Sahih Bukhari — Hadith 2870
Narrated by Safiya
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَائَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ وَهُوَ مُعْتَکِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ فَقَامَ مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا بَلَغَ قَرِيبًا مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِمَا رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَفَذَا فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رِسْلِکُمَا قَالَا سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَکَبُرَ عَلَيْهِمَا ذَلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنْ الْإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِکُمَا شَيْئًا
سعید بن عفیر لیث عبدالرحمن ابن شہاب علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت صفیہ زوجہ مطہرہ نے ان سے کہا کہ وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس وقت ملاقات کو آئیں جب کہ آپ رمضان شریف کے آخری عشرہ میں معتکف تھے اور جب وہ واپس جانے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ اٹھے اور مسجد کے دروازے کے پاس حضرت ام سلمہ کے مکان کے پاس پہنچے تو اس طرف سے دو انصاری گزرے اور آپ کو سلام کہہ کے جلدی سے جانے لگے تو آپ نے فرمایا ٹھہرو سنو! یہ میری بیوی ہیں تو یہ بات ان کو بہت شاق معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ سبحان اللہ! اس پر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انسان کی رگوں میں شیطان خون کی طرح دوڑتا پھرتا ہے اور مجھے یہ خوف پیدا ہوا کہ کہیں یہ امر تمہارے دل میں کوئی شبہ پیدا نہ کر دے۔
Narrated Safiya: (the wife of the Prophet) That she came to visit Allah's Apostle while he was in Itikaf(i.e. seclusion in the Mosque during the last ten days of Ramadan. When she got up to return, Allah's Apostle got up with her and accompanied her, and when he reached near the gate of the Mosque close to the door (of the house) of Um Salama, the wife of the Prophet, two Ansari men passed by them and greeted Allah's Apostle and then went away. Allah's Apostle addressed them saying, "Don't hurry! (She is my wife)," They said, "Glorified be Allah! O Allah's Apostle (You are far away from any suspicion)," and his saying was hard on them. Allah's Apostle said, "Satan circulates in the mind of a person as blood does (in his body). I was afraid that Satan might put some (evil) thoughts in your minds."