Sahih Bukhari — Hadith 3608
Narrated by Abu Wail
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ عُدْنَا خَبَّابًا فَقَالَ هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَی اللَّهِ فَمِنَّا مَنْ مَضَی لَمْ يَأْخُذْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَکَ نَمِرَةً فَکُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَی رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنْ إِذْخِرٍ وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا
حمیدی سفیان اعمش ابووائل سے روایت کرتے ہیں کہ ہم خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عیادت کو گئے تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے محض لوجہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تو ہمارا ثواب اللہ تعالیٰ کے یہاں ہوگیا مگر ہم میں سے بعض حضرات (دنیا سے) اس حال میں چلے گئے کہ انہوں نے (دنیا میں) اس کا کچھ بھی اجر نہ لیا انہیں دنیا میں راحت نہ ملی انہیں میں سے مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو جنگ احد میں شہید ہوئے اور صرف ایک کمبل انہوں نے چھوڑا جب ہم کفن میں اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو پیر کھل جاتے اور جب پیر ڈھانپتے تو سر کھل جاتا تو ہمیں آنحضرت نے یہ حکم دیا کہ ہم ان کا سر (تو کمبل سے) ڈھانپ دیں اور ان کے پاؤں پر اذخر گھاس رکھ کر انہیں چھپا دیں اور ہم میں بعض حضرات ایسے ہیں کہ ان کے لئے ان کا پھل پک گیا اور وہ اسے توڑ کر کھا رہے ہیں۔
Narrated Abu Wail: We visited Khabbaba who said, "We migrated with the Prophet for Allah's Sake, so our reward became due and sure with Allah. Some of us passed away without taking anything of their rewards (in this world) and one of them was Mus'ab bin 'Umar who was martyred on the day (of the battle) of Uhud leaving a striped woolen cloak. When we covered his head with it, his feet became naked, and when covered his feet, his head became naked. So Allah's Apostle ordered us to cover his head and put some Idhkhir (i.e. a special kind of grass) on his feet. (On the other hand) some of us have had their fruits ripened (in this world) and they are collecting them."