TrueHadith

تفسیر سورت الفتح اور مجاہد نے کہا کہ سیماھم فی وجوھہم میں سیما سے مراد چہرے کی نرمی اور ہئیت اور منصور نے بواسطہ مجاہد نقل کیا کہ اس سے مراد تواضع ہے شطأہ اپنی سوئی اپنی کلی فاستغلظ موٹا ہوا۔ سوق ساق کی جمع یعنی شاخ جو درختوں کو اٹھانے والی ہو اور دائرۃ السوء رجل السوء کی طرح ہے یعنی بری گردش دائر السوء سے مراد عذاب ہے تعزروہ تم اس کی مدد کرو شطہ بالی کا پٹھا کہ ایک دانہ سے دس آٹھ یا سات بالیان اگتی ہیں چنانچہ ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس قول سے یہی مراد ہے کہ فازرہ یعنی اس کو تقویت پہنچائی اور اگر وہ ایک ہوئی تو شاخ پر قائم نہ رہ سکتی یہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مثال کے طور پر بیان فرمایا ہے اس لئے کہ آپ تنہا نکلے پھر آپ کے اصحاب کے ذریعہ آپ کو قوت پہنچائی جس طرح ایک دانہ کو اس کے ذریعہ قوت بہم پہنچاتا ہے۔ جو اس سے اگتی ہے۔ (آیت) بے شک ہم نے فتح دی آپ کو ظاہر فتح۔

Sahih BukhariHadith 4456

Narrated by Aslam

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِکٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَسِيرُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسِيرُ مَعَهُ لَيْلًا فَسَأَلَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ شَيْئٍ فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثَکِلَتْ أُمُّ عُمَرَ نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ کُلَّ ذَلِکَ لَا يُجِيبُکَ قَالَ عُمَرُ فَحَرَّکْتُ بَعِيرِي ثُمَّ تَقَدَّمْتُ أَمَامَ النَّاسِ وَخَشِيتُ أَنْ يُنْزَلَ فِيَّ قُرْآنٌ فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي فَقُلْتُ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَکُونَ نَزَلَ فِيَّ قُرْآنٌ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَرَأَ إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِينًا

عبداللہ بن مسلمہ، مالک بن زید بن اسلم، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی سفر میں چل رہے تھے اور حضرت عمر بن خطاب بھی آپ کے ساتھ تھے رات کا وقت تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب نے آپ سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جواب دیا پھر انہوں نے پوچھا تو آپ نے جواب نہ دیا پھر پوچھا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ماں اولاد سے محروم ہو تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار سوال کیا آپ نے تیری کسی بات کا جواب نہ دیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے اپنے اونٹ کو ہنکایا اور لوگوں سے آگے بڑھ گیا اور مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں میرے متعلق قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہوجائے ابھی تھوڑی دیر ہی نہ گزری تھی کہ میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو مجھے پکار رہا تھا میں ڈرا کہ کہیں میرے متعلق قرآن نہ نازل ہو رہا ہو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے فرمایا کہ آج رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی جو مجھے ان تمام چیزوں سے زیاده محبوب ہے جن پر آفتاب طلوع ہوتاهے پھر آپ نے آیت إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِينًا پڑھی ۔

Narrated Aslam: While Allah's Apostle was proceeding at night during one of his journeys and 'Umar bin Al-Khattab was traveling beside him, 'Umar asked him about something but Allah's Apostle did not reply. He asked again, but he did not reply, and then he asked (for the third time) but he did not reply. On that, 'Umar bin Al-Khattab said to himself, "Thakilat Ummu 'Umar (May 'Umar's mother lose her son)! I asked Allah's Apostle three times but he did not reply." 'Umar then said, "I made my camel run faster and went ahead of the people, and I was afraid that some Qur'anic Verses might be revealed about me. But before getting involved in any other matter. I heard somebody calling me. I said to myself, 'I fear that some Qur'anic Verses have been revealed about me,' and so I went to Allah's Apostle and greeted him. He (Allah's Apostle ) said, 'Tonight a Sura has been revealed to me, and it is dearer to me than that on which the sun rises (i.e. the world)' Then he recited: "Verily, We have given you a manifest victory." (48.1)

