TrueHadith

Sunan An-Nasa'i, Hadith 3305 · Hadiths Related to Marriage

Sunan An-Nasa'iHadith 3305

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ أَتَاهُ قَوْمٌ فَقَالُوا إِنَّ رَجُلًا مِنَّا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا وَلَمْ يَجْمَعْهَا إِلَيْهِ حَتَّی مَاتَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا سُئِلْتُ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ هَذِهِ فَأْتُوا غَيْرِي فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ فِيهَا شَهْرًا ثُمَّ قَالُوا لَهُ فِي آخِرِ ذَلِکَ مَنْ نَسْأَلُ إِنْ لَمْ نَسْأَلْکَ وَأَنْتَ مِنْ جِلَّةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْبَلَدِ وَلَا نَجِدُ غَيْرَکَ قَالَ سَأَقُولُ فِيهَا بِجَهْدِ رَأْيِي فَإِنْ کَانَ صَوَابًا فَمِنْ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ وَإِنْ کَانَ خَطَأً فَمِنِّي وَمِنْ الشَّيْطَانِ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْهُ بُرَآئُ أُرَی أَنْ أَجْعَلَ لَهَا صَدَاقَ نِسَائِهَا لَا وَکْسَ وَلَا شَطَطَ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا قَالَ وَذَلِکَ بِسَمْعِ أُنَاسٍ مَنْ أَشْجَعَ فَقَامُوا فَقَالُوا نَشْهَدُ أَنَّکَ قَضَيْتَ بِمَا قَضَی بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا بَرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ قَالَ فَمَا رُئِيَ عَبْدُ اللَّهِ فَرِحَ فَرْحَةً يَوْمَئِذٍ إِلَّا بِإِسْلَامِهِ

علی بن حجر، علی بن مسہر، داؤد بن ابی ہند، شعبی، حضرت علقمہ بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں کسی قوم کے کچھ لوگ آئے اور عرض کرنے لگے کہ کسی شخص نے کسی خاتون سے نکاح کیا تھا اور نہ تو اس کا مہر مقرر کیا تھا اور نہ اس سے ہم بستری کی تھی اور اس شخص کا اس طریقہ سے انتقال ہو گیا۔ یہ بات سن کر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے۔ اس طرح کی مشکل بات اور مشکل سوال حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد کسی نے مجھ سے نہیں دریافت کیا تھا اس وجہ سے تم کسی دوسرے شخص کے پاس چلے جاؤ غرض ان لوگوں نے ایک ماہ تک پیچھا کیا اور آخرکار عرض کرنے لگے ہم لوگ اب کس کے پاس جائیں اور مسئلہ کا حکم کس سے دریافت کریں اور (ہماری نظر میں تو) صحابہ کرام میں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا صاحب علم اور بزرگ اس شہر میں کوئی نہیں ہے۔ یہ بات سن کر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا اب میں اپنی رائے کے زور سے حکم کرتا ہوں اگر حکم درست ہوا تو خداوند قدوس کی جانب سے ہے جو کہ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ ہے اور اگر غلط ہو تو یہ میری غلطی ہے اور شیطان کا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں غلطی سے بالکل بری ہیں۔ میری رائے میں ایسی خاتون کو مہر دینا چاہیے کہ جس قدر اس کے خاندان کی خواتین کا مہر ہے نہ تو اس سے کم اور نہ ہی اس سے زیادہ اور اس خاتون کے واسطے وراثت بھی ہے اور اس کو عدت گزارنا چاہیے چار ماہ اور دس دن اور کہا کہ یہ مسئلہ چند لوگوں نے حضرت اشجع سے مناسب لوگ پھر اٹھ گئے اور کہنے لگے کہ ہم لوگ گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اس قسم کا فیصلہ فرما دیا ہے جیسا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری برادری کی ایک عورت کا فیصلہ فرمایا تھا۔ راوی حدیث بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس قدر کبھی خوش و خرم نہیں دیکھا (کہ جس قدر اس دن ان کو خوش و خرم دیکھا) مگر اسلام قبول کرنے کے وقت میں۔ اس لیے کہ ان کی رائے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رائے کے مطابق ہو گئی۔

It was narrated from Sahl bin Saad that a woman came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم and said: “Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, I give myself in marriage to you.” She stood for a long time, then a man stood up and said: “Marry her to me if you do not want to marry her.” The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “Do you have anything?” He said: “I cannot find anything.” He said: “Look (for something), even if it is only an iron ring.” So he looked but he could not find anything. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said to him: “Have you (memorized) anything of the Qur’an?” He said: “Yes, Sarah such and such and Si rah such and such,” naming theni. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “I marry her to you for what you know of the Qur’an.” (Sahih)

Permalink

See the full chapter: مہر کے بغیر نکاح کا جائز ہونا