TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 2595 · Initial Discussion on Spoils of War and Leadership

Sunan Abu DawoodHadith 2595

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي الْجُرَيرِيَّ عَنْ أَبِي الْوَرْدِ عَنْ ابْنِ أَعْبُدَ قَالَ قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُحَدِّثُکَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَتْ مِنْ أَحَبِّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ قُلْتُ بَلَی قَالَ إِنَّهَا جَرَّتْ بِالرَّحَی حَتَّی أَثَّرَ فِي يَدِهَا وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّی أَثَّرَ فِي نَحْرِهَا وَکَنَسَتْ الْبَيْتَ حَتَّی اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدَمٌ فَقُلْتُ لَوْ أَتَيْتِ أَبَاکِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا فَأَتَتْهُ فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ حُدَّاثًا فَرَجَعَتْ فَأَتَاهَا مِنْ الْغَدِ فَقَالَ مَا کَانَ حَاجَتُکِ فَسَکَتَتْ فَقُلْتُ أَنَا أُحَدِّثُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَرَّتْ بِالرَّحَی حَتَّی أَثَّرَتْ فِي يَدِهَا وَحَمَلَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّی أَثَّرَتْ فِي نَحْرِهَا فَلَمَّا أَنْ جَائَکَ الْخَدَمُ أَمَرْتُهَا أَنْ تَأْتِيَکَ فَتَسْتَخْدِمَکَ خَادِمًا يَقِيهَا حَرَّ مَا هِيَ فِيهِ قَالَ اتَّقِي اللَّهَ يَا فَاطِمَةُ وَأَدِّي فَرِيضَةَ رَبِّکِ وَاعْمَلِي عَمَلَ أَهْلِکِ فَإِذَا أَخَذْتِ مَضْجَعَکِ فَسَبِّحِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَکَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَتِلْکَ مِائَةٌ فَهِيَ خَيْرٌ لَکِ مِنْ خَادِمٍ قَالَتْ رَضِيتُ عَنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَنْ رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

یحیی بن خلف، عبدالاعلی، سعید بن جریری، ابوودر، حضرت ابن اعبد سے روایت ہے کہ حضرت علی نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تم سے اپنی اور فاطمہ کی ایک حدیث بیان نہ کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی تھیں اور آپ کو اپنے اہل خانہ میں سے سب سے زیادہ محبوب تھیں میں نے کہا کیوں نہیں۔ حضرت علی نے فرمایا فاطمہ نے چکی پیسی یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں میں نشان پڑ گئے۔ مشک میں پانی بھرا یہاں تک کہ ان کے سینہ میں درد رہنے لگا اور گھر میں جھاڑو دی یہاں تک کہ ان کے کپڑے گرد آلود ہو گئے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے تو میں نے ان سے (فاطمہ سے) کہا کاش تم اپنے والد کے پاس جاتیں اور اپنے لیے خادم طلب کرتیں۔ پس وہ گئیں تو دیکھا کہ آپ کے پاس کچھ لوگ بات چیت کر رہے ہیں یہ دیکھ کر وہ لوٹ آئیں پھر اگلے دن گئیں تب آپ نے پوچھا کیا بات ہے؟ وہ خاموش ہو گئیں میں نے کہا یا رسول اللہ! میں عرض کرتا ہوں انھوں نے چکی پیسی یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں میں نشان پڑگئے اور مشک اٹھائی یہاں تک کہ ان کے سینہ میں درد ہونے لگا اب آپ کے پاس غلام اور باندیاں آئی ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کے پاس جا کر آپ سے ایک باندی طلب کرلیں جو ان کو گھر کے کاموں کی مشقت سے بچا لے۔ آپ نے فرمایا اے فاطمہ خدا سے تقوی اختیار کر اور اپنے رب کا حکم بجا لا اور اپنے گھر کا کام کاج کیا کر اور جب تو سونے لگے تو تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس بار الحمد للہ اور تینتیس بار اللہ اکبر پڑھ لیا کر پس یہ سو بار ہو جائے گا یہ تیرے واسطے خادم سے بہتر ہے۔ حضرت فاطمہ بولیں میں اللہ اور اس کے رسول سے راضی ہوں۔

-

Permalink

See the full chapter: آپ خمس کہاں کہاں تقسیم کرتے اور کن کن قرابت داروں کو تقسیم فرماتے