Narrated by Muhammad bin 'Abbas bin Ja'far
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ أَلَا إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ قَالَ سَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ أُنَاسٌ کَانُوا يَسْتَحْيُونَ أَنْ يَتَخَلَّوْا فَيُفْضُوا إِلَی السَّمَائِ وَأَنْ يُجَامِعُوا نِسَائَهُمْ فَيُفْضُوا إِلَی السَّمَائِ فَنَزَلَ ذَلِکَ فِيهِمْ
حسن بن محمد بن صباح، حجاج، ابن جریج، محمد بن عباد بن جعفر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے اَلَا اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَي صُدُوْرَھُمْ 11۔ہود : 5) لہذا میں نے ان سے معلوم کیا کہ یہ آیت کس سلسلہ میں نازل ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ پیشاب پاخانہ یا جماع کے وقت کھلی جگہ میں آسمان کے نیچے یہ کام کرتے وقت گھبراتے اور شرم کرتے جس کی وجہ سے جھکے جھکے یہ سب کام کرتے چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی۔
Narrated Muhammad bin 'Abbas bin Ja'far: That he heard Ibn 'Abbas reciting: "No doubt! They fold up their breasts." (11.5) and asked him about its explanation. He said, "Some people used to hide themselves while answering the call of nature in an open space lest they be exposed to the sky, and also when they had sexual relation with their wives in an open space lest they be exposed to the sky, so the above revelation was sent down regarding them."
Narrated by Muhammad bin Abbas bin Ja'far
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَرَأَ أَلَا إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ قُلْتُ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ مَا تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ قَالَ کَانَ الرَّجُلُ يُجَامِعُ امْرَأَتَهُ فَيَسْتَحِي أَوْ يَتَخَلَّی فَيَسْتَحِي فَنَزَلَتْ أَلَا إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ
ابراہیم بن موسی، ہشام، ابن جریج، محمد بن عباد بن جعفر سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے اَلَا اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَي صُدُوْرَھُمْ 11۔ہود : 5) پڑھا تو میں نے عرض کیا کہ یا ابا العباس اس کا مطلب کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ کچھ لوگ اپنی عورتوں سے جماع کے وقت یا پیشاب یا پاخانہ کے وقت برہنہ ہونے میں شرم کرتے تھے ان کا خیال تھا کہ ہمیں پروردگار دیکھ رہا ہے لہذا یہ آیت نازل اس وقت ہوئی۔
Narrated Muhammad bin Abbas bin Ja'far: Ibn Abbas recited. "No doubt! They fold up their breasts." I said, "O Abu Abbas! What is meant by "They fold up their breasts?" He said, "A man used to feel shy on having sexual relation with his wife or on answering the call of nature (in an open space) so this Verse was revealed:-- "No doubt! They fold up their breasts."
Narrated by 'Amr
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو قَالَ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ و قَالَ غَيْرُهُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْتَغْشُونَ يُغَطُّونَ رُئُوسَهُمْ سِيئَ بِهِمْ سَائَ ظَنُّهُ بِقَوْمِهِ وَضَاقَ بِهِمْ بِأَضْيَافِهِ بِقِطْعٍ مِنْ اللَّيْلِ بِسَوَادٍ وَقَالَ مُجَاهِدٌ إِلَيْهِ أُنِيبُ أَرْجِعُ
حمیدی، سفیان، عمرو سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ آیت اَلَا اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَي صُدُوْرَھُمْ 11۔ہود : 5) اسی طرح پڑھی عمرو بن دینار کے علاوہ اور دوسرے لوگوں کا بیان ہے کہ ابن عباس یستغشون کے معنی سر ڈھانپ لینے کے فرماتے ہیں " سِيئَ بِهِمْ " اپنی قوم سے بد گمان ہوا اور "ضَاقَ بِهِمْ" یعنی اپنے مہمان کو دیکھ کر رنجیدہ ہوا "بِقِطْعٍ مِنْ اللَّيْلِ" کے معنی رات کی سیاہی میں مجاہد کا بیان ہے کہ " أُنِيبُ " کے معنی میں رجوع کرتا ہوں۔
Narrated 'Amr: Ibn 'Abbas recited:-- "No doubt! They fold up their breasts in order to hide from Him. Surely! Even when they cover themselves with their garments.." (11.5)