TrueHadith

اس شخص پر کیا واجب ہے کہ جس نے نذر مانی ہو ایک کام کے کرنے کی اور پھر وہ شخص اس کام کی انجام دہی سے عاجز ہو جائے

Sunan An-Nasa'iHadith 3792

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُهَادَی بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَی بَيْتِ اللَّهِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ مُرْهُ فَلْيَرْکَبْ

اسحاق بن ابراہیم، حماد بن مسعدہ، حمید،ثابت، حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ ایک شخص کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ دو شخصوں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا ہے یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا اس کی کیا وجہ ہے؟ لوگوں نے عرض کیا اس شخص نے خانہ کعبہ تک پیدل چلنے کی منت مانی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خداوند قدوس اس کی جان کو تکلیف میں ڈالنے سے بے نیاز ہے تم اس شخص سے کہو کہ وہ سوار ہو جائے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوار ہونے کا حکم فرمایا۔

It was narrated that Anas said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم passed by an old man who was being supported between two men and said: ‘What is the matter with him?’ They said: ‘He vowed to walk.’ He said: ‘Allah has no need for him to torture himself. Tell him to ride.” So, he was told to ride. (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3793

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْخٍ يُهَادَی بَيْنَ اثْنَيْنِ فَقَالَ مَا بَالُ هَذَا قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ مُرْهُ فَلْيَرْکَبْ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْکَبَ

محمد بن مثنی ، خالد ، حمید ،ثابت ، حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ ایک شخص کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ وہ دو شخصوں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چل رہا ہے یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا اس کی کیا وجہ ہے؟ لوگوں نے عرض کیا اس شخص نے خانہ کعبہ تک پیدل چلنے کی منت مانی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خداوند قدوس اس کی جان کو تکلیف میں ڈالنے سے بے نیاز ہے تم اس شخص سے کہو کہ وہ سوار ہو جائے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوار ہونے کا حکم فرمایا۔

It was narrated that Anas bin Malik said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم came to a man who was being supported by two others and said: ‘What is the matter with him?’ It was said: ‘He vowed to walk to the Ka’bah.’ He said: ‘Allah does not benefit from his torturing himself.’ And he told him to ride.” (Sahih)

Permalink

Sunan An-Nasa'iHadith 3794

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَتَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رَجُلٍ يُهَادَی بَيْنَ ابْنَيْهِ فَقَالَ مَا شَأْنُ هَذَا فَقِيلَ نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَی الْکَعْبَةِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِتَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ شَيْئًا فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْکَبَ

احمد بن حفص، حفص، ابراہیم بن طہمان، یحیی بن سعید، کی حمید طویل، حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک شخص کے پاس تشریف لائے جو کہ اپنے دو لڑکوں کے درمیان چل رہا تھا یعنی اس کو اس کے دو لڑکے پکڑ کر چل رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی کیا حالت ہے؟ یعنی یہ شخص اس طریقہ سے کس وجہ سے چل رہا ہے؟ کسی شخص نے عرض کیا اس نے نذر مانی ہے خانہ کعبہ تک پیدل جانے کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خداوند قدوس اس قسم کے عذاب اور تکلیف دہ عذاب اٹھانے کی قدر نہیں فرماتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم فرمایا سوار ہونے کا ۔

was narrated that Abu said: “The Messenger of said: ‘Whoever swears an says: “If Allah wills, then made an exception.” It Hurairah Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم oath and he has (Sahih)

Permalink