Sahih Bukhari — Hadith 2874
Narrated by 'Amra bint Abdur-Rahman
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَمْرَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ فُلَانًا لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنْ الرَّضَاعَةِ الرَّضَاعَةُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ
عبداللہ بن یوسف مالک عبداللہ بن ابوبکر عمرۃ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان (عائشہ) کے پاس تھے کہ اتنے میں انہوں نے کسی آدمی کی آواز سنی جو حضرت حفصہ کے مکان پر جانا چاہ رہا تھا تو میں (عائشہ) نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ آدمی جو آپ کے گھر جانے کا اجازت خواہ ہے یہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا یہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فلانے دودھ شریک چچا ہیں اور رضاعت بھی ان رشتوں کو حرام کردیتی ہے جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں۔
Narrated 'Amra bint Abdur-Rahman: 'Aisha, the wife of the Prophet told her that once Allah's Apostle was with her and she heard somebody asking permission to enter Hafsa's house. She said, "O Allah's Apostle! This man is asking permission to enter your house." Allah's Apostle replied, "I think he is so-and-so (meaning the foster uncle of Hafsa). What is rendered illegal because of blood relations, is also rendered illegal because of the corresponding foster-relations."