Narrated by Ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّکُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ثُمَّ قَرَأَ کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِينَ وَأَوَّلُ مَنْ يُکْسَی يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ وَإِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِي يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَصْحَابِي أَصْحَابِي فَيَقُولُ إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَی أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ فَأَقُولُ کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَکُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي إِلَی قَوْلِهِ الْعَزِيزُ الْحَکِيمُ
محمد بن کثیر سفیان مغیرہ بن نعمان سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارا حشر برہنہ پا ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے ہوگا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی جس کا ترجمہ ہے (ہم نے ابتدا میں جس طرح پیدا کیا تھا اسی طرح ہم دوبارہ لوٹائیں گے یہ ہمارا وعدہ ہمارے ذمہ ہے اور ہم اسے ضرور پورا کریں گے) اور قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے اور (اس روز) میرے چند اصحاب کو بائیں جانب لے جایا جارہا ہوگا تو میں کہوں گا یہ تو میرے اصحاب ہیں تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے بعد یہ لوگ اپنے پچھلے دین کی طرف لوٹ گئے سو میں اس وقت ایسا کہوں گا جیسے اللہ کے نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا تھا اور میں ان پر گواہ رہا جب تک ان میں رہا جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران رہا۔
Narrated Ibn Abbas: The Prophet said, "You will be gathered (on the Day of Judgment), bare-footed, naked and not circumcised." He then recited:--'As We began the first creation, We, shall repeat it: A Promise We have undertaken: Truly we shall do it.' (21.104) He added, "The first to be dressed on the Day of Resurrection, will be Abraham, and some of my companions will be taken towards the left side (i.e. to the (Hell) Fire), and I will say: 'My companions! My companions!' It will be said: 'They renegade from Islam after you left them.' Then I will say as the Pious slave of Allah (i.e. Jesus) said. 'And I was a witness Over them while I dwelt amongst them. When You took me up You were the Watcher over them, And You are a witness to all things. If You punish them. They are Your slaves And if You forgive them, Verily you, only You are the All-Mighty, the All-Wise." (5.120-121)
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي أَخِي عَبْدُ الْحَمِيدِ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَلْقَی إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَی وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ أَلَمْ أَقُلْ لَکَ لَا تَعْصِنِي فَيَقُولُ أَبُوهُ فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيکَ فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ يَا رَبِّ إِنَّکَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِيَنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَی مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَی إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَی الْکَافِرِينَ ثُمَّ يُقَالُ يَا إِبْرَاهِيمُ مَا تَحْتَ رِجْلَيْکَ فَيَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُلْتَطِخٍ فَيُؤْخَذُ بِقَوَائِمِهِ فَيُلْقَی فِي النَّارِ
اسمعیل بن عبداللہ ان کے بھائی عبدالحمید ابن ابی ذئب سعید مقبری حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ آذر سے (قیامت کے دن) ملیں گے آذر کے چہرے پر (اس وقت) سیاہی اور غبار چھایا ہوگا تو اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے کہ میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کرنا ان کا باپ کہے گا اب میں تمہاری نافرمانی نہ کرونگا تو ابراہیم علیہ السلام کہیں گے کہ اے میرے پروردگار تو نے مجھ سے حشر کے دن مجھے رسوا نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا پس کون سی رسوائی اپنے کم بخت باپ کی رسوائی سے بڑھ کر ہوگی تو اللہ فرمائے گا کہ میں نے کافروں پر جنت حرام کر دی ہے پھر ابراہیم سے کہا جائے گا اے ابراہیم علیہ السلام (دیکھو) تمہارے پاؤں کے نیچے کیا ہے وہ دیکھیں گے تو ایک مذبوح جانور خون میں لتھڑا ہوا پائینگے اس جانور کے پیروں کو پکڑ کر دوزخ میں ڈالا جائے گا۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, "On the Day of Resurrection Abraham will meet his father Azar whose face will be dark and covered with dust.(The Prophet Abraham will say to him): 'Didn't I tell you not to disobey me?' His father will reply: 'Today I will not disobey you.' 'Abraham will say: 'O Lord! You promised me not to disgrace me on the Day of Resurrection; and what will be more disgraceful to me than cursing and dishonoring my father?' Then Allah will say (to him):' 'I have forbidden Paradise for the disbelievers." Then he will be addressed, 'O Abraham! Look! What is underneath your feet?' He will look and there he will see a Dhabh (an animal,) blood-stained, which will be caught by the legs and thrown in the (Hell) Fire."
