Narrated by Abu Wail
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ عُدْنَا خَبَّابًا فَقَالَ هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَی اللَّهِ فَمِنَّا مَنْ مَضَی لَمْ يَأْخُذْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَکَ نَمِرَةً فَکُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَی رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنْ إِذْخِرٍ وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا
حمیدی سفیان اعمش ابووائل سے روایت کرتے ہیں کہ ہم خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عیادت کو گئے تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے محض لوجہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تو ہمارا ثواب اللہ تعالیٰ کے یہاں ہوگیا مگر ہم میں سے بعض حضرات (دنیا سے) اس حال میں چلے گئے کہ انہوں نے (دنیا میں) اس کا کچھ بھی اجر نہ لیا انہیں دنیا میں راحت نہ ملی انہیں میں سے مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو جنگ احد میں شہید ہوئے اور صرف ایک کمبل انہوں نے چھوڑا جب ہم کفن میں اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو پیر کھل جاتے اور جب پیر ڈھانپتے تو سر کھل جاتا تو ہمیں آنحضرت نے یہ حکم دیا کہ ہم ان کا سر (تو کمبل سے) ڈھانپ دیں اور ان کے پاؤں پر اذخر گھاس رکھ کر انہیں چھپا دیں اور ہم میں بعض حضرات ایسے ہیں کہ ان کے لئے ان کا پھل پک گیا اور وہ اسے توڑ کر کھا رہے ہیں۔
Narrated Abu Wail: We visited Khabbaba who said, "We migrated with the Prophet for Allah's Sake, so our reward became due and sure with Allah. Some of us passed away without taking anything of their rewards (in this world) and one of them was Mus'ab bin 'Umar who was martyred on the day (of the battle) of Uhud leaving a striped woolen cloak. When we covered his head with it, his feet became naked, and when covered his feet, his head became naked. So Allah's Apostle ordered us to cover his head and put some Idhkhir (i.e. a special kind of grass) on his feet. (On the other hand) some of us have had their fruits ripened (in this world) and they are collecting them."
Narrated by 'Umar
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ فَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَی دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَی مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ وَمَنْ کَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَی اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَی اللَّهِ وَرَسُولِهِ
مسدد حماد بن زید یحیی محمد بن ابراہیم علقمہ بن وقاص حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے جس کی ہجرت دنیا میں حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی خاطر ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کام کے لئے لکھی جائے گی اور جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہجرت کی ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لکھی جائے گی۔
Narrated 'Umar: I heard the Prophet saying, "The reward of deeds depends on the intentions, so whoever emigrated for the worldly benefits or to marry a woman, his emigration was for that for which he emigrated, but whoever emigrated for the Sake of Allah and His Apostle, his emigration is for Allah and His Apostle."
Narrated by Mujahid bin Jabir Al-Makki
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ الْمَکِّيِّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کَانَ يَقُولُ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ
اسحاق بن یزید دمشقی یحیی بن حمزہ ابوعمرو اوزاعی عبدہ بن ابولبابہ مجاہد بن مکی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے تھے کہ فتح (مکہ) کے بعد ہجرت باقی نہیں رہی۔
Narrated Mujahid bin Jabir Al-Makki: Abdullah bin 'Umar used to say, "There is no more Hijrah (i.e. migration) after the Conquest of Mecca."
Narrated by 'Ata bin Abi Rabah
وَحَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ زُرْتُ عَائِشَةَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ فَسَأَلْنَاهَا عَنْ الْهِجْرَةِ فَقَالَتْ لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ کَانَ الْمُؤْمِنُونَ يَفِرُّ أَحَدُهُمْ بِدِينِهِ إِلَی اللَّهِ تَعَالَی وَإِلَی رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَنَ عَلَيْهِ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ أَظْهَرَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ وَالْيَوْمَ يَعْبُدُ رَبَّهُ حَيْثُ شَائَ وَلَکِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ
یحیی بن حمزہ اوزاعی عطا بن ابی رباح سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں عبید بن عمیر لیثی کے ہمراہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی زیارت کے لئے گیا تو ہم نے ان سے ہجرت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اب ہجرت نہیں ہے (پچھلے زمانہ میں ہجرت کا منشا یہ تھا کہ) مسلمان اپنے دین کو (محفوظ رکھنے کے لئے) اللہ و رسول کی طرف فتنہ میں پڑ جانے کے خوف سے بھاگ کر آئے تھے لیکن اب اللہ نے اسلام کو غالب کردیا لہذا اب کوئی جہاں جی چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے البتہ جہاد اور نیت کا ثواب ملتا ہے۔
Narrated 'Ata bin Abi Rabah: 'Ubaid bin 'Umar Al-Laithi and I visited Aisha and asked her about the Hijra (i.e. migration), and she said, "Today there is no (Hijrah) emigration. A believer used to run away with his religion to Allah and His Apostle lest he should be put to trial because of his religion. Today Allah has made Islam triumphant, and today a believer can worship his Lord wherever he likes. But the deeds that are still rewardable (in place of emigration) are Jihad and good intentions." (See Hadith No. 42 Vol. 4).
Narrated by Aisha
حَدَّثَنِي زَکَرِيَّائُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ هِشَامٌ فَأَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ سَعْدًا قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّکَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَهُمْ فِيکَ مِنْ قَوْمٍ کَذَّبُوا رَسُولَکَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْرَجُوهُ اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّکَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ وَقَالَ أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ مِنْ قَوْمٍ کَذَّبُوا نَبِيَّکَ وَأَخْرَجُوهُ مِنْ قُرَيْشٍ
زکریا بن یحیی ابن نمیر ہشام ان کے والد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ حضرت سعد کہا کرتے تھے اے اللہ تو جانتا ہے کہ مجھے تیری راہ میں جہاد کرنا کسی سے اتنا پسند نہیں جتنا اس قوم سے ہے جس نے تیرے رسول کی تکذیب کی کہ انہیں (ان کے وطن سے نکالا) (یعنی قریش سے) اے اللہ میرا خیال ہے کہ اب تو نے ہمارے اور ان کے درمیان سے لڑائی ختم کردی ہے اور ابان بن یزید نے ہشام ان کے والد اور حضرت عائشہ کے واسطے سے یہ الفاظ روایت کئے ہیں من قوم کذبوا نبیک و اخر جوہ من قریش۔
Narrated Aisha: Sad said, "O Allah! You know that there is none against whom I am eager to fight more willingly for Your Cause than those people who disbelieved Your Apostle and drove him out (of his city). O Allah! I think that You have ended the fight between us and them."
Narrated by Ibn Abbas
حَدَّثَنَي مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعِينَ سَنَةً فَمَکُثَ بِمَکَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَی إِلَيْهِ ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ فَهَاجَرَ عَشْرَ سِنِينَ وَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
مطر بن فضل روح ہشام عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی آپ مکہ میں تیرہ سال اس حال میں کہ آپ پر وحی نازل ہوتی تھی ٹھہرے رہے پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپ نے ہجرت کی (حالت میں) دس سال (مدینہ میں گزارے) اور تریسٹھ سال کی عمر میں آپ کا وصال ہوگیا تھا۔
Narrated Ibn Abbas: Allah's Apostle started receiving the Divine Inspiration at the age of forty. Then he stayed in Mecca for thirteen years, receiving the Divine Revelation. Then he was ordered to migrate and he lived as an Emigrant for ten years and then died at the age of sixty-three (years).
Narrated by Ibn Abbas
حَدَّثَنِي مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَکَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَکَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
مطر بن فضل روح بن عبادہ زکریا بن اسحاق عمرو بن دینار حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ نبوت کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال رہے اور آپ کی عمر مبارک تریسٹھ سال کی تھی جب کہ آپ کی وفات ہوئی۔
Narrated Ibn Abbas: Allah's Apostle stayed in Mecca for thirteen years (after receiving the first Divine Inspiration) and died at the age of sixty-three.
Narrated by Abu Said Al-Khudri
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عُبَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَائَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ فَبَکَی أَبُو بَکْرٍ وَقَالَ فَدَيْنَاکَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَعَجِبْنَا لَهُ وَقَالَ النَّاسُ انْظُرُوا إِلَی هَذَا الشَّيْخِ يُخْبِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ وَهُوَ يَقُولُ فَدَيْنَاکَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَيَّرَ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ هُوَ أَعْلَمَنَا بِهِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبَا بَکْرٍ وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنْ أُمَّتِي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ إِلَّا خُلَّةَ الْإِسْلَامِ لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا خَوْخَةُ أَبِي بَکْرٍ
اسماعیل بن عبداللہ مالک عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ابوالنصر عبید بن حنین حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض وفات میں منبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندہ کو اختیار دیا کہ وہ دنیا اور اس کی تروتازگی کو اختیار کر لے یا اللہ کے پاس جو نعمتیں ہیں انہیں اختیار کرلے تو اس بندہ نے اللہ کے پاس والی نعمتوں کو اختیار کر لیا (یہ سن کر) ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رو پڑے اور عرض کیا یا رسول اللہ! ہم آپ پر اپنے ماں باپ کو قربان کرتے ہیں (راوی کہتا ہے) کہ ہمیں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تعجب ہوا اور لوگوں نے کہا اس بڈھے کو تو دیکھو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بندہ کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ اللہ نے اس کو دنیا کی تروتازگی اور اپنے پاس کے انعامات کے درمیان اختیار دیا اور یہ بڈھا کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے ماں باپ کو آپ پر فدا کرتے ہیں اور رو رہا ہے لیکن چند روز کے بعد جب آپ کا وصال ہوگیا تو ہم یہ راز سمجھ گئے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیوں روئے تھے حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی اختیار دیا گیا تھا گویا آپ کی وفات کی طرف اشارہ تھا جسے ابوبکر سمجھ گئے تھے اور حضرت ابوبکر ہم میں سب سے بڑے عالم تھے اور آپ نے فرمایا کہ اپنی رفاقت اور مال کے اعتبار سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان ابوبکر کا ہے اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل (دوست حقیقی) بناتا تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بناتا لیکن اسلامی دوستی (کافی) ہے (دیکھو) مسجد میں سوائے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دریچہ کے اور کوئی دریچہ (کھلا ہوا) باقی نہ رہے۔
Narrated Abu Said Al-Khudri: Allah's Apostle sat on the pulpit and said, "Allah has given one of His Slaves the choice of receiving the splendor and luxury of the worldly life whatever he likes or to accept the good (of the Hereafter) which is with Allah. So he has chosen that good which is with Allah." On that Abu Bakr wept and said, "Our fathers and mothers be sacrificed for you." We became astonished at this. The people said, "Look at this old man! Allah's Apostle talks about a Slave of Allah to whom He has given the option to choose either the splendor of this worldly life or the good which is with Him, while he says. 'our fathers and mothers be sacrifice(i for you." But it was Allah's Apostle who had been given option, and Abu Bakr knew it better than we. Allah's Apostle added, "No doubt, I am indebted to Abu Bakr more than to anybody else regarding both his companionship and his wealth. And if I had to take a Khalil from my followers, I would certainly have taken Abu Bakr, but the fraternity of Islam is. sufficient. Let no door (i.e. Khoukha) of the Mosque remain open, except the door of Abu Bakr."
