TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 2060 · Explanation of Buying and Selling

Sahih BukhariHadith 2060

Narrated by Hisham bin 'Urwa from his father

حَدَّثَنا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ فَرْقَدٍ قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ وَمَنْ کَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ کَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ أُنْزِلَتْ فِي وَالِي الْيَتِيمِ الَّذِي يُقِيمُ عَلَيْهِ وَيُصْلِحُ فِي مَالِهِ إِنْ کَانَ فَقِيرًا أَکَلَ مِنْهُ بِالْمَعْرُوفِ

اسحاق بن نمیر، ہشام، ح، محمد، عثمان بن فرقد، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی تھیں کہ جو شخص مالدار ہو وہ بچے اور جو شخص فقیر ہو تو وہ دستور کے موافق کھائے اور یہ آیت یتیم کے سر پرست کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اس کی نگرانی کرتا ہے اور اس کے مال کی دیکھ بھال کرتا ہے اگر فقیر ہو تو دستور کے موافق اس سے کھائے۔

Narrated Hisham bin 'Urwa from his father: who heard Aisha saying, "The Holy Verse; 'Whoever amongst the guardians is rich, he should take no wages (from the property of the orphans) but If he is poor, let him have for himself what is just and reasonable (according to his labors)' (4.6) was revealed concerning the guardian of the orphans who looks after them and manages favorably their financial affairs; If the guardian Is poor, he could have from It what Is just and reasonable, (according to his labors)." ________________________________________

Permalink

See the full chapter: خریدوفروخت ٹھیکہ اور ناپ تول میں ہر شہر کے لوگوں کے عرف ان کے رسم ورواج نیتوں اور مشہور طریقوں پر حکم جاری ہوگا اور شریح نے سوت بیچنے والوں سے کہا کہ تمہاری رسم رواج کے مطابق ہی حکم دیا جائے گا اور عبدالوہاب نے بواسطہ اؤب محمد بیان کیا کہ دس کی چیز کا گیا رہ کے عوض بیچنے میں کوئی حرج نہیں اور خرچ کے عوض نفع لے لے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہند سے فرمایا قاعدہ کے مطابق اتنا لے لے جو تجھ کو اور تیرے بچوں کا کافی ہو اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو فقیر ہو تو قاعدہ کے مطابق کھائے اور حسن نے عبداللہ بن مرد اس کا ایک گدھا کرایہ پر لیا تو پوچھا کتنا کرایہ ہوگا کہا دو دانق پھر اس پر سوار ہو گئے پھر دوسری مرتبہ آئے تو کہا گدھا چاہیے گدھا چاہیے اس پر سوار ہو گئے اور کوئی کرایہ طے نہیں کیا اور عبداللہ کو نصف درہم بیج دیا ۔