TrueHadith

اگر عربی غلام کا مالک ہو جائے اور اس کو ہبہ کر دے بیچ دے جماع کرے فدیہ دے اور بچوں کو قید کرے (تو کیا درست ہے) اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ ایک مثال بیان کرتا ہے ایک شخص غلام کی جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور اس شخص کی جس کو ہم نے اپنی طرف سے عمدہ رزق دیا ہے اور وہ اس میں سے پوشیدہ طور پر اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں کیا وہ سب برابر ہوں گے سب تعریف اللہ کے لیے ہے بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

Sahih BukhariHadith 2354

Narrated by Marwan and Al-Miswar bin Makhrama

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ذَکَرَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَائَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ إِنَّ مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِحْدَی الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا الْمَالَ وَإِمَّا السَّبْيَ وَقَدْ کُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنْ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَی الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَکُمْ قَدْ جَائُونَا تَائِبِينَ وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِکَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَکُونَ عَلَی حَظِّهِ حَتَّی نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيئُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ فَقَالَ النَّاسُ طَيَّبْنَا لَکَ ذَلِکَ قَالَ إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْکُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّی يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُکُمْ أَمْرَکُمْ فَرَجَعَ النَّاسُ فَکَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا فَهَذَا الَّذِي بَلَغَنَا عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ وَقَالَ أَنَسٌ قَالَ عَبَّاسٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَادَيْتُ نَفْسِي وَفَادَيْتُ عَقِيلًا

ابن ابی مریم لیث عقیل ابن شہاب عروہ مروان اور مسور بن مخزمہ سے روایت کرتے ہیں ان دونوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب ہوازن کا وفد آیا تو ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کا مال اور ان کے قیدی واپس کیے جائیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے ساتھ اور لوگ بھی ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور مجھے سچی بات سب سے زیادہ پسند ہے چنانچہ دو باتوں میں سے ایک اختیار کرو یا تو مال لو یا قیدی کو اور میں نے اسی لیے ان کی تقسیم میں تاخیر کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا دس راتوں سے زائد تک انتظار کیا تھا پھر طائف سے واپس ہوئے تھے جب لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو چیزوں میں سے صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے لوگوں نے عرض کیا کہ ہم قیدیوں کو اختیار کرتے ہیں (قیدیوں کو لینا چاہتے ہیں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف بیان کی جس کا وہ مستحق ہے پھر فرمایا تمہارے بھائی ہمارے پاس توبہ کر کے آئے ہیں اور میرا خیال ہے کہ میں ان کو ان کے قیدی واپس کر دوں اور جو تم میں سے یہ خوشی سے کرنا چاہے تو کرے اور جو اپنا حصہ واپس نہ کرنا چاہے تو (انتظار کرے) یہاں تک کہ ہم اس کو مال غنیمت میں سے دیں گے جو سب سے پہلے ہم کو اللہ دے گا تو ایسا کرے لوگوں نے کہا کہ ہم بخوشی ایسا کرنے کو تیار ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہمیں معلوم نہیں کہ کس نے اجازت دی ہے اور کس نے اجازت نہیں دی اس لیے تم واپس جاؤ یہاں تک کہ تمہارے سردار تمہارے پاس تمہارا معاملہ پیش کریں لوگ واپس چلے گئے ان سے ان کے سرداروں نے گفتگو کی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ لوگ اسی پر راضی ہیں اور اس کی اجازت دے دی ہے زہری کا بیان ہے کہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق مجھے یہی حال معلوم ہوا ہے اور انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا میں نے اپنا اور عقیل کا فدیہ دیا۔

Narrated Marwan and Al-Miswar bin Makhrama: When the delegates of the tribe of Hawazin came to the Prophet and they requested him to return their properties and captives. The Prophet stood up and said to them, "I have other people with me in this matter (as you see) and the most beloved statement to me is the true one; you may choose either the properties or the prisoners as I have delayed their distribution." The Prophet had waited for them for more than ten days since his arrival from Ta'if. So, when it became evident to them that the Prophet was not going to return them except one of the two, they said, "We choose our prisoners." The Prophet got up amongst the people and glorified and praised Allah as He deserved and said, "Then after, these brethren of yours have come to us with repentance, and I see it logical to return them the captives. So, whoever amongst you likes to do that as a favor, then he can do it, and whoever of you likes to stick to his share till we recompense him from the very first war booty which Allah will give us, then he can do so (i.e. give up the present captives)." The people unanimously said, "We do that (return the captives) willingly." The Prophet said, "We do not know which of you has agreed to it and which have not, so go back and let your leaders forward us your decision." So, all the people then went back and discussed the matter with their leaders who returned and informed the Prophet that all the people had willingly given their consent to return the captives. This is what has reached us about the captives of Hawazin. Narrated Anas that 'Abbas said to the Prophet, "I paid for my ransom and Aqil's ransom."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2355