Permalink

Sahih BukhariHadith 4457

Narrated by Anas

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِينًا قَالَ الْحُدَيْبِيَةُ

محمد بن بشار، غندر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا إِنَّا ( اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا ) 48۔ الفتح : 1)سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔

Narrated Anas: "Verily, We have given you (O Muhammad) a manifest victory.' refers to Al-Hudaibiya Peace treaty).

Permalink

Sahih BukhariHadith 4458

Narrated by 'Abdullah bin Mughaffal

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَکَّةَ سُورَةَ الْفَتْحِ فَرَجَّعَ فِيهَا قَالَ مُعَاوِيَةُ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَحْکِيَ لَکُمْ قِرَائَةَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَفَعَلْتُ

مسلم بن ابراہیم، شعبہ، معاویہ بن قرہ، عبداللہ بن مغفل سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن سورت فتح پڑھی اور خوش الحانی سے پڑھی، معاویه کا بیان ہے که اگر تم چاهو تو میں تم کو آنحضرت صلی الله علیه وسلم کی قرات کی طرح پڑھ کر سنا دوں۔ (آیت) تاکه الله تعالیٰ تمهارے اگلے اور پچھلے گناه بخش دے اور اپنی نعمت تم پر پوری کردے اور تمهیں سیدهے راسته کی ہدایت کردے ۔

Narrated 'Abdullah bin Mughaffal: On the Day of the Conquest of Mecca, the Prophet recited Surat Al-Fath in a vibrating and pleasant voice. (Muawaiya, the subnarrator said, "If I could imitate the recitation of the Prophet I would do so.")

Permalink

Sahih BukhariHadith 4459

Narrated by Al-Mughira

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا زِيَادٌ هُوَ ابْنُ عِلَاقَةَ أَنَّهُ سَمِعَ الْمُغِيرَةَ يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَفَلَا أَکُونُ عَبْدًا شَکُورًا

صدقہ بن فضل، ابن عیینہ، زیاد، مغیرہ سے روایت کرتے ہیں ان کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اس قدر قیام کرتے کہ آپ کے دونوں پاؤں سوج جاتے کسی نے آپ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں آپ نے فرمایا کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں۔

Narrated Al-Mughira: The Prophet used to offer night prayers till his feet became swollen. Somebody said, to him," "Allah has forgiven you, your faults of the past and those to follow." On that, he said, "Shouldn't I be a thankful slave of Allah)?"

Permalink

Sahih BukhariHadith 4460

Narrated by Aisha

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ سَمِعَ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُومُ مِنْ اللَّيْلِ حَتَّی تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَکُونَ عَبْدًا شَکُورًا فَلَمَّا کَثُرَ لَحْمُهُ صَلَّی جَالِسًا فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْکَعَ قَامَ فَقَرَأَ ثُمَّ رَکَعَ

حسن بن عبدالعزیز، عبداللہ بن یحیی ، حیوۃ، ابوالاسود، عروہ، حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اس قدر کھڑے ہوتے کہ آپ کے پاؤں پھٹ جاتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں آپ نے فرمایا کیا مجھے پسند نہیں میں شکر گزار بندہ بنوں پھر جب آپ کے جسم میں گوشت زیادہ ہوگیا تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہو کر کچھ قرات کرتے پھر رکوع کرتے۔ (آیت) بے شک ہم نے آپ کو شاہد بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔

Narrated Aisha: The Prophet used to offer prayer at night (for such a long time) that his feet used to crack. I said, "O Allah's Apostle! Why do you do it since Allah has forgiven you your faults of the past and those to follow?" He said, "Shouldn't I love to be a thankful slave (of Allah)?' When he became old, he prayed while sitting, but if he wanted to perform a bowing, he wound get up, recite (some other verses) and then perform the bowing.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4461

Narrated by Abdullah bin Amr bin Al-As

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْقُرْآنِ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاکَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا قَالَ فِي التَّوْرَاةِ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاکَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُکَ الْمُتَوَکِّلَ لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ بِالْأَسْوَاقِ وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَةَ بِالسَّيِّئَةِ وَلَکِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ حَتَّی يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَائَ بِأَنْ يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَيَفْتَحَ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوبًا غُلْفًا

عبد اللہ، عبدالعزیز بن ابی سلمہ، ہلال بن ابی بلال، عطاء بن یسار، عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت جو قرآن میں ہے کہ (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا) 33۔ الاحزاب : 45) تورات میں اس طرح ہے کہ اے نبی! ہم نے تم کو گواہی دینے اور خوشخبری دینے والا بھیجا ہے اور امیوں کی جائے پناہ بنا کر بھیجا ہے تم میرے بندے ہو اور میرے رسول ہو میں نے تمہارا نام متوکل رکھا ہے وہ نہ تو سخت خو اور نہ سخت قلب ہوگا اور نہ بازاروں میں شوروغل کرنے والا ہوگا اور نہ برائی کو برائی سے دفع کرے گا بلکہ معاف اور درگزر کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو اس وقت تک نہ اٹھائے گا جب تک کہ دین کی کجی کو وہ سیدھا نہ کر لے گا اس طور پر کہ لوگ کہنے لگیں گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کے ذریعہ اندھی آنکھوں اور بہرے کانوں اور غلاف میں ڈھکے دلوں کو کھول دے گا۔ (آیت) وہی ہے جس نے سکینہ نازل فرمایا۔

Narrated Abdullah bin Amr bin Al-As: This Verse: 'Verily We have sent you (O Muhammad) as a witness, as a bringer of glad tidings and as a warner.' (48.8) Which is in the Qur'an, appears in the Surah thus: 'Verily We have sent you (O Muhammad) as a witness, as a bringer of glad tidings and as a warner, and as a protector for the illiterates (i.e., the Arabs.) You are my slave and My Apostle, and I have named you Al-Mutawakkil (one who depends upon Allah). You are neither hard-hearted nor of fierce character, nor one who shouts in the markets. You do not return evil for evil, but excuse and forgive. Allah will not take you unto Him till He guides through you a crocked (curved) nation on the right path by causing them to say: "None has the right to be worshipped but Allah." With such a statement He will cause to open blind eyes, deaf ears and hardened hearts.'

Permalink

Sahih BukhariHadith 4462

Narrated by Al-Bara

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ الْبَرَائِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَفَرَسٌ لَهُ مَرْبُوطٌ فِي الدَّارِ فَجَعَلَ يَنْفِرُ فَخَرَجَ الرَّجُلُ فَنَظَرَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا وَجَعَلَ يَنْفِرُ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَکَرَ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّکِينَةُ تَنَزَّلَتْ بِالْقُرْآنِ

عبیداللہ بن موسی، اسرائیل، ابواسحاق، براء سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی قرات کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا گھر میں بندھا ہوا تھا کہ وہ بھاگنے لگا باہر نکل کر دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا وہ گھوڑا بدک رہا تھا جب صبح ہوئی تو یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہی سکینہ ہے جو قرات قرآن کے وقت نازل ہوتی ہے۔ (آیت) اس وقت کو یاد کیجئے جب وہ لوگ آپ سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے۔

Narrated Al-Bara: While a man from the companions of the Prophet was reciting (Quran) and his horse was tied in the house, the horse got startled and started jumping. The man came out, looked around but could not find anything, yet the horse went on jumping. The next morning he mentioned that to the Prophet. The Prophet said, "That was the tranquility (calmness) which descended because of the recitation of the Quran."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4463

Narrated by Jabir

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ

قتیبہ بن سعید، سفیان، عمرو، حضرت جابر سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگ صلح حدیبیہ کے دن ایک ہزار چار سو آدمی تھے۔

Narrated Jabir: We were one thousand and four hundred on the Day of Al-Hudaibiya.

