TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 5437 · Statement on Clothing

Sahih BukhariHadith 5437

Narrated by Um Salama

حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عِنْدَهَا وَفِي الْبَيْتِ مُخَنَّثٌ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ أَخِي أُمِّ سَلَمَةَ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ لَکُمْ غَدًا الطَّائِفَ فَإِنِّي أَدُلُّکَ عَلَی بِنْتِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَائِ عَلَيْکُنَّ

مالک بن اسماعیل، زہیر، ہشام بن عروہ، زینب بنت ابی سلمہ، ام سلمہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تھے اور اس کے گھر میں ایک مخنث (ہیجڑا) بیٹھا ہوا تھا، اس نے ام سلمہ کے بھائی عبداللہ سے کہا اے عبد اللہ! اگر کل اللہ نے تمہیں طائف میں فتح دی تو میں تمہیں غیلان کی ایک لڑکی بتاؤں گا، جس کے آگے سے چار سلوٹ اور پیچھے سے آگے آٹھ سلوٹ معلوم ہوتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ (مخنث) تمہارے پاس نہ آنے پائیں، عبداللہ (بخاری) نے کہا " تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ " سے مراد اس کے پیٹ کی چار سلوٹیں ہیں، چنانچہ وہ ان (سلوٹوں کے) ساتھ آتی ہیں، اور " تُدْبِرُ بِثَمَانٍ " سے مراد ان چار سلوٹوں کے کنارے ہیں، اس لئے کہ وہ دونوں پہلوووں کو گھیرے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ مل جاتی ہیں، اور بثمان کہا، بثمانیہ نہیں کہا، اور اطراف کا واحد ہے جو مذکر ہے، اس لئے ثمانیہ اطراف نہیں کہا۔

Narrated Um Salama: that once the Prophet was in her house, and an effeminate man was there too. The effeminate man said to 'Abdullah, (Um Salama's brother) "0 'Abdullah! If Ta'if should be conquered tomorrow, I recommend you the daughter of Ghailan, for she is so fat that she has four curves in the front (of her belly) and eight at the back." So the Prophet said (to his wives) "These effeminate (men) should not enter upon you (your houses).

Permalink

See the full chapter: عورتوں کی صورت اختیار کرنے والے کو گھر سے نکال دینے کا بیان