Narrated by Ibn Aun

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ فَکَتَبَ إِلَيَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغَارَ عَلَی بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَی عَلَی الْمَائِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَی ذَرَارِيَّهُمْ وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَنِي بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَکَانَ فِي ذَلِکَ الْجَيْشِ

علی بن حسن عبداللہ ابن عون بیان کرتے ہیں میں نے نافع کو لکھ بھیجا تو انہوں نے جواب میں لکھ بھیجا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مصطلق پر حملہ کیا اس حال میں کہ وہ غافل تھے اور ان کے جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا ان میں جو لڑنے والے تھے ان کو قتل کر دیا اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا جویریہ بھی اسی دن ہاتھ آئی تھیں نافع کا بیان ہے کہ مجھ سے عبداللہ بن عمر نے یہ بیان کیا اور وہ اس لشکر میں تھے۔

Narrated Ibn Aun: I wrote a letter to Nafi and Nafi wrote in reply to my letter that the Prophet had suddenly attacked Bani Mustaliq without warning while they were heedless and their cattle were being watered at the places of water. Their fighting men were killed and their women and children were taken as captives; the Prophet got Juwairiya on that day. Nafi said that Ibn 'Umar had told him the above narration and that Ibn 'Umar was in that army.

Permalink

Sahih BukhariHadith 2356

Narrated by Ibn Muhairiz

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَاشْتَهَيْنَا النِّسَائَ فَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ کَائِنَةٍ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ کَائِنَةٌ

عبداللہ بن یوسف مالک ربیعہ بن ابی عبدالرحمن محمد بن یحیی بن حبان محیریز سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا تو ان سے میں نے (عزل کے متعلق) پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بنی مصطلق میں نکلے تو ہم لوگوں کو عرب کے چند قیدی ہاتھ آئے ہم لوگوں کو عورتوں کی خواہش تھی اور تجرد کی زندگی دشوار تھی اس لیے ہم لوگوں نے عزل کرنا چاہا چنانچہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اس لیے کہ جو جان قیامت تک پیدا ہونے کے لیے مقدر ہو چکی ہے وہ پیدا ہو کر رہے گی۔

Narrated Ibn Muhairiz: I saw Abu Said and asked him about coitus interruptus. Abu Said said, "We went with Allah's Apostle, in the Ghazwa of Barli Al-Mustaliq and we captured some of the 'Arabs as captives, and the long separation from our wives was pressing us hard and we wanted to practice coitus interruptus. We asked Allah's Apostle (whether it was permissible). He said, "It is better for you not to do so. No soul, (that which Allah has) destined to exist, up to the Day of Resurrection, but will definitely come, into existence."

Permalink

Sahih BukhariHadith 2357

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ و حَدَّثَنِي ابْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ الْمُغِيرَةِ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَا زِلْتُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مُنْذُ ثَلَاثٍ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَی الدَّجَّالِ قَالَ وَجَائَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا وَکَانَتْ سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ أَعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ

زہیر بن حرب جریر عمارہ بن قعقاع ابوزرعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں بنی تمیم سے برابر محبت کرتا رہوں گا ابن سلام جریر بن عبدالحمید مغیرہ حارث ابوزرعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمارہ ابوزرعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں بنی تمیم سے برابر کرتا ہوں جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے متعلق تین باتیں سنی ہیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان لوگوں کے متعلق فرماتے ہوئے سنا کہ وہ میری امت میں دجال کے لیے بہت زیادہ سخت ہوں گے ایک بار بنی تمیم کے صدقات آئے تو فرمایا یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں اور بنی تمیم کی ایک عورت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس قید ہو کر آئی تو فرمایا کہ اسے آزاد کر دو اس لیے کہ وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔

Narrated Abu Huraira: I have loved the people of the tribe of Bani Tamim ever since I heard, three things, Allah's Apostle said about them. I heard him saying, These people (of the tribe of Bani Tamim) would stand firm against Ad-Dajjal." When the Sadaqat (gifts of charity) from that tribe came, Allah's Apostle said, "These are the Sadaqat (i.e. charitable gifts) of our folk." 'Aisha had a slave-girl from that tribe, and the Prophet said to 'Aisha, "Manumit her as she is a descendant of Ishmael (the Prophet)."

Permalink