TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 4460 · Explanation of Tafsir (Quranic Exegesis)

Sahih BukhariHadith 4460

Narrated by Aisha

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ سَمِعَ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُومُ مِنْ اللَّيْلِ حَتَّی تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَکُونَ عَبْدًا شَکُورًا فَلَمَّا کَثُرَ لَحْمُهُ صَلَّی جَالِسًا فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْکَعَ قَامَ فَقَرَأَ ثُمَّ رَکَعَ

حسن بن عبدالعزیز، عبداللہ بن یحیی ، حیوۃ، ابوالاسود، عروہ، حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اس قدر کھڑے ہوتے کہ آپ کے پاؤں پھٹ جاتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں آپ نے فرمایا کیا مجھے پسند نہیں میں شکر گزار بندہ بنوں پھر جب آپ کے جسم میں گوشت زیادہ ہوگیا تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہو کر کچھ قرات کرتے پھر رکوع کرتے۔ (آیت) بے شک ہم نے آپ کو شاہد بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔

Narrated Aisha: The Prophet used to offer prayer at night (for such a long time) that his feet used to crack. I said, "O Allah's Apostle! Why do you do it since Allah has forgiven you your faults of the past and those to follow?" He said, "Shouldn't I love to be a thankful slave (of Allah)?' When he became old, he prayed while sitting, but if he wanted to perform a bowing, he wound get up, recite (some other verses) and then perform the bowing.

Permalink

See the full chapter: تفسیر سورت الفتح اور مجاہد نے کہا کہ سیماھم فی وجوھہم میں سیما سے مراد چہرے کی نرمی اور ہئیت اور منصور نے بواسطہ مجاہد نقل کیا کہ اس سے مراد تواضع ہے شطأہ اپنی سوئی اپنی کلی فاستغلظ موٹا ہوا۔ سوق ساق کی جمع یعنی شاخ جو درختوں کو اٹھانے والی ہو اور دائرۃ السوء رجل السوء کی طرح ہے یعنی بری گردش دائر السوء سے مراد عذاب ہے تعزروہ تم اس کی مدد کرو شطہ بالی کا پٹھا کہ ایک دانہ سے دس آٹھ یا سات بالیان اگتی ہیں چنانچہ ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس قول سے یہی مراد ہے کہ فازرہ یعنی اس کو تقویت پہنچائی اور اگر وہ ایک ہوئی تو شاخ پر قائم نہ رہ سکتی یہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مثال کے طور پر بیان فرمایا ہے اس لئے کہ آپ تنہا نکلے پھر آپ کے اصحاب کے ذریعہ آپ کو قوت پہنچائی جس طرح ایک دانہ کو اس کے ذریعہ قوت بہم پہنچاتا ہے۔ جو اس سے اگتی ہے۔ (آیت) بے شک ہم نے فتح دی آپ کو ظاہر فتح۔