TrueHadith

فرمان الٰہی اور یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیجئے میں ان کا تھوڑا سا قصہ تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں ہم نے انہیں حکومت دی تھی اور ہم نے ہر قسم کا سامان انہیں دیا سو وہ ایک راستہ پر (با ارادہ فتوحات) چلے میرے پاس لوہے کی چادریں لاؤ تک زبر کا مفرد زبرہ یعنی ٹکڑے یہاں تک کہ جب انہوں نے دو پہاڑوں کے درمیان برابر کر دیا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے صدفین کے معنی دو پہاڑ اور سدین کے معنی بھی دو پہاڑ خرجا کے معنی اجرت تو ذوالقرنین نے کہا اسے پھونکوحتیٰ کہ جب اسے آگ (کی طرح) سرخ کر دیا تو ذوالقرنین نے کہا کہ میرے پاس آؤ میں اس پر قطرہ ڈالدوں قطر کے معنی رانگ بعض کہتے ہیں کہ لوہا اور بعض کہتے ہیں کہ پیتل اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ تانبا نہ وہ اس پر چڑھنے کی طاقت رکھتے ہیں یظہر وہ کے معنی وہ اس کے اوپر چڑھیں استطاع اطعت لہ کا باب استفعال ہے اسی وجہ سے مفتوح پڑھا گیا ہے کہ اسطاع یسطیع اور بعض کہتے ہیں کہ استطاع یستطیع اور نہ وہ اس میں سوراخ کر سکتے ہیں ذوالقرنین نے کہا یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے اور جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر ڈالے گا دکاء کے معنی اسے زمین سے ملا دے گا ناقہ دکاء اس اونٹنی کو کہتے ہیں جس کی کوہان نہ ہو اور دکداک وہ زمین ہے جو ہموار ہونے کی وجہ سے اتنی سخت ہوگئی ہو کہ اس پر پڑیاں جمی ہوں اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے اور اہم اس دن ان کی یہ حالت کردینگے کہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہو جائیں گے حتیٰ کہ یاجوج ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے قتادہ کہتے ہیں کہ حدب کے معنی ہیں ٹیلہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں نے ایک دیوار منقش چادر کی طرح دیکھی ہے (کیا یہی سدسکندری ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں تو نے اسے دیکھ لیا ہے۔

Sahih BukhariHadith 3097

Narrated by Zainab bint Jahsh

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَزِعًا يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا قَالَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَهْلِکُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ قَالَ نَعَمْ إِذَا کَثُرَ الْخَبَثُ

یحیی بن بکیر لیث عقیل ابن شہاب عروہ بن زبیر زینب بنت ابوسلمہ حضرت ام حبیبہ بنت ابوسفیان حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہن سے روایت کرتی ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن ان کے پاس گھبرائے ہوئے تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ لا الہ الا اللہ عرب کی خرابی ہو اس شر سے جو قریب آگیا آپ نے انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کا حلقہ بنا کر اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آج اس کے برابر یاجوج ماجوج نے دیوار میں سوراخ کر لیا ہے حضرت زینب نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اس وقت جبکہ فسق وفجور کی زیادتی ہو جائے گی۔

Narrated Zainab bint Jahsh: That the Prophet once came to her in a state of fear and said, "None has the right to be worshipped but Allah. Woe unto the Arabs from a danger that has come near. An opening has been made in the wall of Gog and Magog like this," making a circle with his thumb and index finger. Zainab bint Jahsh said, "O Allah's Apostle! Shall we be destroyed even though there are pious persons among us?" He said, "Yes, when the evil person will increase."

Permalink

Sahih BukhariHadith 3098

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَتَحَ اللَّهُ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلَ هَذَا وَعَقَدَ بِيَدِهِ تِسْعِينَ

مسلم بن ابراہیم وہیب ابن طاؤس ان کے والد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسات مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یاجوج ماجوج کی اتنی دیوار کھول دی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نوے کے ہند سے کا حلقہ بنایا۔

Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "Allah has made an opening in the wall of the Gog and Magog (people) like this, and he made with his hand (with the help of his fingers).

Permalink

Sahih BukhariHadith 3099

Narrated by Abu Said Al-Khudri

حَدَّثَنِا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَی يَا آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْکَ فَيَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ قَالَ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ کُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ فَعِنْدَهُ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَی النَّاسَ سُکَارَی وَمَا هُمْ بِسُکَارَی وَلَکِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّنَا ذَلِکَ الْوَاحِدُ قَالَ أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْکُمْ رَجُلًا وَمِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَکَبَّرْنَا فَقَالَ أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَکَبَّرْنَا فَقَالَ أَرْجُو أَنْ تَکُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَکَبَّرْنَا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا کَالشَّعَرَةِ السَّوْدَائِ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَبْيَضَ أَوْ کَشَعَرَةٍ بَيْضَائَ فِي جِلْدِ ثَوْرٍ أَسْوَدَ

اسحاق بن نصر ابواسامہ اعمش ابوصالح حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ (قیامت کے روز) فرمائے گا اے آدم! عرض کریں گے میں حاضر ہوں اور شرف یاب ہوں اور ہر طرح کی بھلائی سب تیرے ہاتھ میں ہے اللہ فرمائے گا دوزخ میں جانے والا لشکر نکالو وہ عرض کرینگے دوزخ کا کتنا لشکر ہے اللہ فرمائے گا فی ہزار نو سو ننانوے (دوزخ میں اور ایک جنت میں جائے گا پس وہ ایسا وقت ہوگا کہ (خوف کے مارے) بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا اور تم کو لوگ نشہ کی سی حالت میں (لغزیدہ گا م و سراسیمہ) نظر آئیں گے حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہونگے بلکہ خدا کا عذاب سخت ہوگا صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ (جنت میں فی ہزار ایک جانے والا) ہم میں سے کون ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوش ہو جاؤ کیونکہ تم میں ایک آدمی ہوگا اور یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو گے تو ہم لوگوں نے تکبیر کہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو گے ہم نے پھر تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف حصہ ہو گے (یعنی نصف تم اور نصف دوسرے لوگ) ہم نے پھر تکبیر کہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم تو اور لوگوں کے مقابلہ میں ایسے ہو جیسے سیاہ بال سفید بیل کے جسم پر یا سفید بال سیاہ بیل کے جسم پر۔

Narrated Abu Said Al-Khudri: The Prophet said, "Allah will say (on the Day of Resurrection), 'O Adam.' Adam will reply, 'Labbaik wa Sa'daik', and all the good is in Your Hand.' Allah will say: 'Bring out the people of the fire.' Adam will say: 'O Allah! How many are the people of the Fire?' Allah will reply: 'From every one thousand, take out nine-hundred-and ninety-nine.' At that time children will become hoary headed, every pregnant female will have a miscarriage, and one will see mankind as drunken, yet they will not be drunken, but dreadful will be the Wrath of Allah." The companions of the Prophet asked, "O Allah's Apostle! Who is that (excepted) one?" He said, "Rejoice with glad tidings; one person will be from you and one-thousand will be from Gog and Magog." The Prophet further said, "By Him in Whose Hands my life is, hope that you will be one-fourth of the people of Paradise." We shouted, "Allahu Akbar!" He added, "I hope that you will be one-third of the people of Paradise." We shouted, "Allahu Akbar!" He said, "I hope that you will be half of the people of Paradise." We shouted, "Allahu Akbar!" He further said, "You (Muslims) (compared with non Muslims) are like a black hair in the skin of a white ox or like a white hair in the skin of a black ox (i.e. your number is very small as compared with theirs)."

Permalink