TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 2209 · Statement on Musaqat (Irrigation Contract)

Sahih BukhariHadith 2209

Narrated by Rafi 'bin Khadij and Sahl bin Al Hathma

حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ کَثِيرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَی بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي بُشَيْرٌ مِثْلَهُ

زکریا بن یحیی، ابواسامہ، ولید بن کیثر، بشیر بن یسار، (بنی حارثہ کے غلام) رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزابنہ سے یعنی درخت پر لگے ہوئے پھل کو ٹوٹے ہوئے پھل کے عوض بیچنے سے منع فرمایا ہے، لیکن عرایا والوں کو اس کی اجازت دی ہے ابوعبداللہ (بخاری) کا بیان ہے کہ ابن اسحاق نے کہا کہ مجھ سے بشیر نے اس کے مثل روایت کی ہے۔

Narrated Rafi 'bin Khadij and Sahl bin Al Hathma: Allah's Apostle forbade the sale of Muzabana, i.e. selling of fruits for fruits, except in the case of 'Araya; he allowed the owners of 'Araya such kind of sale.

Permalink

See the full chapter: کھجور کے باغ میں کسی شخص کے گزرنے کا راستہ ہو یا پانی کا کوئی چشمہ ہو، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جس نے پیوند کر نے کے بعد کسی درخت کو بیچا تو اس کا پھل بائع کا ہوگا اور گزرنے کا راستہ اور چشمہ بائع کا ہوگا یہاں تک کہ وہ راستہ ہٹا لیا جائے اور یہی حکم عریہ والے کا بھی ہے ۔