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِينَانِ الدِّينَ وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيْ النَّهَارِ بُکْرَةً وَعَشِيَّةً فَلَمَّا ابْتُلِيَ الْمُسْلِمُونَ خَرَجَ أَبُو بَکْرٍ مُهَاجِرًا نَحْوَ أَرْضِ الْحَبَشَةِ حَتَّی إِذَا بَلَغَ بَرْکَ الْغِمَادِ لَقِيَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ وَهُوَ سَيِّدُ الْقَارَةِ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ يَا أَبَا بَکْرٍ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ أَخْرَجَنِي قَوْمِي فَأُرِيدُ أَنْ أَسِيحَ فِي الْأَرْضِ وَأَعْبُدَ رَبِّي قَالَ ابْنُ الدَّغِنَةِ فَإِنَّ مِثْلَکَ يَا أَبَا بَکْرٍ لَا يَخْرُجُ وَلَا يُخْرَجُ إِنَّکَ تَکْسِبُ الْمَعْدُومَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَی نَوَائِبِ الْحَقِّ فَأَنَا لَکَ جَارٌ ارْجِعْ وَاعْبُدْ رَبَّکَ بِبَلَدِکَ فَرَجَعَ وَارْتَحَلَ مَعَهُ ابْنُ الدَّغِنَةِ فَطَافَ ابْنُ الدَّغِنَةِ عَشِيَّةً فِي أَشْرَافِ قُرَيْشٍ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ لَا يَخْرُجُ مِثْلُهُ وَلَا يُخْرَجُ أَتُخْرِجُونَ رَجُلًا يَکْسِبُ الْمَعْدُومَ وَيَصِلُ الرَّحِمَ وَيَحْمِلُ الْکَلَّ وَيَقْرِي الضَّيْفَ وَيُعِينُ عَلَی نَوَائِبِ الْحَقِّ فَلَمْ تُکَذِّبْ قُرَيْشٌ بِجِوَارِ ابْنِ الدَّغِنَةِ وَقَالُوا لِابْنِ الدَّغِنَةِ مُرْ أَبَا بَکْرٍ فَلْيَعْبُدْ رَبَّهُ فِي دَارِهِ فَلْيُصَلِّ فِيهَا وَلْيَقْرَأْ مَا شَائَ وَلَا يُؤْذِينَا بِذَلِکَ وَلَا يَسْتَعْلِنْ بِهِ فَإِنَّا نَخْشَی أَنْ يَفْتِنَ نِسَائَنَا وَأَبْنَائَنَا فَقَالَ ذَلِکَ ابْنُ الدَّغِنَةِ لِأَبِي بَکْرٍ فَلَبِثَ أَبُو بَکْرٍ بِذَلِکَ يَعْبُدُ رَبَّهُ فِي دَارِهِ وَلَا يَسْتَعْلِنُ بِصَلَاتِهِ وَلَا يَقْرَأُ فِي غَيْرِ دَارِهِ ثُمَّ بَدَا لِأَبِي بَکْرٍ فَابْتَنَی مَسْجِدًا بِفِنَائِ دَارِهِ وَکَانَ يُصَلِّي فِيهِ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَذِفُ عَلَيْهِ نِسَائُ الْمُشْرِکِينَ وَأَبْنَاؤُهُمْ وَهُمْ يَعْجَبُونَ مِنْهُ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ رَجُلًا بَکَّائً لَا يَمْلِکُ عَيْنَيْهِ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ وَأَفْزَعَ ذَلِکَ أَشْرَافَ قُرَيْشٍ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فَأَرْسَلُوا إِلَی ابْنِ الدَّغِنَةِ فَقَدِمَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا إِنَّا کُنَّا أَجَرْنَا أَبَا بَکْرٍ بِجِوَارِکَ عَلَی أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ فَقَدْ جَاوَزَ ذَلِکَ فَابْتَنَی مَسْجِدًا بِفِنَائِ دَارِهِ فَأَعْلَنَ بِالصَّلَاةِ وَالْقِرَائَةِ فِيهِ وَإِنَّا قَدْ خَشِينَا أَنْ يَفْتِنَ نِسَائَنَا وَأَبْنَائَنَا فَانْهَهُ فَإِنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَی أَنْ يَعْبُدَ رَبَّهُ فِي دَارِهِ فَعَلَ وَإِنْ أَبَی إِلَّا أَنْ يُعْلِنَ بِذَلِکَ فَسَلْهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْکَ ذِمَّتَکَ فَإِنَّا قَدْ کَرِهْنَا أَنْ نُخْفِرَکَ وَلَسْنَا مُقِرِّينَ لِأَبِي بَکْرٍ الِاسْتِعْلَانَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَتَی ابْنُ الدَّغِنَةِ إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتَ الَّذِي عَاقَدْتُ لَکَ عَلَيْهِ فَإِمَّا أَنْ تَقْتَصِرَ عَلَی ذَلِکَ وَإِمَّا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيَّ ذِمَّتِي فَإِنِّي لَا أُحِبُّ أَنْ تَسْمَعَ الْعَرَبُ أَنِّي أُخْفِرْتُ فِي رَجُلٍ عَقَدْتُ لَهُ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ فَإِنِّي أَرُدُّ إِلَيْکَ جِوَارَکَ وَأَرْضَی بِجِوَارِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِمَکَّةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ إِنِّي أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِکُمْ ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لَابَتَيْنِ وَهُمَا الْحَرَّتَانِ فَهَاجَرَ مَنْ هَاجَرَ قِبَلَ الْمَدِينَةِ وَرَجَعَ عَامَّةُ مَنْ کَانَ هَاجَرَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ إِلَی الْمَدِينَةِ وَتَجَهَّزَ أَبُو بَکْرٍ قِبَلَ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رِسْلِکَ فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُؤْذَنَ لِي فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَهَلْ تَرْجُو ذَلِکَ بِأَبِي أَنْتَ قَالَ نَعَمْ فَحَبَسَ أَبُو بَکْرٍ نَفْسَهُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَصْحَبَهُ وَعَلَفَ رَاحِلَتَيْنِ کَانَتَا عِنْدَهُ وَرَقَ السَّمُرِ وَهُوَ الْخَبَطُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَبَيْنَمَا نَحْنُ يَوْمًا جُلُوسٌ فِي بَيْتِ أَبِي بَکْرٍ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلٌ لِأَبِي بَکْرٍ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَکُنْ يَأْتِينَا فِيهَا فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ فِدَائٌ لَهُ أَبِي وَأُمِّي وَاللَّهِ مَا جَائَ بِهِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا أَمْرٌ قَالَتْ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ فَأُذِنَ لَهُ فَدَخَلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَکْرٍ أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَکَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ إِنَّمَا هُمْ أَهْلُکَ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنِّي قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ الصَّحَابَةُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ أَبُو بَکْرٍ فَخُذْ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَی رَاحِلَتَيَّ هَاتَيْنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالثَّمَنِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَجَهَّزْنَاهُمَا أَحَثَّ الْجِهَازِ وَصَنَعْنَا لَهُمَا سُفْرَةً فِي جِرَابٍ فَقَطَعَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ أَبِي بَکْرٍ قِطْعَةً مِنْ نِطَاقِهَا فَرَبَطَتْ بِهِ عَلَی فَمِ الْجِرَابِ فَبِذَلِکَ سُمِّيَتْ ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ قَالَتْ ثُمَّ لَحِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ بِغَارٍ فِي جَبَلِ ثَوْرٍ فَکَمَنَا فِيهِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يَبِيتُ عِنْدَهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ ثَقِفٌ لَقِنٌ فَيُدْلِجُ مِنْ عِنْدِهِمَا بِسَحَرٍ فَيُصْبِحُ مَعَ قُرَيْشٍ بِمَکَّةَ کَبَائِتٍ فَلَا يَسْمَعُ أَمْرًا يُکْتَادَانِ بِهِ إِلَّا وَعَاهُ حَتَّی يَأْتِيَهُمَا بِخَبَرِ ذَلِکَ حِينَ يَخْتَلِطُ الظَّلَامُ وَيَرْعَی عَلَيْهِمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَی أَبِي بَکْرٍ مِنْحَةً مِنْ غَنَمٍ فَيُرِيحُهَا عَلَيْهِمَا حِينَ تَذْهَبُ سَاعَةٌ مِنْ الْعِشَائِ فَيَبِيتَانِ فِي رِسْلٍ وَهُوَ لَبَنُ مِنْحَتِهِمَا وَرَضِيفِهِمَا حَتَّی يَنْعِقَ بِهَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ بِغَلَسٍ يَفْعَلُ ذَلِکَ فِي کُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ تِلْکَ اللَّيَالِي الثَّلَاثِ وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي الدِّيلِ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ بْنِ عَدِيٍّ هَادِيَا خِرِّيتًا وَالْخِرِّيتُ الْمَاهِرُ بِالْهِدَايَةِ قَدْ غَمَسَ حِلْفًا فِي آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّهْمِيِّ وَهُوَ عَلَی دِينِ کُفَّارِ قُرَيْشٍ فَأَمِنَاهُ فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ بِرَاحِلَتَيْهِمَا صُبْحَ ثَلَاثٍ وَانْطَلَقَ مَعَهُمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ وَالدَّلِيلُ فَأَخَذَ بِهِمْ طَرِيقَ السَّوَاحِلِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِکٍ الْمُدْلِجِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَخِي سُرَاقَةَ بْنِ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ يَقُولُ جَائَنَا رُسُلُ کُفَّارِ قُرَيْشٍ يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ دِيَةَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَنْ قَتَلَهُ أَوْ أَسَرَهُ فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي بَنِي مُدْلِجٍ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّی قَامَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ جُلُوسٌ فَقَالَ يَا سُرَاقَةُ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ أُرَاهَا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ قَالَ سُرَاقَةُ فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ وَلَکِنَّکَ رَأَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا انْطَلَقُوا بِأَعْيُنِنَا ثُمَّ لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ سَاعَةً ثُمَّ قُمْتُ فَدَخَلْتُ فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تَخْرُجَ بِفَرَسِي وَهِيَ مِنْ وَرَائِ أَکَمَةٍ فَتَحْبِسَهَا عَلَيَّ وَأَخَذْتُ رُمْحِي فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ فَحَطَطْتُ بِزُجِّهِ الْأَرْضَ وَخَفَضْتُ عَالِيَهُ حَتَّی أَتَيْتُ فَرَسِي فَرَکِبْتُهَا فَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي حَتَّی دَنَوْتُ مِنْهُمْ فَعَثَرَتْ بِي فَرَسِي فَخَرَرْتُ عَنْهَا فَقُمْتُ فَأَهْوَيْتُ يَدِي إِلَی کِنَانَتِي فَاسْتَخْرَجْتُ مِنْهَا الْأَزْلَامَ فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا أَضُرُّهُمْ أَمْ لَا فَخَرَجَ الَّذِي أَکْرَهُ فَرَکِبْتُ فَرَسِي وَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ تُقَرِّبُ بِي حَتَّی إِذَا سَمِعْتُ قِرَائَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَکْرٍ يُکْثِرُ الِالْتِفَاتَ سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الْأَرْضِ حَتَّی بَلَغَتَا الرُّکْبَتَيْنِ فَخَرَرْتُ عَنْهَا ثُمَّ زَجَرْتُهَا فَنَهَضَتْ فَلَمْ تَکَدْ تُخْرِجُ يَدَيْهَا فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً إِذَا لِأَثَرِ يَدَيْهَا عُثَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَائِ مِثْلُ الدُّخَانِ فَاسْتَقْسَمْتُ بِالْأَزْلَامِ فَخَرَجَ الَّذِي أَکْرَهُ فَنَادَيْتُهُمْ بِالْأَمَانِ فَوَقَفُوا فَرَکِبْتُ فَرَسِي حَتَّی جِئْتُهُمْ وَوَقَعَ فِي نَفْسِي حِينَ لَقِيتُ مَا لَقِيتُ مِنْ الْحَبْسِ عَنْهُمْ أَنْ سَيَظْهَرُ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ قَوْمَکَ قَدْ جَعَلُوا فِيکَ الدِّيَةَ وَأَخْبَرْتُهُمْ أَخْبَارَ مَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ فَلَمْ يَرْزَآنِي وَلَمْ يَسْأَلَانِي إِلَّا أَنْ قَالَ أَخْفِ عَنَّا فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَکْتُبَ لِي کِتَابَ أَمْنٍ فَأَمَرَ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ فَکَتَبَ فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدِيمٍ ثُمَّ مَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ الزُّبَيْرَ فِي رَکْبٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ کَانُوا تِجَارًا قَافِلِينَ مِنْ الشَّأْمِ فَکَسَا الزُّبَيْرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَکْرٍ ثِيَابَ بَيَاضٍ وَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِالْمَدِينَةِ مَخْرَجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَکَّةَ فَکَانُوا يَغْدُونَ کُلَّ غَدَاةٍ إِلَی الْحَرَّةِ فَيَنْتَظِرُونَهُ حَتَّی يَرُدَّهُمْ حَرُّ الظَّهِيرَةِ فَانْقَلَبُوا يَوْمًا بَعْدَ مَا أَطَالُوا انْتِظَارَهُمْ فَلَمَّا أَوَوْا إِلَی بُيُوتِهِمْ أَوْفَی رَجُلٌ مِنْ يَهُودَ عَلَی أُطُمٍ مِنْ آطَامِهِمْ لِأَمْرٍ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَبَصُرَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مُبَيَّضِينَ يَزُولُ بِهِمْ السَّرَابُ فَلَمْ يَمْلِکْ الْيَهُودِيُّ أَنْ قَالَ بِأَعْلَی صَوْتِهِ يَا مَعَاشِرَ الْعَرَبِ هَذَا جَدُّکُمْ الَّذِي تَنْتَظِرُونَ فَثَارَ الْمُسْلِمُونَ إِلَی السِّلَاحِ فَتَلَقَّوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِ الْحَرَّةِ فَعَدَلَ بِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ حَتَّی نَزَلَ بِهِمْ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَذَلِکَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ لِلنَّاسِ وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامِتًا فَطَفِقَ مَنْ جَائَ مِنْ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ لَمْ يَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَيِّي أَبَا بَکْرٍ حَتَّی أَصَابَتْ الشَّمْسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ أَبُو بَکْرٍ حَتَّی ظَلَّلَ عَلَيْهِ بِرِدَائِهِ فَعَرَفَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِکَ فَلَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً وَأُسِّسَ الْمَسْجِدُ الَّذِي أُسِّسَ عَلَی التَّقْوَی وَصَلَّی فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَکِبَ رَاحِلَتَهُ فَسَارَ يَمْشِي مَعَهُ النَّاسُ حَتَّی بَرَکَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ يُصَلِّي فِيهِ يَوْمَئِذٍ رِجَالٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَکَانَ مِرْبَدًا لِلتَّمْرِ لِسُهَيْلٍ وَسَهْلٍ غُلَامَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِي حَجْرِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَرَکَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ هَذَا إِنْ شَائَ اللَّهُ الْمَنْزِلُ ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلَامَيْنِ فَسَاوَمَهُمَا بِالْمِرْبَدِ لِيَتَّخِذَهُ مَسْجِدًا فَقَالَا لَا بَلْ نَهَبُهُ لَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَبَی رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يَقْبَلَهُ مِنْهُمَا هِبَةً حَتَّی ابْتَاعَهُ مِنْهُمَا ثُمَّ بَنَاهُ مَسْجِدًا وَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ مَعَهُمْ اللَّبِنَ فِي بُنْيَانِهِ وَيَقُولُ وَهُوَ يَنْقُلُ اللَّبِنَ هَذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَيْبَرْ هَذَا أَبَرُّ رَبَّنَا وَأَطْهَرْ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْأَجْرَ أَجْرُ الْآخِرَهْ فَارْحَمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ فَتَمَثَّلَ بِشِعْرِ رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يُسَمَّ لِي قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَمْ يَبْلُغْنَا فِي الْأَحَادِيثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَثَّلَ بِبَيْتِ شِعْرٍ تَامٍّ غَيْرَ هَذَا الْبَيْاتِ
یحیی بن بکیر لیث عقیل ابن شہاب عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین (اسلام) سے مزین پایا اور کوئی دن ایسا نہ ہوتا تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام دونوں وقت ہمارے یہاں تشریف نہ لاتے ہوں جب مسلمانوں کو ستایا جانے لگا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بار ادہ ہجرت حبش (گھر سے) نکلے حتیٰ کہ جب (مقام) برک انعماد تک پہنچے تو ابن الدغنہ سے جو (قبیلہ) قارہ کا سردار تھا ملاقات ہوگئی اس نے پوچھا اے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے میری قوم نے نکال دیا ہے میں چاہتا ہوں کہ سیاحی کروں اور اپنے رب کی عبادت کروں ابن الدغنہ نے کہا کہ اے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم جیسا آدمی نہ نکل سکتا ہے نہ نکالا جاسکتا ہے تم فقیر کی مدد کرتے ہو رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتے ہو بے کسوں کی کفالت کرتے ہو مہمان کی ضیافت کرتے ہو اور حق کی راہ میں پیش آنے والے مصائب میں مدد کرتے ہو میں تمہارا حامی ہوں چلو لوٹ چلو اور اپنے وطن میں اپنے رب کی عبادت کرو چنانچہ آپ ابن الدغنہ کے ساتھ واپس آئے پھر ابن الدغنہ نے شام کے وقت تمام اشراف قریش میں چکر لگایا اور ان سے کہا کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا آدمی نہ تو نکل سکتا ہے اور نہ نکالاجا سکتا ہے کیا تم ایسے شخص کو نکالتے ہو جو فقیر کی مدد کرتا ہے رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرتا ہے بے کسوں کی کفالت کرتا ہے مہمانوں کی ضیافت کرتا ہے اور حق کی (راہ میں پیش آنے والے مصائب) میں مدد کرتا ہے پس قریش نے ابن الدغنہ کی امان سے انکار نہ کیا اور ابن الدغنہ سے کہا کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہہ دو کہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کریں گھر میں نماز پڑھیں اور جو جی چاہے پڑھیں اور ہمیں اس سے تکلیف نہ دیں اور زور سے نہ پڑھیں کیونکہ ہمیں خوف ہے کہ ہماری عورتیں اور بچے (اس نئے دین میں) پھنس جائیں گے ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکر سے یہ یہ بات کہہ دی کچھ عرصہ تک حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی طرح اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کرتے رہے نہ زور سے نماز پڑھتے تھے اور نہ گھر کے سوا پڑھتے تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں آیا تو انہوں نے ایک مسجد اپنے گھر کے سامنے بنا لی اور (اب) وہ اس مسجد میں نماز اور قرآن پڑھتے اور مشرکین کی عورتیں اور بیٹے ان کے پاس جمع ہو جاتے اور ان سے خوش ہوتے اور ان کی طرف دیکھتے تھے بات یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (رقت قلبی کی وجہ سے) بڑے رونے والے تھے جب وہ قرآن پڑھا کرتے تو انہیں اپنی آنکھوں پر اختیار نہ رہتا اشراف قریش اس بات سے گھبرا گئے اور انہوں نے ابن الدغنہ کو بلا بھیجا جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے تمہاری امان کی وجہ سے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس شرط پر امان دی تھی کہ وہ اپنے رب کی عبادت کریں مگر وہ اس حد سے بڑھ گئے اور انہوں نے اپنے گھر کے سامنے ایک مسجد بنا ڈالی اور اس میں زور سے نماز و قرآن پڑھتے ہیں اور ہمیں خوف ہے کہ ہماری عورتیں اور بچے نہ پھنس جائیں لہذا انہیں روکو اگر وہ اپنے رب کی عبادت اپنے گھر میں کرنے پر اکتفا کریں تو فبہا اور اگر وہ اعلان کئے بغیر نہ مانیں تو ان سے کہہ دو کہ وہ تمہاری ذمہ داری کو واپس کردیں کیونکہ ہمیں تمہاری بات نیچی کرنا بھی گوارا نہیں اور ہم ابوبکر کو اس اعلان پر چھوڑ بھی نہیں سکتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ابن الدغنہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہا جس بات پر میں نے آپ سے معاہدہ کیا تھا آپ کو معلوم ہے اب یا تو اس پر قائم رہو یا میری ذمہ داری مجھے سونپ دو کیونکہ یہ مجھے گوارا نہیں ہے کہ اہل عرب یہ بات سنیں کہ میں نے جس شخص سے معاہدہ کیا تھا اس کی بابت میری بات نیچی ہوئی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں تمہاری امان تمہیں واپس کرتا ہوں اور اللہ عزوجل کی امان پر راضی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانہ میں مکہ میں تھے پھر نبی نے مسلمانوں سے فرمایا کہ مجھے (خواب) میں تمہاری ہجرت کا مقام دکھایا گیا ہے کہ وہ کھجور کے درخت ہیں اور وہ دو سنگستانوں کے درمیان واقع ہے پھر جس نے بھی ہجرت کی تو مدینہ کی طرف ہجرت کی اور جو لوگ حبشہ کو گئے تھے ان میں سے اکثر مدینہ لوٹ آئے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی تیاری کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم کچھ ٹھہرو کیونکہ مجھے امید ہے کہ مجھے بھی ہجرت کی اجازت مل جائے گی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (فرط مسرت سے) عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان کیا آپ کو ایسی امید ہے پھر حضرت ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کی وجہ سے رک گئے اور دو اونٹنیاں جو ان کے پاس تھیں انہیں چار مہینہ تک کیکر کے پتے کھلاتے رہے ابن شہاب بواسطہ عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ ہم ایک دن ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان میں ٹھیک دوپہر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک کہنے والے نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا (دیکھو) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منہ پر چادر ڈالے ہوئے تشریف لا رہے ہیں آپ کی تشریف آوری ایسے وقت تھی جس میں آپ کبھی تشریف نہ لاتے تھے حضرت ابوبکر نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان بخدا ضرور کوئی بات ہے جبھی تو آپ اس وقت تشریف لائے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ نے اندر آنے کی اجازت مانگی آپ کو اجازت مل گئی آپ اندر تشریف لائے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا اپنے پاس سے اوروں کو ہٹا دو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے (ماں) باپ آپ پر فدا ہوں جائیں یہاں تو صرف آپ کی گھر والی ہیں آپ نے فرمایا مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے بھی رفاقت کا شرف عطا ہو آپ نے فرمایا ہاں (رفیق سفر تم ہو گے) حضرت ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے (ماں) باپ آپ پر قربان میری ایک اونٹنی آپ لے لیجئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم تو بقیمت لیں گے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پھر ہم نے ان دونوں کے لئے جلدی میں جو کچھ تیار ہو سکا تیار کردیا اور ہم نے ان کے لئے چمڑے کی ایک تھیلی میں تھوڑا سا کھانا رکھ دیا اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے ازار بند کا ایک ٹکڑا کاٹ کر اس تھیلی کا منہ اس سے باندھ دیا اسی وجہ سے ان کا لقب (ذات النطاق) ازاربند والی ہوگیا حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر جبل ثور کے ایک غار میں پہنچ گئے اور اس میں تین دن تک چھپے رہے عبداللہ بن ابوبکر جو نوجوان ہشیار اور ذکی لڑکے تھے آپ حضرات کے پاس رات گزارتے اور علی الصبح اندھیرے منہ ان کے پاس سے جا کر مکہ میں قریش کے ساتھ اس طرح صبح کرتے جیسے انہوں نے یہی رات گزاری ہے اور قریش کی ہر وہ بات جس میں ان دونوں حضرات کے متعلق کوئی مکر و تدیبر ہوتی یہ اسے یاد کرکے جب اندھیرا ہوجاتا تو ان دونوں حضرات کو آکر بتا دیتے تھے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ ان کے پاس ہی دن کے وقت بکریاں چراتے اور تھوڑی رات گئے وہ ان دونوں کے پاس بکریاں لے جاتے اور یہ دونوں حضرت ان بکریوں کا دودھ پی کر اطمینان سے رات گزارتے حتیٰ کہ عامر بن فہیرہ صبح اندھیرے منہ ان بکریوں کو ہانک لے جاتے اور ان تین راتوں میں ایسا ہی کرتے رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر نے (قبیلہ) بنو ویل کے ایک آدمی کو جو بنی عبد بن عدی میں سے تھا مزدور رکھا وہ بڑا واقف کار رہبر تھا اور آل عاص بن وائل سہمی کا حلیف تھا اور قریش کے دین پر تھا ان دونوں نے اسے امین بنا کر اپنی دونوں سواریاں اس کے حوالہ کردیں اور تین راتوں کے بعد صبح کو ان دونوں سواریوں کو غار ثور پر لانے کا وعدہ لے لیا ( چنانچہ وہ حسب وعدہ آ گیا) اور ان دونوں حضرات کے ساتھ عامر بن فہیرہ اور رہبر ان کو ساحل کے راستہ پر ڈال کر لے چلا ابن شہاب نے فرمایا سراقہ بن جعشم کے بھتیجے عبدالرحمن بن مالک مدلجی نے بواسطہ اپنے والد کے سراقہ بن جعشم سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس کفار قریش کے قاصد آ پڑے (جو اعلان کر رہے تھے) کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کردے یا پکڑ لائے تو اسے ہر ایک کے عوض سو اونٹ ملیں گے اسی حال میں میں اپنی قوم بنو مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک آدمی آکر ہمارے پاس کھڑا ہوگیا ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ اس نے کہا اے سراقہ میں نے ابھی چند لوگوں کو ساحل پر دیکھا ہے میرا خیال ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی ہیں سراقہ کہتے ہیں کہ میں سمجھ تو گیا کہ یہ وہی لوگ ہیں (مگر میں نے (اسے دھوکہ دینے کے لئے تاکہ وہ میرے حاصل کردہ انعام میں شریک نہ ہو سکے) اس سے کہا یہ وہ لوگ نہیں بلکہ تو نے فلاں فلاں آدمی کو دیکھا ہے جو ابھی ہمارے سامنے سے گئے ہیں پھر میں تھوڑی دیر مجلس میں ٹھہر کر کھڑا ہوگیا اور گھر آکر اپنی باندی کو حکم دیا کہ وہ میرے گھوڑے کو لے جا کر (فلاں) ٹیلہ کے پیچھے میرے لئے پکڑ کر کھڑی رہے اور میں اپنا نیزہ لے کر اس کی نوک سے زمین پر خط کھینچتا ہوا اور اوپر کے حصہ کو جھکائے ہوئے گھر کے پیچھے سے نکل آیا حتیٰ کہ میں اپنے گھوڑے کے پاس آ گیا بس میں نے اپنے گھوڑے کو اڑا دیا کہ وہاں جلد پہنچ سکوں جب میں ان حضرات کے قریب ہوا تو گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور میں گر پڑا فورا میں نے کھڑے ہو کر اپنے ترکش میں ہاتھ ڈالا اور اس میں سے تیر نکالے پھر میں نے ان تیروں سے یہ فال نکالی کہ آیا میں انہیں نقصان پہنچا سکوں گا یا نہیں تو وہ بات نکلی جو مجھے پسند نہیں تھی پھر میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور میں نے ان تیروں کی فال کی پرواہ نہ کی اور گھوڑا مجھے ان کے قریب لے گیا حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت (کی آواز) سنی آپ ادھر ادھر نہیں دیکھ رہے تھے اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ادھر ادھر بہت دیکھ رہے تھے کہ میرے گھوڑے کے اگلے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے اور میں اس کے اوپر سے گر پڑا میں نے اپنے گھوڑے کو للکارا جب وہ (بڑی مشکل سے) سیدھا کھڑا ہوا تو اس کے اگلے پاؤں کی وجہ سے ایک غبار اٹھ کر دھوئیں کی طرح آسمان تک چڑھنے لگا پھر میں نے تیروں سے فال نکالی تو اس میں میری ناپسندیدہ بات نکلی پھر میں نے ان حضرات کو امان طلب کرتے ہوئے پکارا تو یہ ٹھر گئے میں سوار ہو کر ان کے پاس آیا تو ان تک پہنچنے میں مجھے جو موانع پیش آئے ان کے پیش نظر میرے دل میں یہ خیال آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین غالب ہوجائے گا تو میں نے آپ سے عرض کیا کہ آپ کی قوم نے آپ کی گرفتاری یا قتل کے سلسلہ میں سو اونٹ انعام کے مقرر کئے ہیں اور میں نے انہیں وہ تمام خبریں بتا دیں جو لوگوں کا ان کے ساتھ ارادہ تھا اور میں نے ان کے سامنے کھانا اور سامان پیش کیا لیکن انہوں نے کچھ بھی نہ لیا اور نہ مجھ سے کچھ مانگا صرف یہ کہا کہ ہمارا حال چھپانا پھر میں نے آپ سے درخواست کی کہ مجھے ایک امن کی تحریر لکھ دیں آپ نے عامر بن فہیرہ کو حکم دیا انہوں نے چمڑے کے ٹکڑے پر تحریر لکھ دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے ابن شہاب کہتے ہیں کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات زبیر سے ہوئی جو مسلمان تاجروں کے ایک قافلہ میں شام سے آ رہے تھے تو زبیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہننے کے لئے سفید کپڑے دیئے ادھر مدینہ کے مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے نکل آنے کی خبر سن لی تھی تو وہ روزانہ صبح کو مقام حرہ تک (آپ کے استقبال کے لئے) آتے اور آپ کا انتظار کرتے رہتے یہاں تک دوپہر کی گرمی کی وجہ سے واپس چلے جاتے ایک دن وہ طویل انتظار کے بعد واپس چلے گئے اور جب اپنے گھروں میں پہنچ گئے تو اتفاق سے ایک یہودی اپنی کسی چیز کو دیکھنے کے لئے مدینہ کے کسی ٹیلہ پر چڑھا بس اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو سفید (کپڑوں میں ملبوس) دیکھا کہ سراب ان سے چھپ گیا تو وہ یہود بے اختیار بلند آواز سے پکارا کہ اے گروہ عرب! یہ ہے تمہارا نصیب و مقصود جس کا تم انتظار کرتے تھے یہ سنتے ہی مسلمان اپنے اپنے ہتھیار لے کر امنڈ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقامہ حرہ کے پیچھے استقبال کیا آپ نے ان سب کے ساتھ داہنی طرف کا راستہ اختیار کیا حتیٰ کہ آپ نے ماہ ربیع الاول پیر کے دن بنی عمرو بن عوف میں قیام فرمایا پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے رہے جن انصاریوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا تو وہ آتے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام کرتے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ آگئی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اپنی چادر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کردیا اس وقت ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف میں دس دن سے کچھ اور مقیم رہے اور یہیں اس مسجد کی بنیاد ڈالی گئی جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی پھر آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر چلے لوگ آپ کے ساتھ چل رہے تھے یہاں تک کہ وہ اونٹنی مدینہ میں (جہاں اب) مسجد نبوی (ہے اس) کے پاس بیٹھ گئی اور وہاں اس وقت کچھ مسلمان نماز پڑھتے تھے اور وہ زمین دو یتیم بچوں کی تھی جو اسعد بن زرارہ کی تربیت میں تھے اور جن کا نام سہل و سہیل تھا اور ان کی کھجورں کا کھلیان تھی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بیٹھ گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان شاء اللہ یہی ہمارا مقام ہوگا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بچوں کو بلایا اور اس جگہ مسجد بنانے کے لئے آپ نے اس کھلیان کی ان سے قیمت معلوم کی تو انہوں نے کہا (ہم قیمت) نہیں (لیں گے) بلکہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم یہ زمین آپ کو ہبہ کرتے ہیں۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ مسجد کی بنیاد ڈالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کرام کے ساتھ اس کی تعمیر میں اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے اور فرماتے جاتے تھے یہ بوجھ اٹھانا اے ہمارے رب بڑا نیک اور پاکیزہ کام ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اے خدا ثواب تو صرف آخرت کا ہے انصار اور مہاجرین پر رحم فرما پھر آپ نے کسی مسلمان شاعر کا شعر پڑھا جس کا نام مجھے معلوم نہیں بتایا گیا ابن شہاب کہتے ہیں کہ احادیث میں ہمیں یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شعر کے سوا اور شعر کو پورا پڑھا ہو۔
Narrated 'Aisha: (the wife of the Prophet) I never remembered my parents believing in any religion other than the true religion (i.e. Islam), and (I don't remember) a single day passing without our being visited by Allah's Apostle in the morning and in the evening. When the Muslims were put to test (i.e. troubled by the pagans), Abu Bakr set out migrating to the land of Ethiopia, and when he reached Bark-al-Ghimad, Ibn Ad-Daghina, the chief of the tribe of Qara, met him and said, "O Abu Bakr! Where are you going?" Abu Bakr replied, "My people have turned me out (of my country), so I want to wander on the earth and worship my Lord." Ibn Ad-Daghina said, "O Abu Bakr! A man like you should not leave his home-land, nor should he be driven out, because you help the destitute, earn their livings, and you keep good relations with your Kith and kin, help the weak and poor, entertain guests generously, and help the calamity-stricken persons. Therefore I am your protector. Go back and worship your Lord in your town." So Abu Bakr returned and Ibn Ad-Daghina accompanied him. In the evening Ibn Ad-Daghina visited the nobles of Quraish and said to them. "A man like Abu Bakr should not leave his homeland, nor should he be driven out. Do you (i.e. Quraish) drive out a man who helps the destitute, earns their living, keeps good relations with his Kith and kin, helps the weak and poor, entertains guests generously and helps the calamity-stricken persons?" So the people of Quraish could not refuse Ibn Ad-Daghina's protection, and they said to Ibn Ad-Daghina, "Let Abu Bakr worship his Lord in his house. He can pray and recite there whatever he likes, but he should not hurt us with it, and should not do it publicly, because we are afraid that he may affect our women and children." Ibn Ad-Daghina told Abu Bakr of all that. Abu Bakr stayed in that state, worshipping his Lord in his house. He did not pray publicly, nor did he recite Quran outside his house. Then a thought occurred to Abu Bakr to build a mosque in front of his house, and there he used to pray and recite the Quran. The women and children of the pagans began to gather around him in great number. They used to wonder at him and look at him. Abu Bakr was a man who used to weep too much, and he could not help weeping on reciting the Quran. That situation scared the nobles of the pagans of Quraish, so they sent for Ibn Ad-Daghina. When he came to them, they said, "We accepted your protection of Abu Bakr on condition that he should worship his Lord in his house, but he has violated the conditions and he has built a mosque in front of his house where he prays and recites the Quran publicly. We are now afraid that he may affect our women and children unfavorably. So, prevent him from that. If he likes to confine the worship of his Lord to his house, he may do so, but if he insists on doing that openly, ask him to release you from your obligation to protect him, for we dislike to break our pact with you, but we deny Abu Bakr the right to announce his act publicly." Ibn Ad-Daghina went to Abu- Bakr and said, ("O Abu Bakr!) You know well what contract I have made on your behalf; now, you are either to abide by it, or else release me from my obligation of protecting you, because I do not want the 'Arabs hear that my people have dishonored a contract I have made on behalf of another man." Abu Bakr replied, "I release you from your pact to protect me, and am pleased with the protection from Allah." At that time the Prophet was in Mecca, and he said to the Muslims, "In a dream I have been shown your migration place, a land of date palm trees, between two mountains, the two stony tracts." So, some people migrated to Medina, and most of those people who had previously migrated to the land of Ethiopia, returned to Medina. Abu Bakr also prepared to leave for Medina, but Allah's Apostle said to him, "Wait for a while, because I hope that I will be allowed to migrate also." Abu Bakr said, "Do you indeed expect this? Let my father be sacrificed for you!" The Prophet said, "Yes." So Abu Bakr did not migrate for the sake of Allah's Apostle in order to accompany him. He fed two she-camels he possessed with the leaves of As-Samur tree that fell on being struck by a stick for four months. One day, while we were sitting in Abu Bakr's house at noon, someone said to Abu Bakr, "This is Allah's Apostle with his head covered coming at a time at which he never used to visit us before." Abu Bakr said, "May my parents be sacrificed for him. By Allah, he has not come at this hour except for a great necessity." So Allah's Apostle came and asked permission to enter, and he was allowed to enter. When he entered, he said to Abu Bakr. "Tell everyone who is present with you to go away." Abu Bakr replied, "There are none but your family. May my father be sacrificed for you, O Allah's Apostle!" The Prophet said, "i have been given permission to migrate." Abu Bakr said, "Shall I accompany you? May my father be sacrificed for you, O Allah's Apostle!" Allah's Apostle said, "Yes." Abu Bakr said, "O Allah's Apostle! May my father be sacrificed for you, take one of these two she-camels of mine." Allah's Apostle replied, "(I will accept it) with payment." So we prepared the baggage quickly and put some journey food in a leather bag for them. Asma, Abu Bakr's daughter, cut a piece from her waist belt and tied the mouth of the leather bag with it, and for that reason she was named Dhat-un-Nitaqain (i.e. the owner of two belts). Then Allah's Apostle and Abu Bakr reached a cave on the mountain of Thaur and stayed there for three nights. 'Abdullah bin Abi Bakr who was intelligent and a sagacious youth, used to stay (with them) aver night. He used to leave them before day break so that in the morning he would be with Quraish as if he had spent the night in Mecca. He would keep in mind any plot made against them, and when it became dark he would (go and) inform them of it. 'Amir bin Fuhaira, the freed slave of Abu Bakr, used to bring the milch sheep (of his master, Abu Bakr) to them a little while after nightfall in order to rest the sheep there. So they always had fresh milk at night, the milk of their sheep, and the milk which they warmed by throwing heated stones in it. 