TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1974 · Explanation of Fasting

Sunan Abu DawoodHadith 1974

Narrated by Abdullah ibn Abbas

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَلَی الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْکِينٍ قَالَ کَانَتْ رُخْصَةً لِلشَّيْخِ الْکَبِيرِ وَالْمَرْأَةِ الْکَبِيرَةِ وَهُمَا يُطِيقَانِ الصِّيَامَ أَنْ يُفْطِرَا وَيُطْعِمَا مَکَانَ کُلِّ يَوْمٍ مِسْکِينًا وَالْحُبْلَی وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا قَالَ أَبُو دَاوُد يَعْنِي عَلَی أَوْلَادِهِمَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا

ابن مثنی، ابن عدی، سعید، قتادہ، عزرہ، سعید بن جبیر، حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ وَعَلَی الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْکِينٍ الخ یہ رخصت تھی جو بوڑھے مرد اور عورت کے لیے جبکہ وہ باوجود قدرت کے روزہ نہ رکھنا چاہیں تو روزہ نہ رکھیں اور ہر روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں اسی طرح یہ رخصت حاملہ اور مرضعہ کے لیے تھی جبکہ وہ خوف محسوس کریں ابوداؤد نے کہا یعنی اپنے بچوں کے نقصان کا کہ وہ روزہ نہ رکھیں اور اس کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔

Narrated Abdullah ibn Abbas: Explaining the verse; "For those who can do it (with hard-ship) is a ransom, the feeding of one, that is indigent," he said: This was a concession granted to the aged man and woman who were able to keep fast; they were allowed to leave the fast and instead feed an indigent person for each fast; (and a concession) to pregnant and suckling woman when they apprehended harm (to themselves).

Permalink

See the full chapter: اس کا بیان کہ حکم قرآنی جو لوگ باوجود قوت کے روزہ نہ رکھیں وہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں اب بھی بوڑھے مرد اور عورت اور حاملہ عورتوں کے لیے باقی ہے