا عَلَی مَنْ شَهِدَهَا وَمَنْ غَابَ عَنْهَا مِنْ أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ
ابن سرح، ابن وہب، یونس، ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے مال میں سے پانچواں حصہ نکالا اور جو باقی بچا اس کو ان لوگوں پر تقسیم کر دیا جو جنگ میں شریک تھے یا جو اس وقت تو موجود نہ تھے مگر ایک سال پہلے صلح حدیبیہ کے موقعہ پر موجود تھے۔
Narrated Ibn Shihab: The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) took out his fifth from the booty of Khaybar, and divided the rest of it among those who attended the battle and among those who were away from it but attend the expedition of al-Hudaybiyyah.
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِکٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ قَالَ لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فُتِحَتْ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا کَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ
احمد بن حنبل، عبدالرحمن، مالک، زید بن اسلم، حضرت عمر سے روایت ہے کہ اگر مجھے ان مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا جو ہمارے بعد پیدا ہوں گے تو جو بھی گاؤں (یعنی علاقہ) میں فتح کرتا اس کو اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا تھا۔
-