Narrated by Ibn Abbas
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ بُکَيْرًا حَدَّثَهُ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَوَجَدَ فِيهِ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَصُورَةَ مَرْيَمَ فَقَالَ أَمَا لَهُمْ فَقَدْ سَمِعُوا أَنَّ الْمَلَائِکَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ هَذَا إِبْرَاهِيمُ مُصَوَّرٌ فَمَا لَهُ يَسْتَقْسِمُ
یحیی بن سلیمان ابن وہب عمر بکیر کریب ابن عباس کے آزاد کردہ غلام حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے تو وہاں حضرت ابراہیم اور حضرت مریم کی تصویریں دیکھیں تو آپ نے فرمایا کہ قریش کو کیا ہو گیا حالانکہ وہ سن چکے تھے کہ فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی تصویر ہو یہ ابراہیم کی تصویر بنائی گئی پھر وہ بھی پانسہ پھینکتے ہوئے۔
Narrated Ibn Abbas: The Prophet entered the Ka'ba and found in it the pictures of (Prophet) Abraham and Mary. On that he said' "What is the matter with them ( i.e. Quraish)? They have already heard that angels do not enter a house in which there are pictures; yet this is the picture of Abraham. And why is he depicted as practicing divination by arrows?"
Narrated by Ibn Abbas
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَی الصُّوَرَ فِي الْبَيْتِ لَمْ يَدْخُلْ حَتَّی أَمَرَ بِهَا فَمُحِيَتْ وَرَأَی إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام بِأَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ فَقَالَ قَاتَلَهُمْ اللَّهُ وَاللَّهِ إِنْ اسْتَقْسَمَا بِالْأَزْلَامِ قَطُّ
ابراہیم بن موسیٰ ہشام معمر ایوب عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ میں تصویریں دیکھیں تو داخل نہ ہوئے حتیٰ کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہٹادیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم و اسماعیل کی تصویروں کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں فال کے تیر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ قریش پر لعنت کرے بخدا دونوں بزرگوں نے کبھی کوئی تیر نہیں پھینکا تھا۔
Narrated Ibn Abbas: When the Prophet saw pictures in the Ka'ba, he did not enter it till he ordered them to be erased. When he saw (the pictures of Abraham and Ishmael carrying the arrows of divination, he said, "May Allah curse them (i.e. the Quraish)! By Allah, neither Abraham nor Ishmael practiced divination by arrows."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَکْرَمُ النَّاسِ قَالَ أَتْقَاهُمْ فَقَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُکَ قَالَ فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ قَالُوا لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُکَ قَالَ فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَمُعْتَمِرٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
علی بن عبداللہ یحیی بن سعید عبیداللہ سعید بن ابی سعید ان کے والد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ معزز اور بزرگ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو سب سے زیادہ خدا کا خوف رکھتا ہو لوگوں نے کہا ہم یہ بات نہیں پوچھتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ معزز یوسف نبی اللہ ابن نبی اللہ ابن نبی اللہ ابن خلیل اللہ ہیں لوگوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں پوچھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم عرب کے خاندانوں کے متعلق پوچھ رہے ہو ان میں جو زمانہ جاہلیت میں بہتر تھے وہی اسلام میں بھی بہتر ہیں بشرطیکہ علم دین حاصل کریں ابواسامہ معتمر عبیداللہ سعید ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
Narrated Abu Huraira: The people said, "O Allah's Apostle! Who is the most honorable amongst the people (in Allah's Sight)?" He said, "The most righteous amongst them." They said, "We do not ask you, about this. " He said, "Then Joseph, Allah's Prophet, the son of Allah's Prophet, The son of Allah's Prophet the son of Allah's Khalil (i.e. Abraham)." They said, "We do not want to ask about this," He said' "Then you want to ask about the descent of the Arabs. Those who were the best in the pre-lslamic period of ignorance will be the best in Islam provided they comprehend the religious knowledge."