'Amir bin Fuhaira would then call the herd away when it was still dark (before daybreak). He did the same in each of those three nights. Allah's Apostle and Abu Bakr had hired a man from the tribe of Bani Ad-Dail from the family of Bani Abd bin Adi as an expert guide, and he was in alliance with the family of Al-'As bin Wail As-Sahmi and he was on the religion of the infidels of Quraish. The Prophet and Abu Bakr trusted him and gave him their two she-camels and took his promise to bring their two she camels to the cave of the mountain of Thaur in the morning after three nights later. And (when they set out), 'Amir bin Fuhaira and the guide went along with them and the guide led them along the sea-shore. The nephew of Suraqa bin Ju'sham said that his father informed him that he heard Suraqa bin Ju'sham saying, "The messengers of the heathens of Quraish came to us declaring that they had assigned for the persons why would kill or arrest Allah's Apostle and Abu Bakr, a reward equal to their bloodmoney. While I was sitting in one of the gatherings of my tribe. Bani Mudlij, a man from them came to us and stood up while we were sitting, and said, "O Suraqa! No doubt, I have just seen some people far away on the seashore, and I think they are Muhammad and his companions." Suraqa added, "I too realized that it must have been they. But I said 'No, it is not they, but you have seen so-and-so, and so-and-so whom we saw set out.' I stayed in the gathering for a while and then got up and left for my home. and ordered my slave-girl to get my horse which was behind a hillock, and keep it ready for me. Then I took my spear and left by the back door of my house dragging the lower end of the spear on the ground and keeping it low. Then I reached my horse, mounted it and made it gallop. When I approached them (i.e. Muhammad and Abu Bakr), my horse stumbled and I fell down from it, Then I stood up, got hold of my quiver and took out the divining arrows and drew lots as to whether I should harm them (i.e. the Prophet and Abu Bakr) or not, and the lot which I disliked came out. But I remounted my horse and let it gallop, giving no importance to the divining arrows. When I heard the recitation of the Quran by Allah's Apostle who did not look hither and thither while Abu Bakr was doing it often, suddenly the forelegs of my horse sank into the ground up to the knees, and I fell down from it. Then I rebuked it and it got up but could hardly take out its forelegs from the ground, and when it stood up straight again, its fore-legs caused dust to rise up in the sky like smoke. Then again I drew lots with the divining arrows, and the lot which I disliked, came out. So I called upon them to feel secure. They stopped, and I remounted my horse and went to them. When I saw how I had been hampered from harming them, it came to my mind that the cause of Allah's Apostle (i.e. Islam) will become victorious. So I said to him, "Your people have assigned a reward equal to the bloodmoney for your head." Then I told them all the plans the people of Mecca had made concerning them. Then I offered them some journey food and goods but they refused to take anything and did not ask for anything, but the Prophet said, "Do not tell others about us." Then I requested him to write for me a statement of security and peace. He ordered 'Amr bin Fuhaira who wrote it for me on a parchment, and then Allah's Apostle proceeded on his way. Narrated 'Urwa bin Az-Zubair: Allah's Apostle met Az-Zubair in a caravan of Muslim merchants who were returning from Sham. Az-Zubair provided Allah's Apostle and Abu Bakr with white clothes to wear. When the Muslims of Medina heard the news of the departure of Allah's Apostle from Mecca (towards Medina), they started going to the Harra every morning . They would wait for him till the heat of the noon forced them to return. One day, after waiting for a long while, they returned home, and when they went into their houses, a Jew climbed up the roof of one of the forts of his people to look for some thing, and he saw Allah's Apostle and his companions dressed in white clothes, emerging out of the desert mirage. The Jew could not help shouting at the top of his voice, "O you 'Arabs! Here is your great man whom you have been waiting for!" So all the Muslims rushed to their arms and received Allah's Apostle on the summit of Harra. The Prophet turned with them to the right and alighted at the quarters of Bani 'Amr bin 'Auf, and this was on Monday in the month of Rabi-ul-Awal. Abu Bakr stood up, receiving the people while Allah's Apostle sat down and kept silent. Some of the Ansar who came and had not seen Allah's Apostle before, began greeting Abu Bakr, but when the sunshine fell on Allah's Apostle and Abu Bakr came forward and shaded him with his sheet only then the people came to know Allah's Apostle. Allah's Apostle stayed with Bani 'Amr bin 'Auf for ten nights and established the mosque (mosque of Quba) which was founded on piety. Allah's Apostle prayed in it and then mounted his she-camel and proceeded on, accompanied by the people till his she-camel knelt down at (the place of) the Mosque of Allah's Apostle at Medina. Some Muslims used to pray there in those days, and that place was a yard for drying dates belonging to Suhail and Sahl, the orphan boys who were under the guardianship of 'Asad bin Zurara. When his she-camel knelt down, Allah's Apostle said, "This place, Allah willing, will be our abiding place." Allah's Apostle then called the two boys and told them to suggest a price for that yard so that he might take it as a mosque. The two boys said, "No, but we will give it as a gift, O Allah's Apostle!" Allah's Apostle then built a mosque there. The Prophet himself started carrying unburnt bricks for its building and while doing so, he was saying "This load is better than the load of Khaibar, for it is more pious in the Sight of Allah and purer and better rewardable." He was also saying, "O Allah! The actual reward is the reward in the Hereafter, so bestow Your Mercy on the Ansar and the Emigrants." Thus the Prophet recited (by way of proverb) the poem of some Muslim poet whose name is unknown to me. (Ibn Shibab said, "In the Hadiths it does not occur that Allah's Apostle recited a complete poetic verse other than this one.")
Narrated by Asma
حَدَّثَنَي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ وَفَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَائَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا صَنَعْتُ سُفْرَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ حِينَ أَرَادَا الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ لِأَبِي مَا أَجِدُ شَيْئًا أَرْبِطُهُ إِلَّا نِطَاقِي قَالَ فَشُقِّيهِ فَفَعَلْتُ فَسُمِّيتُ ذَاتَ النِّطَاقَيْنِ
عبداللہ بن ابی شیبہ ابواسامہ ہشام ان کے والد اور فاطمہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب مدینہ جانے کا ارادہ کیا تو میں نے ان کے لئے کھانا تیار کیا اور میں نے اپنے والد سے کہا کہ تجھے اس (توشہ دان کے منہ) کو باندھنے کے لئے سوائے میرے ازار کے کچھ نہیں ملتا تو میرے والد (ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے فرمایا کہ اسے پھاڑ ڈالو چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اسی لئے میرا لقب ذات النطاقین پڑ گیا۔
Narrated Asma: I prepared the journey food for the Prophet and Abu Bakr when they wanted (to migrate to) Medina. I said to my father (Abu Bakr), "I do not have anything to tie the container of the journey food with except my waist belt." He said, "Divide it lengthwise into two." I did so, and for this reason I was named 'Dhat-un-Nitaqain' (i.e. the owner of two belts). (Ibn 'Abbas said, "Asma', Dhat-un-Nitaq.")
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَدِينَةِ تَبِعَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاخَتْ بِهِ فَرَسُهُ قَالَ ادْعُ اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّکَ فَدَعَا لَهُ قَالَ فَعَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِرَاعٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ کُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ فَشَرِبَ حَتَّی رَضِيتُ
محمد بن بشار غندر شعبہ ابواسحاق حضرت براء بن عازب سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی جانب روانہ ہوئے تو سراقہ بن مالک بن جعشم آپ کے پیچھے لگ گیا آپ نے اس کے لئے بد دعا کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا اور اس نے کہا آپ اللہ سے میرے لئے دعا کیجئے میں آپ کو ضرر نہیں پہنچاؤں گا چنانچہ آپ نے اس کے لئے دعا کردی پھر آپ کو پیاس لگی تو ایک چرواہے کے پاس سے گزر ہوا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک پیالہ لیا اور اس میں تھوڑا دودھ دوہا پھر آپ کے پاس لایا تو آپ نے پیا حتیٰ کہ میں خوش ہوگیا۔
Narrated Al-Bara: When the Prophet migrated to Medina, Suraqa bin Malik bin Ju'sham pursued him. The Prophet invoked evil on him, therefore the forelegs of his horse sank into the ground. Suraqa said (to the Prophet ), "Invoke Allah to rescue me, and I will not harm you. "The Prophet invoked Allah for him. Then Allah's Apostle felt thirsty and he passed by a shepherd. Abu Bakr said, "I took a bowl and milked a little milk in it and brought it to the Prophet and he drank till I was pleased."
Narrated by Asma
حَدَّثَنِي زَکَرِيَّائُ بْنُ يَحْيَی عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَائَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَائٍ فَوَلَدْتُهُ بِقُبَائٍ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَکَانَ أَوَّلَ شَيْئٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ حَنَّکَهُ بِتَمْرَةٍ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّکَ عَلَيْهِ وَکَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ تَابَعَهُ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَائَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَی
زکریا بن یحیی ابواسامہ ہشام بن عروہ ان کے والد حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر ان کے پیٹ میں تھے وہ کہتی ہیں کہ میں پورے دنوں سے تھی کہ چل پڑی اور مدینہ آئی پھر میں قبا میں مقیم ہوگئی تو قباء میں ہی عبداللہ پیدا ہوئے تو میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئی اور ان کو آپ کی گود میں رکھ دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور منگائی اور اسے چبا کر ان کے منہ میں ڈال دی اور برکت کے لئے دعا دی اور یہ سب سے پہلے بچہ ہیں جو اسلام میں (ہجرت کے بعد) پیدا ہوئے اس کے متابع حدیث خالد بن مخلد نے بواسطہ علی بن مسہر ہشام ان کے والد حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے اس طرح روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف حالت حمل میں ہجرت کی تھی۔
Narrated Asma: That she conceived 'Abdullah bin Az-Zubair. She added, "I migrated to Medina while I was at full term of pregnancy and alighted at Quba where I gave birth to him. Then I brought him to the Prophet and put him in his lap. The Prophet asked for a date, chewed it, and put some of its juice in the child's mouth. So, the first thing that entered the child's stomach was the saliva of Allah's Apostle. Then the Prophet rubbed the child's palate with a date and invoked for Allah's Blessings on him, and he was the first child born amongst the Emigrants in the Islamic Land (i.e. Medina).
