Sunan An-Nasa'i — Hadith 1823
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيکٍ أَنَّ عَتِيکَ بْنَ الْحَارِثِ وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيکٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ عَلَيْهِ فَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُجِبْهُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ قَدْ غُلِبْنَا عَلَيْکَ أَبَا الرَّبِيعِ فَصِحْنَ النِّسَائُ وَبَکَيْنَ فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيکٍ يُسَکِّتُهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْکِيَنَّ بَاکِيَةٌ قَالُوا وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْمَوْتُ قَالَتْ ابْنَتُهُ إِنْ کُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَکُونَ شَهِيدًا قَدْ کُنْتَ قَضَيْتَ جِهَازَکَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَيْهِ عَلَی قَدْرِ نِيَّتِهِ وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ قَالُوا الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَی الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ الْهَدَمِ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ الْحَرَقِ شَهِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدَةٌ
عتبہ بن عبداللہ بن عتبہ، مالک، عبداللہ بن عبداللہ بن جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن ثابت کی مزاج پرسی کو تشریف لائے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے اوپر مرض کا غلبہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آواز سے پکارا انہوں نے جواب نہیں دیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اِنَّا ِللہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُون اور ارشاد فرمایا تمہارے اوپر ہم مغلوب ہوگئے اے ابوالربیع (ابوالربیع حضرت عبداللہ بن ثابت کی کنیت ہے) مطلب یہ ہے کہ تقدیر کا لکھا ہوا ہمارے ارادہ پر غالب ہوگیا ہم تو تمہاری زندگی کی خواہش رکھتے ہیں لیکن تقدیر ہمارے ارادہ پر غالب آگئی اور تمہاری تقدیر میں موت ہے۔ یہ بات سن کر خواتین نے چیخ ماری اور وہ رونے لگ گئیں۔ یہ دیکھ کر حضرت ابن عتیک ان کو خاموش کرنے لگ گئے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم ان کو چھوڑ دو جس وقت لازم ہو جائے تو اس وقت کوئی بھی نہ رویا کرے۔ لوگوں نے عرض کیا لازم ہونے سے کیا مراد ہے؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ موت کا آنا یہ سن کر ان کی صاحبزادی نے فرمایا کہ مجھ کو توقع تھی کہ تم کو شہادت کا مقام حاصل ہوگا اس لیے کہ تم سامان جہاد کی تیاری کر چکے تھے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خداوند قدوس نے ان کو نیت کے مطابق ثواب عطاء فرمایا تم کس چیز کو شہادت سمجھ رہے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا کہ خداوند قدوس کے راستہ میں قتل کیے جانے کو۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ شہادت سات قسم کی ہوتی ہے راہ خدا میں قتل کیے جانے کے علاوہ (اور شہادت کی تفصیل یہ ہے) جو شخص طاعون میں انتقال کر جائے تو وہ شخص شہید ہے اور جو شخص پیٹ کے مرض میں مر جائے تو وہ شہید ہے اور جو شخص پانی میں غرق ہو کر مر جائے تو وہ شہید ہے اور جو شخص کسی عمارت وغیرہ میں دب کر مر جائے تو وہ شہید ہے اور جو کوئی مرض ذات الجنب میں مرے وہ شہید ہے جو شخص آگ سے جل کر مر جائے تو وہ شہید ہے اور جو خاتون بچہ کی ولادت میں مر جائے وہ شہید ہے یا بچہ کی ولادت کے بعد مر جائے تو وہ شہید ہے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar, from ‘Umar, that the Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: “The deceased is punished due to the weeping of his family for him.” (Sahih)