Narrated by Samura
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ حَدَّثَنَا سَمُرَةُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ فَأَتَيْنَا عَلَی رَجُلٍ طَوِيلٍ لَا أَکَادُ أَرَی رَأْسَهُ طُولًا وَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ عليه السلام
مومل اسماعیل عوف ابورجاء سے حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آج رات (خواب میں میرے) پاس دو آدمی آئے اور ہم سب ایک طویل القامت آدمی کے پاس پہنچے جس کی لمبائی کے سبب میں اس کا سر نہ دیکھ سکتا تھا وہ ابراہیم علیہ السلام تھے۔
Narrated Samura: Allah's Apostle said, "Two persons came to me at night (in dream) (and took me along with them). We passed by a tall man who was so tall that I was not able to see his head and that person was Abraham."
Narrated by Mujahid
حَدَّثَنِي بَيَانُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا النَّضْرُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَذَکَرُوا لَهُ الدَّجَّالَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَکْتُوبٌ کَافِرٌ أَوْ ک ف ر قَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ وَلَکِنَّهُ قَالَ أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَی صَاحِبِکُمْ وَأَمَّا مُوسَی فَجَعْدٌ آدَمُ عَلَی جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يکبر
بیان بن عمرو نضر ابن عون مجاہد ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے سامنے لوگ دجال کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اس کے ماتھے پر کافر یا ک ف ر لکھا ہوا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے یہ نہیں سنا بلکہ میں نے یہ سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم ابراہیم کو دیکھنا چاہتے ہو تو مجھے دیکھو رہ گئے موسیٰ تو وہ گھنگریالے بال اور گندم گوں رنگ کے ایک سرخ اونٹ پر جس کے کھجور کے چھال کی نکیل پڑی ہوئی ہے گویا میں ان کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ نشیب میں اتر رہے ہیں۔
Narrated Mujahid: That when the people mentioned before Ibn 'Abbas that the Dajjal would have the word Kafir, (i.e. unbeliever) or the letters Kafir (the root of the Arabic verb 'disbelieve') written on his forehead, I heard Ibn 'Abbas saying, "I did not hear this, but the Prophet said, 'If you want to see Abraham, then look at your companion (i.e. the Prophet) but Moses was a curly-haired, brown man (who used to ride) a red camel, the reins of which was made of fires of date-palms. As if I were now looking down a valley."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُّومِ
قتیبہ بن سعید مغیرہ بن عبدالرحمن قرشی اور ابوالزناد اعرج حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے ختنے ایک بسولے سے اسی سال کی عمر میں کئے۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "Abraham did his circumcision with an adze at the age of eighty."
Narrated by Abu Az-Zinad
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ وَقَالَ بِالْقَدُومِ مُخَفَّفَةً تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ تَابَعَهُ عَجْلَانُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ
ابو الیمان شعیب ابوالزناد نے لفظ قدوم تخفیف دال سے روایت کیا ہے اس کے متابع حدیث عبدالرحمن بن اسحاق نے ابوالزناد سے اور اس کے متابع عجلان نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے اور اس کو محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے روایت کیا ہے۔
Narrated Abu Az-Zinad: (as above in Hadith No. 575) With an adze.
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ الرُّعَيْنِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثًا
سعید بن تلیدر عینی ابن وہب جریر بن حازم ایوب محمد ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے (حقیقتا کبھی جھوٹ نہیں بولا البتہ) تین مرتبہ کے سوا کبھی (ظاہری طور پر بھی) جھوٹ نہیں بولا (اور اس ظاہری جھوٹ کو توریہ کہتے ہیں جس کے جواز میں قطعا شبہ نہیں بالخصوص مواضع حاجت میں) ۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, "Abraham did not tell a lie except on three occasions."
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمْ يَکْذِبْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام إِلَّا ثَلَاثَ کَذَبَاتٍ ثِنْتَيْنِ مِنْهُنَّ فِي ذَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَوْلُهُ إِنِّي سَقِيمٌ وَقَوْلُهُ بَلْ فَعَلَهُ کَبِيرُهُمْ هَذَا وَقَالَ بَيْنَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَارَةُ إِذْ أَتَی عَلَی جَبَّارٍ مِنْ الْجَبَابِرَةِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ هَا هُنَا رَجُلًا مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ عَنْهَا فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قَالَ أُخْتِي فَأَتَی سَارَةَ قَالَ يَا سَارَةُ لَيْسَ عَلَی وَجْهِ الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرَکِ وَإِنَّ هَذَا سَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّکِ أُخْتِي فَلَا تُکَذِّبِينِي فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ ذَهَبَ يَتَنَاوَلُهَا بِيَدِهِ فَأُخِذَ فَقَالَ ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّکِ فَدَعَتْ اللَّهَ فَأُطْلِقَ ثُمَّ تَنَاوَلَهَا الثَّانِيَةَ فَأُخِذَ مِثْلَهَا أَوْ أَشَدَّ فَقَالَ ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّکِ فَدَعَتْ فَأُطْلِقَ فَدَعَا بَعْضَ حَجَبَتِهِ فَقَالَ إِنَّکُمْ لَمْ تَأْتُونِي بِإِنْسَانٍ إِنَّمَا أَتَيْتُمُونِي بِشَيْطَانٍ فَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ فَأَتَتْهُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ مَهْيَا قَالَتْ رَدَّ اللَّهُ کَيْدَ الْکَافِرِ أَوْ الْفَاجِرِ فِي نَحْرِهِ وَأَخْدَمَ هَاجَرَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ تِلْکَ أُمُّکُمْ يَا بَنِي مَائِ السَّمَائِ
محمد بن محبوب حماد بن زید ایوب محمد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین مرتبہ (ظاہری) جھوٹ بولا ہے دو تو خدا کے واسطے ان کا یہ قول کہ میں بیمار ہوں اور یہ تو ان کے بڑے بت نے کیا ہے۔ (یہ تو خدا کے لئے اور ایک اپنے لئے یہ کہ فرمایا ایک دن ابراہیم علیہ السلام اور (ان کی زوجہ) سارہ جا رہے تھے کہ ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں سے گزرے کسی نے بادشاہ سے کہہ دیا کہ یہاں ایک ایسا شخص آیا ہے جس کے ساتھ بے انتہا خوبصورت عورت ہے اس ظالم نے ان کے پاس آدمی بھیج کر سارہ کے متعلق پوچھا یہ کون ہے؟ تو ابراہیم نے کہہ دیا میری (دینی) بہن ہے پھر ابراہیم سارہ کے پاس آئے اور کہا کہ اے سارہ روئے زمین پر میرے اور تیرے علاوہ کوئی مومن نہیں اس ظالم نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہہ دیا یہ میری بہن ہے لہذا مجھے جھوٹا نہ کرنا اس ظالم نے سارہ کو بلوا بھیجا جب سارہ اس کے پاس پہنچیں تو وہ ان کی طرف ہاتھ بڑھانے لگا فورا منجانب اللہ اس کی گرفت ہوگئی (اس نے سارہ سے) کہا میرے لئے اللہ سے دعا کرو میں تمہیں پھر کچھ ضرر نہ پہنچاؤں گا انہوں نے دعا کی تو وہ اچھا ہو گیا پھر دوسری مرتبہ اس نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا، پھر اسی طرح پکڑ لیا گیا بلکہ اس سے بھی سخت پھر اس نے کہا میرے لئے اللہ سے دعا کرو، میں تمہیں بالکل ضرر نہ پہنچاؤں گا انہوں نے دعا کی تو وہ اچھا ہو گیا، پھر اس نے اپنے کسی دربان کو بلا کر کہا کہ تم میرے پاس انسان کو نہیں لائے بلکہ شیطان کو لائے ہو پھر اس نے سارہ کی خدمت کے لئے ہاجرہ کو دیا سارہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں تو وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا کیا ہوا؟ سارہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کا فریب اسی کے سینہ میں لوٹا دیا اور ہاجرہ کو خدمت کے لئے دیا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے کہ اے ماء سماء کے بیٹو! یہی تمہاری ماں ہے۔
Narrated Abu Huraira: Abraham did not tell a lie except on three occasion. Twice for the Sake of Allah when he said, "I am sick," and he said, "(I have not done this but) the big idol has done it." The (third was) that while Abraham and Sarah (his wife) were going (on a journey) they passed by (the territory of) a tyrant. Someone said to the tyrant, "This man (i.e. Abraham) is accompanied by a very charming lady." So, he sent for Abraham and asked him about Sarah saying, "Who is this lady?" Abraham said, "She is my sister." Abraham went to Sarah and said, "O Sarah! There are no believers on the surface of the earth except you and I. This man asked me about you and I have told him that you are my sister, so don't contradict my statement." The tyrant then called Sarah and when she went to him, he tried to take hold of her with his hand, but (his hand got stiff and) he was confounded. He asked Sarah. "Pray to Allah for me, and I shall not harm you." So Sarah asked Allah to cure him and he got cured. He tried to take hold of her for the second time, but (his hand got as stiff as or stiffer than before and) was more confounded. He again requested Sarah, "Pray to Allah for me, and I will not harm you." Sarah asked Allah again and he became alright. He then called one of his guards (who had brought her) and said, "You have not brought me a human being but have brought me a devil." The tyrant then gave Hajar as a girl-servant to Sarah. Sarah came back (to Abraham) while he was praying. Abraham, gesturing with his hand, asked, "What has happened?" She replied, "Allah has spoiled the evil plot of the infidel (or immoral person) and gave me Hajar for service." (Abu Huraira then addressed his listeners saying, "That (Hajar) was your mother, O Bani Ma-is-Sama (i.e. the Arabs, the descendants of Ishmael, Hajar's son)."
Narrated by Um Sharik
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی أَوْ ابْنُ سَلَامٍ عَنْهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ شَرِيکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَقَالَ کَانَ يَنْفُخُ عَلَی إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام
عبیداللہ بن موسیٰ یا عبیداللہ بن سلام ابن جریج عبدالحمید بن جبیر سعید بن مسیب ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گرگٹ کو مارنے کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ پھونک رہا تھا۔
Narrated Um Sharik: Allah's Apostle ordered that the salamander should be killed and said, "It (i.e. the salamander) blew (the fire) on Abraham."
Narrated by Abdullah
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ قَالَ لَيْسَ کَمَا تَقُولُونَ لَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ بِشِرْکٍ أَوَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَی قَوْلِ لُقْمَانَ لِابْنِهِ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِکْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
عمر بن حفص بن غیاث ان کے والد اعمش ابراہیم علقمہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آیت کریمہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ مخلوط نہیں کیا نازل ہوئی تو ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں ایسا کون ہے جس نے اپنے اوپر (گناہ کر کے) ظلم نہیں کیا فرمایا یہ بات تمہارے خیال کے مطابق نہیں ہے بلکہ ( لَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ) میں ظلم سے مراد شرک ہے کیا تم نے لقمان کی بات جو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہی تھی نہیں سنی کہ ( اے میرے بیٹے اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے)۔
Narrated Abdullah: When the Verse:--"It is those who believe and do not confuse their belief with wrong ( i.e. joining others in worship with Allah" (6.83) was revealed, we said, "O Allah's Apostle! Who is there amongst us who has not done wrong to himself?" He replied, "It is not as you say, for 'wrong' in the Verse and 'do not confuse their belief, with wrong means 'SHIRK' (i.e. joining others in worship with Allah). Haven't you heard Luqman's saying to his son, 'O my son! Join not others in worship with Allah, verily joining others in worship with Allah is a great wrong indeed." (31.13)