TrueHadith

Sunan An-Nasa'i, Hadith 3289 · Hadiths Related to Marriage

Sunan An-Nasa'iHadith 3289

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ خَطَبَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا مِثْلُکَ يَا أَبَا طَلْحَةَ يُرَدُّ وَلَکِنَّکَ رَجُلٌ کَافِرٌ وَأَنَا امْرَأَةٌ مُسْلِمَةٌ وَلَا يَحِلُّ لِي أَنْ أَتَزَوَّجَکَ فَإِنْ تُسْلِمْ فَذَاکَ مَهْرِي وَمَا أَسْأَلُکَ غَيْرَهُ فَأَسْلَمَ فَکَانَ ذَلِکَ مَهْرَهَا قَالَ ثَابِتٌ فَمَا سَمِعْتُ بِامْرَأَةٍ قَطُّ کَانَتْ أَکْرَمَ مَهْرًا مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ الْإِسْلَامَ فَدَخَلَ بِهَا فَوَلَدَتْ لَهُ

محمد بن نضر بن مساور، جعفر بن سلیمان، ثابت، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام بھیجا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا خدا کی قسم ابوطلحہ رضی اللہ تم رد کرنے کے لائق نہیں ہو (یعنی تمہاری گزارش منظور ہو گی) مگر اس وجہ سے کہ تم کافر ہو اور میں مسلمان ہوں میرے واسطے حلال اور جائز نہیں ہے کہ میں تم سے نکاح کروں البتہ اگر تم اسلام قبول کر لو۔ پس تمہارا اسلام قبول کرنا تمہارا مہر ہوگا۔ یعنی میں مہر کسی دوسری چیز کا مقرر نہیں کرتی صرف تمہارا اسلام قبول کرنا ہی مہر ہے اور میں تم سے کچھ اور نہیں مانگتی۔ پھر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا اور مہر وہی رہا اور حضرت ثابت رضی اللہ عنہ جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بعد حدیث کے راوی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایسی عورت نہیں سنی کہ جس کا مہر حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے زیادہ باعزت ہو اس لیے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کا مہر اسلام تھا اور اسلام سے زیادہ باعزت کونسی شئی ہوسکتی ہے؟ اور حضرت ابوطلحہ نے ان سے صحبت کی اور حضرت ام سلیم سے بچے بھی پیدا ہوئے۔

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم manumitted Safiyyah and made that her dowry. (Sahih).

Permalink

See the full chapter: اسلام قبول کر نے کی شرط رکھ کر نکاح کرنا