TrueHadith

Sunan An-Nasa'i, Hadith 3297 · Hadiths Related to Marriage

Sunan An-Nasa'iHadith 3297

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ مُقَاتِلِ بْنِ مُشَمْرِخِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ وَابْنِ عَوْنٍ وَسَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ دَخَلَ حَدِيثُ بَعْضِهِمْ فِي بَعْضٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سَلَمَةُ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي الْعَجْفَائِ وَقَالَ الْآخَرُونَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي الْعَجْفَائِ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَلَا لَا تَغْلُوا صُدُقَ النِّسَائِ فَإِنَّهُ لَوْ کَانَ مَکْرُمَةً وَفِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَی عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ کَانَ أَوْلَاکُمْ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَصْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَلَا أُصْدِقَتْ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَکْثَرَ مِنْ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُغْلِي بِصَدُقَةِ امْرَأَتِهِ حَتَّی يَکُونَ لَهَا عَدَاوَةٌ فِي نَفْسِهِ وَحَتَّی يَقُولَ کُلِّفْتُ لَکُمْ عِلْقَ الْقِرْبَةِ وَکُنْتُ غُلَامًا عَرَبِيًّا مُوَلَّدًا فَلَمْ أَدْرِ مَا عِلْقُ الْقِرْبَةِ قَالَ وَأُخْرَی يَقُولُونَهَا لِمَنْ قُتِلَ فِي مَغَازِيکُمْ أَوْ مَاتَ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا أَوْ مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا وَلَعَلَّهُ أَنْ يَکُونَ قَدْ أَوْقَرَ عَجُزَ دَابَّتِهِ أَوْ دَفَّ رَاحِلَتِهِ ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا يَطْلُبُ التِّجَارَةَ فَلَا تَقُولُوا ذَاکُمْ وَلَکِنْ قُولُوا کَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مَاتَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ

علی بن حجر بن ایاس بن مقاتل بن مشمرخ بن خنالد، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب و ابن عون و سلمہ بن علقمہ و ہشام بن حسان، محمد بن سیرین، سلمہ، ابن سیرین، حضرت ابوعجفا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا خبردار! تم لوگ خواتین کے مہر میں حد سے تجاوز نہ کیا کرو۔ کیونکہ اگر یہ کام دنیا میں کچھ عزت کا ہوتا یا خداوند قدوس کے نزدیک پرہیزگاری کا کام ہوتا تو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سب سے پہلے اس کے حقدار ہوتے اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ازواج مطہرات میں سے کسی کا اور کسی لڑکی کا مہر اس سے زیادہ یعنی جس کی مقدار بارہ اوقیہ ہوتی ہے مقرر نہیں فرمایا اور انسان اپنی اہلیہ کے سلسلہ میں حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ اس کو اپنی بیوی سے دشمنی ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ شخص کہتا ہے کہ میں نے تمہارے واسطے مشک کی رسی کے واسطے بھی مصیبت برداشت کی (یعنی تمہارے واسطے میں نے سخت تکلیف برداشت کی) اور ایک دوسری روایت میں علق القربۃ کا لفظ ہے یعنی مجھ کو پسینہ آگیا۔ حضرت ابوعجفا رضی اللہ نے فرمایا کہ میں ایک لڑکا تھا مولد (یعنی خاص عرب نہ تھا) تو میں نہیں سمجھ سکا کہ کیا ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگ ایک دوسری بات کہتے ہیں کہ تم لوگوں کا اگر کوئی شخص جنگ میں قتل کر دیا جائے تو کیا کہا جاتا ہے کہ وہ شخص شہید ہے اور وہ شخص شہید مارا گیا یا وہ شخص شہید ہے۔ ممکن ہے کہ اس شخص نے اپنے اونٹ کی سرین پر وزن لادا ہو یا اونٹ کے کجاوے پر سونے چاندی کی تجارت کی ہو (یعنی اس شخص کی نیت خالص جہاد کی نہ رہی ہو بلکہ دنیا حاصل کرنا مقصود ہو) تو تم اس طریقہ سے نہ کہو بلکہ اس طریقہ سے کہو کہ جس طریقہ سے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے جو شخص راہ خدا میں مارا جائے یا قتل ہوجائے تو وہ شخص جنت میں داخل ہوگا اور تم لوگ کسی خاص آدمی سے کوئی بات نہ کہو خداوند قدوس کو معلوم ہے کہ اس شخص کی کیا نیت تھی۔

It was narrated from Umm Habibah that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم married her when she was in Ethiopia. An-Najashi performed the marriage for her and gave her a dowry of four thousand, and he fitted her out from his own wealth, and sent her with Shurahbil bin Uasanah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم did not send her anything, and the dowry of his wives was four hundred Dirhams. (Da’if)

Permalink

See the full chapter: مہروں میں انصاف کرنا