Sahih Bukhari — Hadith 4315
Narrated by 'Amr
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو قَالَ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ و قَالَ غَيْرُهُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْتَغْشُونَ يُغَطُّونَ رُئُوسَهُمْ سِيئَ بِهِمْ سَائَ ظَنُّهُ بِقَوْمِهِ وَضَاقَ بِهِمْ بِأَضْيَافِهِ بِقِطْعٍ مِنْ اللَّيْلِ بِسَوَادٍ وَقَالَ مُجَاهِدٌ إِلَيْهِ أُنِيبُ أَرْجِعُ
حمیدی، سفیان، عمرو سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ آیت اَلَا اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَي صُدُوْرَھُمْ 11۔ہود : 5) اسی طرح پڑھی عمرو بن دینار کے علاوہ اور دوسرے لوگوں کا بیان ہے کہ ابن عباس یستغشون کے معنی سر ڈھانپ لینے کے فرماتے ہیں " سِيئَ بِهِمْ " اپنی قوم سے بد گمان ہوا اور "ضَاقَ بِهِمْ" یعنی اپنے مہمان کو دیکھ کر رنجیدہ ہوا "بِقِطْعٍ مِنْ اللَّيْلِ" کے معنی رات کی سیاہی میں مجاہد کا بیان ہے کہ " أُنِيبُ " کے معنی میں رجوع کرتا ہوں۔
Narrated 'Amr: Ibn 'Abbas recited:-- "No doubt! They fold up their breasts in order to hide from Him. Surely! Even when they cover themselves with their garments.." (11.5)