حدثناعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنْ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَعَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ فِي الْعَبْدِ
عبداللہ بن یوسف، لیث، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ ، عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کھجور کا درخت پیوند لگائے جانے کے بعد خریدا تو اس کا پھل بائع کا ہے، لیکن جب خریدار اس کی شرط کر دے (تو خریدار کا ہوگا) اور جس نے غلام خریدا اور اس کے پاس مال تھا، تو اس کا مال بیچنے والے کا ہے، مگر یہ کہ خریدنے والا اس کی شرط کر لے، اور بواسطہ مالک، نافع، ابن عمر، جو حدیث ہے، اس میں صرف غلام کا بیان ہے۔
-
Narrated by Zaid bin Thabit
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا
محمد بن یوسف، سفیان، یحیی بن سعید، نافع، ابن عمر زید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اندازہ سے خشک کھجور کے عوض عرایا کے بیچے جانے کی اجازت دی ہے۔
Narrated Zaid bin Thabit: The Prophet permitted selling the dates of the 'Araya for ready dates by estimating the amount of the former (as they are still on the trees).
Narrated by Jabir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَهَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَعَنْ الْمُزَابَنَةِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّی يَبْدُوَ صَلَاحُهَا وَأَنْ لَا تُبَاعَ إِلَّا بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ إِلَّا الْعَرَايَا
عبداللہ بن محمد، ابن عیینہ، ابن جریج، عطار، جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخابرہ، محاقلہ، مزابنہ سے اور پھلوں کے بیچنے سے جب تک کہ اس کا قابل انتفاع ہونا ظاہر نہ ہو جائے منع فرمایا اور درخت لگا ہوا پھل درہم و دینار ہی کے عوض بیچا جائے، البتہ عرایا کی اجازت دی۔
Narrated Jabir bin 'Abdullah: The Prophet forbade the sales called Al-Mukhabara, Al-Muhaqala and Al-Muzabana and the selling of fruits till they are free from blights. He forbade the selling of the fruits except for money, except the 'Araya.
Narrated by Abu Huraira
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ قَزَعَةَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَی ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنْ التَّمْرِ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ شَکَّ دَاوُدُ فِي ذَلِکَ
یحیی بن قزعہ، مالک، داؤد بن حصین، ابوسفیان (ابو احمد کے غلام) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اندازے سے خشک کھجور کے عوض پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم میں (داؤد کو شک ہوا) بیع عرایا کی اجازت دی ہے۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet allowed the sale of the dates of the 'Araya for ready dates by estimating the former which should be estimated as less than five Awsuq or five Awsuq. (Dawud, the sub-narrator is not sure as to the right amount.)
Narrated by Rafi 'bin Khadij and Sahl bin Al Hathma
حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ کَثِيرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَی بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي بُشَيْرٌ مِثْلَهُ
زکریا بن یحیی، ابواسامہ، ولید بن کیثر، بشیر بن یسار، (بنی حارثہ کے غلام) رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزابنہ سے یعنی درخت پر لگے ہوئے پھل کو ٹوٹے ہوئے پھل کے عوض بیچنے سے منع فرمایا ہے، لیکن عرایا والوں کو اس کی اجازت دی ہے ابوعبداللہ (بخاری) کا بیان ہے کہ ابن اسحاق نے کہا کہ مجھ سے بشیر نے اس کے مثل روایت کی ہے۔
Narrated Rafi 'bin Khadij and Sahl bin Al Hathma: Allah's Apostle forbade the sale of Muzabana, i.e. selling of fruits for fruits, except in the case of 'Araya; he allowed the owners of 'Araya such kind of sale.