TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1030 · Discussion on Salah

Sunan Abu DawoodHadith 1030

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَابْنُ مَوْهَبٍ الْمَعْنَی قَالَا حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَی وَقْتِ الْعَصْرِ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا فَإِنْ زَاغَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّی الظُّهْرَ ثُمَّ رَکِبَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو دَاوُد کَانَ مُفَضَّلٌ قَاضِيَ مِصْرَ وَکَانَ مُجَابَ الدَّعْوَةِ وَهُوَ ابْنُ فَضَالَةَ

قتیبہ بن موہب، مفضل، عقیل، ابن شہاب، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج ڈھلنے سے پہلے سفر پر روانہ ہوتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک موخر کرتے پھر اتر کر دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا فرماتے اور اگر روانگی سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر پڑھ کر سوار ہوتے ابوداؤد کہتے ہیں کہ مفضل بن فضالہ مصر کے قاضی تھے اور مستجاب الدعوات تھے۔

-

Permalink

See the full chapter: دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان