TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 2356 · Statement on Freeing Slaves

Sahih BukhariHadith 2356

Narrated by Ibn Muhairiz

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَاشْتَهَيْنَا النِّسَائَ فَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ کَائِنَةٍ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ کَائِنَةٌ

عبداللہ بن یوسف مالک ربیعہ بن ابی عبدالرحمن محمد بن یحیی بن حبان محیریز سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا تو ان سے میں نے (عزل کے متعلق) پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بنی مصطلق میں نکلے تو ہم لوگوں کو عرب کے چند قیدی ہاتھ آئے ہم لوگوں کو عورتوں کی خواہش تھی اور تجرد کی زندگی دشوار تھی اس لیے ہم لوگوں نے عزل کرنا چاہا چنانچہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اس لیے کہ جو جان قیامت تک پیدا ہونے کے لیے مقدر ہو چکی ہے وہ پیدا ہو کر رہے گی۔

Narrated Ibn Muhairiz: I saw Abu Said and asked him about coitus interruptus. Abu Said said, "We went with Allah's Apostle, in the Ghazwa of Barli Al-Mustaliq and we captured some of the 'Arabs as captives, and the long separation from our wives was pressing us hard and we wanted to practice coitus interruptus. We asked Allah's Apostle (whether it was permissible). He said, "It is better for you not to do so. No soul, (that which Allah has) destined to exist, up to the Day of Resurrection, but will definitely come, into existence."

Permalink

See the full chapter: اگر عربی غلام کا مالک ہو جائے اور اس کو ہبہ کر دے بیچ دے جماع کرے فدیہ دے اور بچوں کو قید کرے (تو کیا درست ہے) اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ ایک مثال بیان کرتا ہے ایک شخص غلام کی جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور اس شخص کی جس کو ہم نے اپنی طرف سے عمدہ رزق دیا ہے اور وہ اس میں سے پوشیدہ طور پر اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں کیا وہ سب برابر ہوں گے سب تعریف اللہ کے لیے ہے بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