TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 1952 · Explanation of Buying and Selling

Sahih BukhariHadith 1952

Narrated by Abu Hazim

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ أَتَی رِجَالٌ إِلَی سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ يَسْأَلُونَهُ عَنْ الْمِنْبَرِ فَقَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی فُلَانَةَ امْرَأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ أَنْ مُرِي غُلَامَکِ النَّجَّارَ يَعْمَلُ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا کَلَّمْتُ النَّاسَ فَأَمَرَتْهُ يَعْمَلُهَا مِنْ طَرْفَائِ الْغَابَةِ ثُمَّ جَائَ بِهَا فَأَرْسَلَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ فَجَلَسَ عَلَيْهِ

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، ابوحازم سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ سہل بن سعد کے پاس منبر کے متعلق دریافت کرنے گئے تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کو جس کا نام سہل نے لیا تھا کہلا بھیجا کہ اپنے بڑھئی لڑکے کو حکم دو کہ چند لکڑیاں بنادے جس پر میں بیٹھوں جب لوگوں سے بات کرو، اس عورت نے اس لڑکے کو حکم دیا کہ غابہ کا جھاؤ کا منبر بنا دے چنانچہ وہ تیار کر کے لایا تو اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیا آپ نے اس کا حکم دیا تو وہ رکھا گیا اور آپ اس پر بیٹھے۔

Narrated Abu Hazim: Some men came to Sahl bin Sad to ask him about the pulpit. He replied, "Allah's Apostle sent for a woman (Sahl named her) (this message): 'Order your slave carpenter to make pieces of wood (i.e. a pulpit) for me so that I may sit on it while addressing the people.' So, she ordered him to make it from the tamarisk of the forest. He brought it to her and she sent it to Allah's Apostle . Allah's Apostle ordered it to be placed in the mosque: so, it was put and he sat on it.

Permalink

See the full chapter: بڑھئی کا بیان۔