Narrated by Aisha
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً فَلَاکَهَا ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي فِيهِ فَأَوَّلُ مَا دَخَلَ بَطْنَهُ رِيقُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قتیبہ ابواسامہ ہشام بن عروہ ان کے والد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ سب سے پہلے بچہ جو اسلام میں (ہجرت کے بعد) پیدا ہوا وہ عبداللہ بن زبیر ہے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے آپ نے ایک کھجور لے کر چبائی پھر ان کے منہ میں ڈال دی ان کے پیٹ میں سب سے پہلے جانے والی چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک ہے۔
Narrated Aisha: The first child who was born in the Islamic Land (i.e. Medina) amongst the Emigrants, was 'Abdullah bin Az-Zubair. They brought him to the Prophet. The Prophet took a date, and after chewing it, put its juice in his mouth. So the first thing that went into the child's stomach, was the saliva of the Prophet
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُرْدِفٌ أَبَا بَکْرٍ وَأَبُو بَکْرٍ شَيْخٌ يُعْرَفُ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَابٌّ لَا يُعْرَفُ قَالَ فَيَلْقَی الرَّجُلُ أَبَا بَکْرٍ فَيَقُولُ يَا أَبَا بَکْرٍ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْکَ فَيَقُولُ هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي السَّبِيلَ قَالَ فَيَحْسِبُ الْحَاسِبُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَعْنِي الطَّرِيقَ وَإِنَّمَا يَعْنِي سَبِيلَ الْخَيْرِ فَالْتَفَتَ أَبُو بَکْرٍ فَإِذَا هُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَهُمْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا فَالْتَفَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ فَصَرَعَهُ الْفَرَسُ ثُمَّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ قَالَ فَقِفْ مَکَانَکَ لَا تَتْرُکَنَّ أَحَدًا يَلْحَقُ بِنَا قَالَ فَکَانَ أَوَّلَ النَّهَارِ جَاهِدًا عَلَی نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ آخِرَ النَّهَارِ مَسْلَحَةً لَهُ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَانِبَ الْحَرَّةِ ثُمَّ بَعَثَ إِلَی الْأَنْصَارِ فَجَائُوا إِلَی نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِمَا وَقَالُوا ارْکَبَا آمِنَيْنِ مُطَاعَيْنِ فَرَکِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ وَحَفُّوا دُونَهُمَا بِالسِّلَاحِ فَقِيلَ فِي الْمَدِينَةِ جَائَ نَبِيُّ اللَّهِ جَائَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشْرَفُوا يَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ جَائَ نَبِيُّ اللَّهِ جَائَ نَبِيُّ اللَّهِ فَأَقْبَلَ يَسِيرُ حَتَّی نَزَلَ جَانِبَ دَارِ أَبِي أَيُّوبَ فَإِنَّهُ لَيُحَدِّثُ أَهْلَهُ إِذْ سَمِعَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَهُوَ فِي نَخْلٍ لِأَهْلِهِ يَخْتَرِفُ لَهُمْ فَعَجِلَ أَنْ يَضَعَ الَّذِي يَخْتَرِفُ لَهُمْ فِيهَا فَجَائَ وَهِيَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی أَهْلِهِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ بُيُوتِ أَهْلِنَا أَقْرَبُ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذِهِ دَارِي وَهَذَا بَابِي قَالَ فَانْطَلِقْ فَهَيِّئْ لَنَا مَقِيلًا قَالَ قُومَا عَلَی بَرَکَةِ اللَّهِ فَلَمَّا جَائَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّکَ جِئْتَ بِحَقٍّ وَقَدْ عَلِمَتْ يَهُودُ أَنِّي سَيِّدُهُمْ وَابْنُ سَيِّدِهِمْ وَأَعْلَمُهُمْ وَابْنُ أَعْلَمِهِمْ فَادْعُهُمْ فَاسْأَلْهُمْ عَنِّي قَبْلَ أَنْ يَعْلَمُوا أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ فَإِنَّهُمْ إِنْ يَعْلَمُوا أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ قَالُوا فِيَّ مَا لَيْسَ فِيَّ فَأَرْسَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلُوا فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ وَيْلَکُمْ اتَّقُوا اللَّهَ فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّکُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا وَأَنِّي جِئْتُکُمْ بِحَقٍّ فَأَسْلِمُوا قَالُوا مَا نَعْلَمُهُ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ فَأَيُّ رَجُلٍ فِيکُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ قَالُوا ذَاکَ سَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا وَأَعْلَمُنَا وَابْنُ أَعْلَمِنَا قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ قَالُوا حَاشَی لِلَّهِ مَا کَانَ لِيُسْلِمَ قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ قَالُوا حَاشَی لِلَّهِ مَا کَانَ لِيُسْلِمَ قَالَ أَفَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ قَالُوا حَاشَی لِلَّهِ مَا کَانَ لِيُسْلِمَ قَالَ يَا ابْنَ سَلَامٍ اخْرُجْ عَلَيْهِمْ فَخَرَجَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ اتَّقُوا اللَّهَ فَوَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنَّکُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ جَائَ بِحَقٍّ فَقَالُوا کَذَبْتَ فَأَخْرَجَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد عبدالصمد ان کے والد عبدالعزیز بن صہیب انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور آپ کے پیچھے (اپنی سواری پر) ابوبکر تھے ابوبکرچونکہ تجارت وغیرہ کے سلسلہ میں رہتے تھے اس لئے وہ مثل اس بوڑھے آدمی کے تھے جسے لوگ جانتے پہچانتے (ہوں) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ چونکہ باہر کے لوگوں سے نہ پڑا تھا اس لئے وہ مثل اس جوان کے تھے جسے لوگ نہ پہچانتے ہوں لہذا راستہ میں جب بھی کوئی آدمی ابوبکر کو ملتا تو وہ ان سے پوچھتا اے ابوبکر تمہارے سامنے یہ کون شخص ہے؟ تو ابوبکر جواب دیتے کہ یہ مجھے راستہ بتانے والا ہے تو سمجھنے والا اس سے معروف راستہ سمجھتا حالانکہ ابوبکر کی مراد نیکی کا راستہ تھی پھر ابوبکر نے ایک جگہ پیچھے مڑ کر دیکھا کہ ایک سوار ان تک پہنچنا چاہتا ہے فورا ابوبکر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سوار ہم تک پہنچنا چاہتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کر دیکھا تو فرمایا اے اللہ اسے گرا دے چنانچہ وہ گھوڑے سے گر پڑا پھر وہ گھوڑا کھڑا ہو کر آواز نکالنے لگا اس سوار نے کہا یا رسول اللہ! آپ جس بات کا چاہیں مجھے حکم دیجئے آپ نے فرمایا کہ تم اسی جگہ کھڑے رہو اور کسی کو ہم تک نہ پہنچنے دو انس کہتے ہیں خدا کی قدرت ہے کہ صبح کو وہ شخص آپ کا دشمن تھا اور شام کو آپ کا دوست بن گیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مقام حرہ) میں اترے اور آپ نے انصار کو بلوا بھیجا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان دونوں حضرات کو انہوں نے سلام کیا اور ان سے عرض کیا نہایت اطمینان کے ساتھ سوار ہو کر چلئے ہم آپ کے مطیع ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر سوار ہو گئے اور تمام انصار نے انہیں ہتھیاروں سے گھیر لیا (اس وقت) مدینہ میں ایک شور مچ گیا کہ اللہ کے رسول آ گئے اللہ کے رسول آ گئے لوگ بلندیوں پر چڑھ چڑھ کر دیکھتے تھے اور کہتے تھے اللہ کے رسول آ گئے اللہ کے رسول آ گئے آپ برابر چلتے رہے یہاں تک کہ ابوایوب انصاری کے مکان کے قریب اترے آپ ان کے گھر والوں سے باتیں کر رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن سلام نے آپ کی تشریف آوری کی خبر سنی اور وہ اس وقت اپنے گھر والوں کے باغ میں کھجوریں توڑ رہے تھے (یہ خبر سنتے ہی) وہ توڑی ہوئی کھجوریں جلدی سے رکھ کر اپنے ساتھ لئے ہوئے آ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سن کر پھر اپنے گھر چلے گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے لوگوں میں سے کس کا گھر یہاں سے قریب ہے؟ ابوایوب نے عرض کیا میں ہوں یا رسول اللہ! یہ میرا گھر ہے اور یہ اس کا دروازہ ہے آپ نے فرمایا تو جاؤ اور ہمارے آرام کرنے کا سامان کرو انہوں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ کی برکت ہے آپ دونوں صاحبان تشریف لے چلئے پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو حضرت عبداللہ بن سلام آئے اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور آپ سچا مذہب لے کر آئے ہیں یہودی جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار اور سردار کا بیٹا ہوں ان کا بڑا عالم اور بڑے عالم کا بیٹا ہوں آپ انہیں بلائیے اور میرے اسلام کا انہیں علم ہونے سے پہلے ان سے میرے بارے میں معلومات کیجئے کیونکہ اگر انہیں میرے اسلام لانے کا علم ہوگیا تو پھر وہ میری نسبت ایسی باتیں کہیں گے جو مجھ میں نہیں ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا جب وہ اندر داخل ہو گئے تو آپ نے فرمایا اے جماعت یہود! تمہارا ناس ہو اللہ سے ڈرو کیونکہ اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں اور سچا مذہب لے کر تمہارے پاس آیا ہوں لہذا مسلمان ہو جاؤ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بات معلوم نہیں ہے تین مرتبہ یہی کہا آپ نے فرمایا اچھا بتاؤ عبداللہ بن سلام تم میں کیسے شخص ہیں؟ انہوں نے کہا وہ ہمارے سردار اور سردار کے بیٹے بڑے عالم کے بیٹے ہیں آپ نے فرمایا اچھا بتاؤ اگر وہ مسلمان ہو جائیں انہوں نے کہا خدا نہ کرے وہ مسلمان کیسے ہو سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا اچھا بتاؤ اگر وہ مسلمان ہو جائیں انہوں نے کہا خدا نہ کرے وہ تو مسلمان ہو ہی نہیں سکتے آپ نے فرمایا بتاؤ اگر وہ مسلمان ہو جائیں۔ انہوں نے کہا خدا نہ کرے وہ مسلمان ہو ہی نہیں سکتے آپ نے فرمایا اے ابن سلام ذرا ان کے سامنے تو آؤ وہ باہر نکلے اور کہا اے جماعت یہود! اللہ سے ڈرو کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں یقینا تم جانتے ہو کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور سچا مذہب لے کر آئے ہیں یہودی کہنے لگے تم جھوٹے ہو پھر آپ نے ان کو باہر نکلوایا۔
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle arrived at Medina with Abu Bakr, riding behind him on the same camel. Abu Bakr was an elderly man known to the people, while Allah's Apostle was a youth that was unknown. Thus, if a man met Abu Bakr, he would day, "O Abu Bakr! Who is this man in front of you?" Abu Bakr would say, "This man shows me the Way," One would think that Abu Bakr meant the road, while in fact, Abu Bakr meant the way of virtue and good. Then Abu Bakr looked behind and saw a horse-rider persuing them. He said, "O Allah's Apostle! This is a horse-rider persuing us." The Prophet looked behind and said, "O Allah! Cause him to fall down." So the horse threw him down and got up neighing. After that the rider, Suraqa said, "O Allah's Prophet! Order me whatever you want." The Prophet said, "Stay where you are and do not allow anybody to reach us." So, in the first part of the day Suraqa was an enemy of Allah's Prophet and in the last part of it, he was a protector. Then Allah's Apostle alighted by the side of the Al-Harra and sent a message to the Ansar, and they came to Allah's Prophet and Abu Bakr, and having greeted them, they said, "Ride (your she-camels) safe and obeyed." Allah's Apostle and Abu Bakr rode and the Ansar, carrying their arms, surrounded them. The news that Allah's Prophet had come circulated in Medina. The people came out and were eagerly looking and saying "Allah's Prophet has come! Allah's Prophet has come! So the Prophet went on till he alighted near the house of Abu Aiyub. While the Prophet was speaking with the family members of Abu Aiyub, 'Abdullah bin Salam heard the news of his arrival while he himself was picking the dates for his family from his family garden. He hurried to the Prophet carrying the dates which he had collected for his family from the garden. He listened to Allah's Prophet and then went home. Then Allah's Prophet said, "Which is the nearest of the houses of our Kith and kin?" Abu Aiyub replied, "Mine, O Allah's Prophet! This is my house and this is my gate." The Prophet said, "Go and prepare a place for our midday rest." Abu Aiyub said, "Get up (both of you) with Allah's Blessings." So when Allah's Prophet went into the house, 'Abdullah bin Salaim came and said "I testify that you (i.e. Muhammad) are Apostle of Allah and that you have come with the Truth. The Jews know well that I am their chief and the son of their chief and the most learned amongst them and the son of the most learned amongst them. So send for them (i.e. Jews) and ask them about me before they know that I have embraced Islam, for if they know that they will say about me things which are not correct." So Allah's Apostle sent for them, and they came and entered. Allah's Apostle said to them, "O (the group of) Jews! Woe to you: be afraid of Allah. By Allah except Whom none has the right to be worshipped, you people know for certain, that I am Apostle of Allah and that I have come to you with the Truth, so embrace Islam." The Jews replied, "We do not know this." So they said this to the Prophet and he repeated it thrice. Then he said, "What sort of a man is 'Abdullah bin Salam amongst you?" They said, "He is our chief and the son of our chief and the most learned man, and the son of the most learned amongst us." He said, "What would you think if he should embrace Islam?" They said, "Allah forbid! He can not embrace Islam." He said, " What would you think if he should embrace Islam?" They said, "Allah forbid! He can not embrace Islam." He said, "What would you think if he should embrace Islam?" They said, "Allah forbid! He can not embrace Islam." He said, "O Ibn Salaim! Come out to them." He came out and said, "O (the group of) Jews! 8e afraid of Allah except Whom none has the right to be worshipped. You know for certain that he is Apostle of Allah and that he has brought a True Religion!' They said, "You tell a lie." On that Allah's Apostle turned them out.
