Sunan Abu Dawood — Hadith 3784
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلَاةَ الْعِشَائِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ أَرَأَيْتُکُمْ لَيْلَتَکُمْ هَذِهِ فَإِنَّ عَلَی رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَی مِمَّنْ هُوَ عَلَی ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَهِلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْکَ فِيمَا يَتَحَدَّثُونَ عَنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبْقَی مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَی ظَهْرِ الْأَرْضِ يُرِيدُ بِأَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِکَ الْقَرْنُ
احمد بن حنبل، عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم بن عبد اللہ، ابوبکر بن سلیمان، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آخری حیات میں ایک رات ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ کیا تم نے یہ رات دیکھی؟ اس لیے کہ جو لوگ آج کی رات روئے زمین پر موجود ہیں ان میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ پس لوگوں میں مغالطہ پیدا ہوگیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کے بارے میں وہ ان احادیث سے بیان کرتے ہیں کہ سو سال کے بارے میں سو سال کے بعد قیامت قائم ہو جائے گی (حالانکہ یہ غلط ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایا کہ جو آج کی رات روئے زمین پر موجود ہیں ان میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد تھا کہ یہ صدی گذر جائے گی اور اگلی صدی شروع ہوگی جس میں نئے پیدا ہونے والی نسل ہوگی (نہ یہ کہ قیامت قائم ہوجائے گی)۔
-