Sunan Abu Dawood — Hadith 1575
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ کَثِيرٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِيهِ وَکَانَ الْحَارِثُ خَلِيفَةُ عُثْمَانَ عَلَی الطَّائِفِ فَصَنَعَ لِعُثْمَانَ طَعَامًا فِيهِ مِنْ الْحَجَلِ وَالْيَعَاقِيبِ وَلَحْمِ الْوَحْشِ قَالَ فَبَعَثَ إِلَی عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَجَائَهُ الرَّسُولُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْبِطُ لِأَبَاعِرَ لَهُ فَجَائَهُ وَهُوَ يَنْفُضُ الْخَبَطَ عَنْ يَدِهِ فَقَالُوا لَهُ کُلْ فَقَالَ أَطْعِمُوهُ قَوْمًا حَلَالًا فَأَنَا حُرُمٌ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْشُدُ اللَّهَ مَنْ کَانَ هَا هُنَا مِنْ أَشْجَعَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَی إِلَيْهِ رَجُلٌ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَبَی أَنْ يَأْکُلَهُ قَالُوا نَعَمْ
محمد بن کثیر، سلیمان بن کثیر، حمید، اسحاق بن عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد حارث جو کہ طائف میں حضرت عثمان کے خلیفہ تھے انھوں نے حضرت عثمان کے لیے کھانا تیار کیا جس میں پرندوں اور گورخر کا گوشت تھا حضرت عثمان نے حضرت علی کو بھی بلا بھیجا۔ قاصد جب حضرت علی کے پاس پہنچا تو وہ اپنے اونٹوں کے لیے پتے جھاڑ رہے تھے۔ (پیغام سن کر) حضرت علی تشریف لائے اس حال میں کہ وہ چارے کو اپنے ہاتھوں سے جھاڑ رہے تھے۔ پس لوگوں نے کہا کھانا تناول فرمایئے حضرت علی نے فرمایا یہ کھانا ان لوگوں کو کھلاؤ جو احرام کی حالت میں نہ ہوں ہم تو احرام باندھے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا یہاں جو قبیلہ اشجع کے لوگ موجود ہیں میں ان سے قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا ان کو نہیں معلوم کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گورخر کا گوشت بھیجا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام باندھے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کھانے سے انکار فرما دیا تھا؟ لوگوں نے جواب دیا ہاں
-