Sahih Bukhari — Hadith 3099
Narrated by Abu Said Al-Khudri
حَدَّثَنِا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَی يَا آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْکَ فَيَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ کُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ فَعِنْدَهُ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَی النَّاسَ سُکَارَی وَمَا هُمْ بِسُکَارَی وَلَکِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّنَا ذَلِکَ الْوَاحِدُ قَالَ أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْکُمْ رَجُلًا وَمِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَکَبَّرْنَا فَقَالَ أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَکَبَّرْنَا فَقَالَ أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَکَبَّرْنَا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا کَالشَّعَرَةِ السَّوْدَائِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَبْيَضَ أَوْ کَشَعَرَةٍ بَيْضَائَ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ
اسحاق بن نصر ابواسامہ اعمش ابوصالح حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ (قیامت کے روز) فرمائے گا اے آدم! عرض کریں گے میں حاضر ہوں اور شرف یاب ہوں اور ہر طرح کی بھلائی سب تیرے ہاتھ میں ہے اللہ فرمائے گا دوزخ میں جانے والا لشکر نکالو وہ عرض کرینگے دوزخ کا کتنا لشکر ہے اللہ فرمائے گا فی ہزار نو سو ننانوے (دوزخ میں اور ایک جنت میں جائے گا پس وہ ایسا وقت ہوگا کہ (خوف کے مارے) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا اور تم کو لوگ نشہ کی سی حالت میں (لغزیدہ گا م و سراسیمہ) نظر آئیں گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہونگے بلکہ خدا کا عذاب سخت ہوگا صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ (جنت میں فی ہزار ایک جانے والا) ہم میں سے کون ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوش ہو جاؤ کیونکہ تم میں ایک آدمی ہوگا اور یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو گے تو ہم لوگوں نے تکبیر کہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو گے ہم نے پھر تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف حصہ ہو گے (یعنی نصف تم اور نصف دوسرے لوگ) ہم نے پھر تکبیر کہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم تو اور لوگوں کے مقابلہ میں ایسے ہو جیسے سیاہ بال سفید بیل کے جسم پر یا سفید بال سیاہ بیل کے جسم پر۔
Narrated Abu Said Al-Khudri: The Prophet said, "Allah will say (on the Day of Resurrection), 'O Adam.' Adam will reply, 'Labbaik wa Sa'daik', and all the good is in Your Hand.' Allah will say: 'Bring out the people of the fire.' Adam will say: 'O Allah! How many are the people of the Fire?' Allah will reply: 'From every one thousand, take out nine-hundred-and ninety-nine.' At that time children will become hoary headed, every pregnant female will have a miscarriage, and one will see mankind as drunken, yet they will not be drunken, but dreadful will be the Wrath of Allah." The companions of the Prophet asked, "O Allah's Apostle! Who is that (excepted) one?" He said, "Rejoice with glad tidings; one person will be from you and one-thousand will be from Gog and Magog." The Prophet further said, "By Him in Whose Hands my life is, hope that you will be one-fourth of the people of Paradise." We shouted, "Allahu Akbar!" He added, "I hope that you will be one-third of the people of Paradise." We shouted, "Allahu Akbar!" He said, "I hope that you will be half of the people of Paradise." We shouted, "Allahu Akbar!" He further said, "You (Muslims) (compared with non Muslims) are like a black hair in the skin of a white ox or like a white hair in the skin of a black ox (i.e. your number is very small as compared with theirs)."