Permalink

Sahih BukhariHadith 4464

Narrated by 'Uqba bin Sahban

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ صُهْبَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ إِنِّي مِمَّنْ شَهِدَ الشَّجَرَةَ نَهَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَذْفِ وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ فِي الْبَوْلِ فِي الْمُغْتَسَلِ

علی بن عبد اللہ، شبابہ، شعبہ، قتادہ، عقبہ بن صہبان، عبداللہ بن مغفل مزنی سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں ان لوگوں میں تھا جو بیعت رضوان میں شریک تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں پھینکنے سے منع فرمایا تھا عقبہ بن صہبان سے منقول ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن مغفل مزنی کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ غسل کرنے کی جگہ میں پیشاب کرنے سے آپ نے منع فرمایا تھا۔

Narrated 'Uqba bin Sahban: 'Abdullah bin Mughaffal Al-Muzani who was one of those who witnessed (the event of) the tree, said, "The Prophet forbade the throwing of small stones (with two fingers)." 'Abdullah bin Al-Mughaffal Al-Muzani also said, "The Prophet also forbade urinating at the place where one takes a bath."

Permalink

Sahih BukhariHadith 4465

Narrated by Thabit bin Ad-Dahhak

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ

محمد بن ولید، محمد بن جعفر، شعبہ، خالد، ابوقلابہ، ثابت بن ضحاک سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بیعت رضوان میں شریک ہونے والوں میں سے تھے

Narrated Thabit bin Ad-Dahhak: who was one of the companions of the tree (those who swore allegiance to the Prophet beneath the tree at Al-Hudaibiya):

Permalink

Sahih BukhariHadith 4466

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ السُّلَمِيُّ حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا وَائِلٍ أَسْأَلُهُ فَقَالَ كُنَّا بِصِفِّينَ فَقَالَ رَجُلٌ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ فَقَالَ عَلِيٌّ نَعَمْ فَقَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ يَعْنِي الصُّلْحَ الَّذِي كَانَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِكِينَ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا فَجَاءَ عُمَرُ فَقَالَ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَى قَالَ فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللَّهُ أَبَدًا فَرَجَعَ مُتَغَيِّظًا فَلَمْ يَصْبِرْ حَتَّى جَاءَ أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ قَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ

احمد بن اسحاق سلمی، یعلی، عبدالعزیز بن سیاہ، حبیب بن ثابت سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں ابووائل کے پاس (کچھ) پوچھنے کے لئے آیا تھا تو انہوں نے کہا کہ ہم جنگ صفین میں شریک تھے تو ایک شخص نے کہا کیا تم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جو اللہ کی کتاب کی طرف بلائے جاتے ہیں تو حضرت علی نے فرمایا ہاں! سہل بن حنیف نے کہا تم اپنے آپ کو متھم کرو (یعنی جنگ کی رائے مناسب نہیں) ہم نے یوم حدیبیہ یعنی حدیبیہ کے دن دیکھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان ہوئی۔ اگر ہم لوگ یہ لڑائی دیکھتے تو ضرور لڑتے چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور عرض کیا، کیا ہم لوگ حق پر نہیں ہیں اور وہ لوگ باطل پر نہیں ہیں؟ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول دوزخ میں نہیں جاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ پھر کیوں ہم اپنے دین میں ذلت کو آنے دیں اور آئے ہوئے مسلمانوں کو واپس کردیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان (اس قسم کی صلح) کا حکم نہیں فرمایا آپ نے فرمایا کہ اے ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی ضائع نہ کرے گا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ غصہ کی حالت میں واپس ہوئے اور انہیں صبر نہ ہوا۔ حتیٰ کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے اور کہا اے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! کیا ہم حق پر اور (مشرکین) باطل پر نہیں ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ اے ابن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ! وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ان کو کبھی ضائع نہ کرے گا چنانچہ سورت فاتح نازل ہوئی۔

-

Permalink