TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 2594 · Initial Discussion on Spoils of War and Leadership

Sunan Abu DawoodHadith 2594

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ الضَّمْرِيِّ أَنَّ أُمَّ الْحَکَمِ أَوْ ضُبَاعَةَ ابْنَتَيْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حَدَّثَتْهُ عَنْ إِحْدَاهُمَا أَنَّهَا قَالَتْ أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيًا فَذَهَبْتُ أَنَا وَأُخْتِي وَفَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَکَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَحْنُ فِيهِ وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَأْمُرَ لَنَا بِشَيْئٍ مِنْ السَّبْيِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَقَکُنَّ يَتَامَی بَدْرٍ لَکِنْ سَأَدُلُّکُنَّ عَلَی مَا هُوَ خَيْرٌ لَکُنَّ مِنْ ذَلِکَ تُکَبِّرْنَ اللَّهَ عَلَی إِثْرِ کُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَکْبِيرَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ قَالَ عَيَّاشٌ وَهُمَا ابْنَتَا عَمِّ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

احمد بن صالح، عبداللہ بن وہب، عیاش بن عقبہ، حضرت فضل بن حسن ضمری سے روایت ہے کہ ام حکم یا ضباعہ جو زبیر بن عبدالمطلب کی بیٹیاں تھیں۔ ان سے کسی ایک نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چند قیدی آئے تو میں میری بہن اور رسول خدا کی صاحبزادی فاطمہ آپ کے پاس پہنچیں۔ اور آپ سے اپنے حال کا شکوہ کیا اور چاہا کہ ہم کو کوئی قیدی دلوادیں (جوہمارے گھر کے کام کاج میں ہمارا ہاتھ بٹائے) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے وہ یتیم بچے اور بچیاں مستحق ہیں جن کے باپ بدر کے دن شہید ہوئے تھے البتہ میں تم کو اس سے بہتر بات بتائے دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تم ہر فرض نماز کے بعد تینتیس (33) مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس (33) مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس (34) مرتبہ اللہ اکبر اور ایک مرتبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ ۔ پڑھ لیا کرو۔

-

Permalink

See the full chapter: آپ خمس کہاں کہاں تقسیم کرتے اور کن کن قرابت داروں کو تقسیم فرماتے