Narrated by Ibn Umar
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ فَرَضَ لِلْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ أَرْبَعَةَ آلَافٍ فِي أَرْبَعَةٍ وَفَرَضَ لِابْنِ عُمَرَ ثَلَاثَةَ آلَافٍ وَخَمْسَ مِائَةٍ فَقِيلَ لَهُ هُوَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ فَلِمَ نَقَصْتَهُ مِنْ أَرْبَعَةِ آلَافٍ فَقَالَ إِنَّمَا هَاجَرَ بِهِ أَبَوَاهُ يَقُولُ لَيْسَ هُوَ کَمَنْ هَاجَرَ بِنَفْسِهِ
ابراہیم بن موسیٰ ہشام ابن جریج عبیداللہ بن عمر نافع حضرت ابن عمر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہاجرین اولین کا وظیفہ چار ہزار درہم سالانہ مقرر کیا اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (اپنے بیٹے) کا ساڑھے تین ہزار تو ان سے کہا گیا کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تو مہاجر ہیں آپ نے ان کا وظیفہ کیوں چار ہزار سے کم کردیا ہے آپ نے فرمایا کہ انہوں نے اپنے ماں باپ کے ساتھ ہجرت کی تھی مطلب آپ کا یہ تھا کہ یہ ان لوگوں کی طرح نہیں ہیں جنہوں نے تنہا ہجرت کی ہے۔
Narrated Ibn Umar: Umar bin Al-Khattab fixed a grant of 4000 (Dirhams) for every Early Emigrant (i.e. Muhajir) and fixed a grant of 3500 (Dirhams) only for Ibn 'Umar. Somebody said to 'Umar, "Ibn 'Umar is also one of the Early Emigrants; why do you give him less than four-thousand?" 'Umar replied, "His parents took him with them when they migrated, so he was not like the one who had migrated by himself.
Narrated by Khabbab
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن کثیر سفیان اعمش ابووائل حضرت خباب سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی۔
Narrated Khabbab: We migrated with Allah's Apostle (See Hadith No. 253 below).
Narrated by Khabbab
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا خَبَّابٌ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ وَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَی اللَّهِ فَمِنَّا مَنْ مَضَی لَمْ يَأْکُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا نُکَفِّنُهُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً کُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ فَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ بِهَا وَنَجْعَلَ عَلَی رِجْلَيْهِ مِنْ إِذْخِرٍ وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا
مسدد یحیی اعمش شقیق بن سلمہ حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محض لوجہ اللہ ہجرت کی اور ہمارا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں جمع ہوگیا اب ہم میں سے بعض وہ ہیں جو دنیا سے اس طرح گزر گئے کہ انہوں نے اپنے اجر میں سے (دنیا میں) کچھ بھی نہیں لیا انہیں میں سے مصعب بن عمیر بھی ہیں جو احد کے دن شہید ہوئے تو ہمیں ان کو کفن دینے کے لئے علاوہ ایک کمبل کے کچھ بھی نہ ملا وہ کمبل بھی اتنا چھوٹا تھا کہ جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے اور جب پاؤں ڈھانپتے تو سر کھل جاتا تو ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ ہم کمبل سے سر چھپا دیں اور پاؤں اذخر گھاس سے ڈھانپ دیں اور بعض ہم میں سے وہ ہیں کہ ان کے لئے ان کا پھل دنیا ہی میں پک گیا اور وہ اس سے نفع اندوز ہو رہے ہیں۔
Narrated Khabbab: We migrated with Allah's Apostle seeking Allah's Countenance, so our rewards became due and sure with Allah. Some of us passed away without eating anything of their rewards in this world. One of these was Mus'ab bin 'Umar who was martyred on the day of the battle of Uhud. We did not find anything to shroud his body with except a striped cloak. When we covered his head with it, his feet remained uncovered, and when we covered his feet with it, his head remained uncovered. So Allah's Apostle ordered us to cover his head with it and put some Idhkhir (i.e. a kind of grass) over his feet. And there are some amongst us whose fruits have ripened and they are collecting them (i.e. they have received their rewards in this world).
Narrated by Abu Burda Bin Abi Musa Al-Ashari
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ هَلْ تَدْرِي مَا قَالَ أَبِي لِأَبِيکَ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَإِنَّ أَبِي قَالَ لِأَبِيکَ يَا أَبَا مُوسَی هَلْ يَسُرُّکَ إِسْلَامُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِجْرَتُنَا مَعَهُ وَجِهَادُنَا مَعَهُ وَعَمَلُنَا کُلُّهُ مَعَهُ بَرَدَ لَنَا وَأَنَّ کُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ کَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ فَقَالَ أَبِي لَا وَاللَّهِ قَدْ جَاهَدْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْنَا وَصُمْنَا وَعَمِلْنَا خَيْرًا کَثِيرًا وَأَسْلَمَ عَلَی أَيْدِينَا بَشَرٌ کَثِيرٌ وَإِنَّا لَنَرْجُو ذَلِکَ فَقَالَ أَبِي لَکِنِّي أَنَا وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِکَ بَرَدَ لَنَا وَأَنَّ کُلَّ شَيْئٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدُ نَجَوْنَا مِنْهُ کَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَاکَ وَاللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَبِي
یحیی بن بشر روح عوف معاویہ بن قرہ حضرت ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میرے والد نے آپ کے والد سے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا نہیں تو انہوں نے کہا کہ میرے والد نے آپ کے والد سے یہ فرمایا تھا کہ اے ابوموسیٰ کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا اسلام ہماری ہجرت ہمارا جہاد اور ہر وہ کام جو ہم نے آپ کے ساتھ یعنی آپ کے زمانہ میں کیا قائم رہے یعنی اس کا ثواب ہم کو مل جائے اور جتنے ہم نے عمل آپ کے بعد کئے ہیں ان سے برابر چھوٹ جائیں کہ نہ نیکیوں کا ثواب ملے اور نہ گناہوں کا عذاب تو آپ کے والد نے میرے والد سے کہا نہیں بھائی بخدا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جہاد کئے نمازیں پڑھیں روزے رکھے بہت سے نیک کام کئے اور بہت سے آدمی ہمارے ہاتھوں پر اسلام لائے اور ہمیں ان کے ثواب کی امید ہے میرے والد نے کہا لیکن میں اس ذات کی قسم کھاتا ہوں جس کے قبضہ میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جان ہے یہ چاہتا ہوں کہ ہمارا وہ عمل تو باقی رہے اور جتنے اعمال ہم نے آپ کے بعد کئے ہیں ان سے برابر چھوٹ جائیں تو میں نے کہا بخدا! آپ کے والد میرے والد سے افضل ہیں۔
Narrated Abu Burda Bin Abi Musa Al-Ashari: 'Abdullah bin 'Umar said to me, "Do you know what my father said to your father once?" I said, "No." He said, "My father said to your father, 'O Abu Musa, will it please you that we will be rewarded for our conversion to Islam with Allah's Apostle and our migration with him, and our Jihad with him and all our good deeds which we did, with him, and that all the deeds we did after his death will be disregarded whether good or bad?' Your father (i.e. Abu Musa) said, 'No, by Allah, we took part in Jihad after Allah's Apostle , prayed and did plenty of good deeds, and many people have embraced Islam at our hands, and no doubt, we expect rewards from Allah for these good deeds.' On that my father (i.e. 'Umar) said, 'As for myself, By Him in Whose Hand 'Umar's soul is, I wish that the deeds done by us at the time of the Prophet remain rewardable while whatsoever we did after the death of the Prophet be enough to save us from Punishment in that the good deeds compensate for the bad ones.' " On that I said (to Ibn 'Umar), "By Allah, your father was better than my father!"
Narrated by Abu 'Uthman
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَبَّاحٍ أَوْ بَلَغَنِي عَنْهُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا قِيلَ لَهُ هَاجَرَ قَبْلَ أَبِيهِ يَغْضَبُ قَالَ وَقَدِمْتُ أَنَا وَعُمَرُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَاهُ قَائِلًا فَرَجَعْنَا إِلَی الْمَنْزِلِ فَأَرْسَلَنِي عُمَرُ وَقَالَ اذْهَبْ فَانْظُرْ هَلْ اسْتَيْقَظَ فَأَتَيْتُهُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَبَايَعْتُهُ ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَی عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهُ قَدْ اسْتَيْقَظَ فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ نُهَرْوِلُ هَرْوَلَةً حَتَّی دَخَلَ عَلَيْهِ فَبَايَعَهُ ثُمَّ بَايَعْتُهُ
محمد بن صباح اسماعیل عاصم ابوعثمان فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا جاتا کہ انہوں نے اپنے والد سے پہلے ہجرت کی ہے تو وہ ناراض ہو جاتے اور فرماتے کہ (ہجرت کرکے) میں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ہم نے آپ کو سوتا ہوا پایا تو ہم گھر کو واپس چلے گئے پھر مجھے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھیجا اور کہا کہ جا کر دیکھو کیا آپ بیدار ہو گئے ہیں؟ میں آپ کے پاس آیا اور اندر چلا گیا پھر میں نے آپ سے بیعت کی پھر میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ آپ بیدار ہو چکے ہیں لہذا ہم دونوں دوڑتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر چلے گئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی پھر میں نے بیعت کی۔
Narrated Abu 'Uthman: I heard that Ibn 'Umar used to become angry if someone mentioned that he had migrated before his father ('Umar), and he used to say, " 'Umar and I came to Allah's Apostle and found him having his midday rest, so we returned home. Then 'Umar sent me again (to the Prophet ) and said, 'Go and see whether he is awake.' I went to him and entered his place and gave him the pledge of allegiance. Then I went back to 'Umar and informed him that the Prophet was awake. So we both went, running slowly, and when 'Umar entered his place, he gave him the pledge of allegiance and thereafter I too gave him the pledge of allegiance,"
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يُحَدِّثُ قَالَ ابْتَاعَ أَبُو بَکْرٍ مِنْ عَازِبٍ رَحْلًا فَحَمَلْتُهُ مَعَهُ قَالَ فَسَأَلَهُ عَازِبٌ عَنْ مَسِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُخِذَ عَلَيْنَا بِالرَّصَدِ فَخَرَجْنَا لَيْلًا فَأَحْثَثْنَا لَيْلَتَنَا وَيَوْمَنَا حَتَّی قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ ثُمَّ رُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ فَأَتَيْنَاهَا وَلَهَا شَيْئٌ مِنْ ظِلٍّ قَالَ فَفَرَشْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْوَةً مَعِي ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ قَدْ أَقْبَلَ فِي غُنَيْمَةٍ يُرِيدُ مِنْ الصَّخْرَةِ مِثْلَ الَّذِي أَرَدْنَا فَسَأَلْتُهُ لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ فَقَالَ أَنَا لِفُلَانٍ فَقُلْتُ لَهُ هَلْ فِي غَنَمِکَ مِنْ لَبَنٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ لَهُ هَلْ أَنْتَ حَالِبٌ قَالَ نَعَمْ فَأَخَذَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ فَقُلْتُ لَهُ انْفُضْ الضَّرْعَ قَالَ فَحَلَبَ کُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ وَمَعِي إِدَاوَةٌ مِنْ مَائٍ عَلَيْهَا خِرْقَةٌ قَدْ رَوَّأْتُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَبَبْتُ عَلَی اللَّبَنِ حَتَّی بَرَدَ أَسْفَلُهُ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی رَضِيتُ ثُمَّ ارْتَحَلْنَا وَالطَّلَبُ فِي إِثْرِنَا قَالَ الْبَرَائُ فَدَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَکْرٍ عَلَی أَهْلِهِ فَإِذَا عَائِشَةُ ابْنَتُهُ مُضْطَجِعَةٌ قَدْ أَصَابَتْهَا حُمَّی فَرَأَيْتُ أَبَاهَا فَقَبَّلَ خَدَّهَا وَقَالَ کَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ
احمد بن عثمان شریح بن مسلمہ ابراہیم بن یوسف ان کے والد ابواسحاق حضرت براء (بن عازب) سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (میرے والد) عازب سے ایک کجاوہ خریدا میں اس کجاوہ کو اٹھا کر ان کے ساتھ لے کر چلا تو عازب نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر (ہجرت) کی کیفیت پوچھی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہم پر گماشتے مقرر تھے پس ہم (غار ثور سے) رات کو نکلے اور ایک شب و روز تیز چلتے رہے یہاں تک کہ دوپہر ہوگئی ہمیں ایک چٹان نظر آئی ہم اس کے پاس آ گئے اور اس چٹان کا تھوڑا سا سایہ تھا میں نے اپنی ایک پوستین جو میرے پاس تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے بچھا دی آپ اس پر لیٹ گئے میں ادھر ادھر دیکھنے کے لئے چلا تو میں نے ایک چرواہے کو دیکھا جو کچھ بکریاں لئے سامنے سے آ رہا تھا اور وہ بھی اس چٹان کے سایہ کی تلاش میں آیا تھا میں نے اس سے پوچھا تو کس کا غلام ہے؟ اس نے کہا فلاں کا میں نے کہا تیری بکریوں میں کچھ دودھ ہے؟ اس نے کہا ہاں! میں نے کہا کیا تو دودھ دے سکتا ہے؟ اس نے کہا ہاں! پھر اس نے ایک بکری پکڑی میں نے اس سے کہا کہ اس کا تھن صاف کر لے پھر اس نے تھوڑا سا دودھ دوہا میرے پاس کپڑے سے ڈھکا ہوا ایک برتن تھا جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے باندھ رکھا تھا میں نے اس دودھ میں پانی ڈالا یہاں تک کہ نیچے تک ٹھنڈا ہوگیا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پی لیجئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا۔ یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا پھر ہم نے (وہاں سے) کوچ کیا اور تلاش کرنے والے پیچھے پیچھے (آ رہے) تھے حضرت براء (رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں چلا گیا تو ان کی صاحبزادی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی تھیں انہیں بخار آ گیا تھا تو میں نے ان کے والد (حضرت ابوبکر) کو دیکھا کہ انہوں نے ان کا رخسار چوما اور پھر پوچھا بیٹی طبیعت کیسی ہے؟
Narrated Al-Bara: Abu Bakr bought a (camel's) saddle from 'Azib, and I carried it for him. 'Azib (i.e. my father) asked Abu Bakr regarding the journey of the migration of Allah's Apostle. Abu Bakr said, "Close observers were appointed by our enemies to watch us. So we went out at night and travelled throughout the night and the following day till it was noon, then we perceived a rock and went towards it, and there was some shade under it. I spread a cloak I had with me for Allah's Apostle and then the Prophet layed on it. I went out to guard him and all of a sudden I saw a shepherd coming with his sheep looking for the same, the shade of the rock as we did, I asked him, 'O boy, to whom do you belong?' He replied, 'I belong to so-and-so.' I asked him, 'Is there some milk in your sheep?' He replied in the affirmative. I asked him, 'Will you milk?' He replied in the affirmative. Then he got hold of one of his sheep. I said to him, 'Remove the dust from its udder.' Then he milked a little milk. I had a water-skin with me which was tied with a piece of cloth. I had prepared the water-skin for Allah's Apostle . So I poured some water over the milk (container) till its bottom became cold. Then I brought the milk to the Prophet and said, 'Drink, O Allah's Apostle.' Allah's Apostle drank till I became pleased. Then we departed and the pursuers were following us." Al-Bara added: I then went with Abu Bakr into his home (carrying that saddle) and there I saw his daughter 'Aisha Lying in a bed because of heavy fever and I saw her father Abu Bakr kissing her cheek and saying, "How are you, little daughter?"
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ وَسَّاجٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسٍ خَادِمِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِي أَصْحَابِهِ أَشْمَطُ غَيْرَ أَبِي بَکْرٍ فَغَلَفَهَا بِالْحِنَّائِ وَالْکَتَمِ وَقَالَ دُحَيْمٌ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ وَسَّاجٍ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَکَانَ أَسَنَّ أَصْحَابِهِ أَبُو بَکْرٍ فَغَلَفَهَا بِالْحِنَّائِ وَالْکَتَمِ حَتَّی قَنَأَ لَوْنُهَا
سلیمان بن عبدالرحمن محمد بن حمیر ابراہیم بن ابی عبلہ عقبہ بن وساج خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کے اصحابہ میں کھچڑی بالوں والا سوائے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کوئی نہیں تھا انہوں نے وسمہ کا خضاب لگایا حیم ولید اوزاعی ابوعبید عقبہ بن وساج حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو آپ کے اصحاب میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی داڑھی پر مہندی اور وسمہ کا خضاب لگایا حتیٰ کہ وہ تیز سرخ ہو گئی۔
Narrated Anas: (the servant of the Prophet) When the Prophet arrived (at Medina), there was not a single companion of the Prophet who had grey and black hair except Abu Bakr, and he dyed his hair with Henna' and Katam (i.e. plants used for dying hair). Through another group of narrators, Anas bin Malik said,. "When the Prophet arrived at Medina, the eldest amongst his companions was Abu Bakr. He dyed his hair with Hinna and Katam till it became of dark red color.
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ کَلْبٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ بَکْرٍ فَلَمَّا هَاجَرَ أَبُو بَکْرٍ طَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَهَا ابْنُ عَمِّهَا هَذَا الشَّاعِرُ الَّذِي قَالَ هَذِهِ الْقَصِيدَةَ رَثَی کُفَّارَ قُرَيْشٍ وَمَاذَا بِالْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ مِنْ الشِّيزَی تُزَيَّنُ بِالسَّنَامِ وَمَاذَا بِالْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ مِنْ الْقَيْنَاتِ وَالشَّرْبِ الْکِرَامِ تُحَيِّينَا السَّلَامَةَ أُمُّ بَکْرٍ وَهَلْ لِي بَعْدَ قَوْمِي مِنْ سَلَامِ يُحَدِّثُنَا الرَّسُولُ بِأَنْ سَنَحْيَا وَکَيْفَ حَيَاةُ أَصْدَائٍ وَهَامِ
اصبغ ابن وہب یونس ابن شہاب عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (قبیلہ) کلب کی ایک عورت سے جس کا نام ام بکر تھا نکاح کیا جب حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہجرت کی تو اسے طلاق دے دی اس کے بعد ام بکر کے چچا زاد بھائی نے اس سے نکاح کرلیا یہ وہی شاعر ہے جس نے یہ قصیدہ بدر میں مقتول کفار قریش کے مرثیہ میں کہا ہے اور قلیب بدر میں (وہ لوگ) نہیں رہے تھے (جو مالک تھے ان پیالوں کے جو) شیریں لکڑی کے ہوں اور اونٹ کے کوہان جو گوشت سے مزین ہوں اور قلیب بدر میں گانے والیاں اور شراب پینے میں شریک لوگ بھی نہیں رہے مجھے ام بکر سلامتی کے لئے دعائیں دیتی ہے حالانکہ میری قوم (کی ہلاکت) کے بعد میری سلامتی کہاں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے کہتے ہیں کہ ہم دوبارہ زندہ ہوں گے حالانکہ ہڈیاں اور کھوپڑیاں کیسے زندہ ہو سکتی ہیں۔
Narrate Aisha: Abu Bakr married a woman from the tribe of Bani Kalb, called Um Bakr. When Abu Bakr migrated to Medina, he divorced her and she was married by her cousin, the poet who said the following poem lamenting the infidels of Quraish: "What is there kept in the well, The well of Badr, (The owners of) the trays of Roasted camel humps? What is there kept in the well, The well of Badr, (The owners of) lady singers And friends of the honorable companions; who used to drink (wine) together, Um Bakr greets us With the greeting of peace, But can I find peace After my people have gone? The Apostle tells us that We shall live again, But what sort of life will owls and skulls live?:
Narrated by Abu Bakr
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِأَقْدَامِ الْقَوْمِ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوْ أَنَّ بَعْضَهُمْ طَأْطَأَ بَصَرَهُ رَآنَا قَالَ اسْکُتْ يَا أَبَا بَکْرٍ اثْنَانِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا
موسی بن اسماعیل ہمام ثابت انس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار (ثور) میں تھا جب میں نے اپنا سر اٹھا لیا تو لوگوں کے پاؤں دیکھے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ان میں سے کوئی اپنی نظر نیچی کرے تو ہمیں دیکھ لے گا آپ نے فرمایا ابوبکر خاموش رہو (ہم) دو آدمی ہیں (مگر ہمارے ساتھ) اللہ تیسرا ہے۔
Narrated Abu Bakr: I was with the Prophet in the Cave. When I raised my head, I saw the feet of the people. I said, "O Allah's Apostle! If some of them should look down, they will see us." The Prophet said, "O Abu Bakr, be quiet! (For we are) two and Allah is the Third of us."
Narrated by Abu Said
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَائُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَائَ أَعْرَابِيٌّ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ الْهِجْرَةِ فَقَالَ وَيْحَکَ إِنَّ الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ فَهَلْ لَکَ مِنْ إِبِلٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَتُعْطِي صَدَقَتَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَهَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَتَحْلُبُهَا يَوْمَ وُرُودِهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاعْمَلْ مِنْ وَرَائِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَکَ مِنْ عَمَلِکَ شَيْئًا
علی بن عبداللہ ولید بن مسلم اوزاعی (دوسری سند) محمد بن یوسف اوزاعی زہری عطاء بن یزید لیثی حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک اعرابی آیا اور آپ سے ہجرت کے بارے میں دریافت کرنے لگا تو آپ نے ارشاد فرمایا ارے ہجرت کا معاملہ بہت سخت ہے کیا تیرے پاس کچھ اونٹ ہیں؟ اس نے کہا ہاں! آپ نے فرمایا کیا تو ان کا صدقہ دیتا ہے؟ اس نے کہا ہاں! آپ نے فرمایا کیا تو ان کا دودھ بھی خیرات کرتا ہے اس نے کہا ہاں! آپ نے فرمایا کہ پانی پر لانے کے دن کیا تو ان کا دودھ دوھ کر فقیروں کو دیتا ہے؟ اس نے کہا ہاں ! آپ نے فرمایا اب اگر سمندر پار بھی (جا کر) عمل کرے تو اللہ تعالیٰ تیرے اعمال (کے ثواب) میں کچھ بھی کمی نہیں کرے گا۔
Narrated Abu Said: Once a bedouin came to the Prophet and asked him about the migration. The Prophet said, "Mercy of Allah be on you! The migration is a quite difficult matter. Have you got some camels?" He replied in the affirmative. Then the Prophet said, "Do you give their Zakat?" He replied in the affirmative. The Prophet said, "Do you let others benefit by their milk gratis?" He replied in the affirmative. Then the Prophet asked, "Do you milk them on their watering days and give their milk to the poor and needy?" He replied in the affirmative. The Prophet, said, "Go on doing like this from beyond the seas, and there is no doubt that Allah will not overlook any of your good deeds."