عمرہ کا بیان
Statement on Umrah
1.عمرہ کا بیان، عمرہ کا واجب ہونا اور اس کی فضیلت اور عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں ہے کوئی شخص مگر اس پر ایک حج یا عمرہ واجب ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ کتاب اللہ میں حج کا ساتھی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو۔2.اس شخص کا بیان جو حج سے پہلے عمرہ کرے ۔3.نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟4.رمضان میں عمرہ کرنے کا بیان ۔5.محصب کی رات یا اس کے علاوہ کسی اور وقت میں عمرہ کرنے کا بیان ۔6.تنعیم سے عمرہ کرنے کا بیان ۔7.حج کے بعد بغیر ہدی کے عمرہ کرنے کا بیان ۔8.بقدر مشقت عمرہ کے ثواب کا بیان ۔9.عمرہ کرنے والا جب طواف کرے پھر روانہ ہوجائے تو کیا طواف وداع کی طرف سے وہ کافی ہے ۔10.جو کام حج میں کئے جاتے ہیں وہی کام عمرہ میں بھی کرے ۔11.عمرہ کرنے والا کب احرام سے باہر ہوتا ہے ؟ اور عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ اس کو عمرہ بنادیں اور طواف کریں پھر بال کتروائیں اور احرام سے باہر ہوجائیں ۔12.جب حج یا عمرہ یا جہاد سے واپس ہو تو کیا کہے ؟13.آنے والے حاجیوں کے استقبال کرنے کا بیان اور تین آدمیوں کا جانور پر سوار ہونا۔14.صبح گھر واپس ہونے کا بیان ۔15.شام کو گھر آنے کا بیان ۔16.جب شہر میں پہنچے تو اپنے گھر میں رات کو نہ اترے۔17.مدینہ کے قریب پہنچتے پر سواری کو تیز کرنے کا بیان ۔18.اللہ تعالیٰ کا قول کہ گھروں میں ان کے دروازوں سے آو19.سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے۔20.مسافروں کا بیان جب کہ اس کوچلنے کی عجلت اور گھر پہنچنے کی جلد ضرورت ہو۔21.جب عمرہ کرنے والے کو روکا جائے۔22.حج میں روکے جانے کا بیان ۔23.روکے جانے کی صورت میں سر منڈانے سے پہلے قربانی کرنے کا بیان ۔24.ان کی دلیل جو اس کے قائل ہیں کہ محصر پر بدلہ واجب نہیں اور روح نے بواسطہ شبل، ابن ابی نجیح، مجاہد، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بدلہ اس شخص کے ذمہ واجب ہے جس کا حج صحبت کے باعث ٹوٹ جائے لیکن جس کو کوئی عذر وغیرہ مانع ہو تو وہ احرام سے باہر ہوجائے گا اور قضاء نہ کرے گا، اور اگر اسکے پاس قربانی کا جانور ہو اور وہ روک دیا جائے تو اس کی قربانی کردے اگر اسے بھیجنے پر قدرت نہ ہو، اور اگر بھیجنے پر قدرت ہو تو جب تک قربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے احرام سے باہر نہ ہو اور امام مالک وغیرہ کا قول ہے کہ اپنی ہدی کو ذبح کر ڈالے اور سر منڈالے جس جگہ پر بھی ہو اس کی قضاء نہیں ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے حدیبیہ میں قربانی کی اور سر منڈایا اور طواف اور ہدی کے خانہ کعبہ تک پہنچنے سے پہلے ہی احرام سے باہرہو گئے، پھر یہ منقول نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو قضاء کرنے یا دوبارہ کرنے کا حکم دیا ہو اور حدیبیہ حرم سے باہر ہے ۔25.اللہ تعالیٰ کا قول کہ تم میں سے جو شخص مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو روزوں کافدیہ ہے یاصدقہ یا قربانی ہے اور اسے اختیار ہے لیکن روزے تین دن رکھے ۔26.اللہ تعالیٰ کے قول او صدقۃ سے مراد چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے ۔27.فدیہ میں نصف صاع کھانا کھلانے کا بیان۔28.نسک سے مراد بکری کی قربانی ہے۔29.اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ حج میں نہ بری بات اور نہ جھگڑا کرے ۔30.اگر غیر محرم شکار کرے اور کسی محرم کو تحفہ بھیجے تو وہ اس کو کھالے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ اور انس رضی اللہ عنہما نے شکار کے علاوہ جانور مثلا اونٹ بکری گائے، مرغی اور گھوڑے کے ذبح میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا، عدل ذلک سے مراد مثل ہے اگر عدل زیر کے ساتھ ہو تو تو اس کے معنیٰ ہم وزن ہونے کے ہیں قیاما کے قواما اور یعدلون کے معنی اس کے برابر ہونے کے ہیں ۔31.محرم شکار کو دیکھ کر ہنسیں اور غیر محرم سمجھ جائے۔32.محرم شکار کی طرف غیر محرم کے شکار کرنے کے لئے اشارہ نہ کرے ۔33.اگر محرم گورخر زندہ بھیجے تو قبول نہ کرے ۔34.محرم کون ہے جانور مارسکتا ہے35.حرم کا درخت نہ کاٹا جائے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ اس کا کانٹا نہ کاٹا جائے ۔36.حرم کا شکار نہ بھگایا جائے ۔37.مکہ میں جنگ کرنا حلال نہیں ہے، ابوشریح نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ وہاں خونریزی نہ کرے ۔38.محرم کے پچھنے لگوانے کا بیان اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو داغ دلوایا اس حال میں کہ وہ محرم تھے اور ایسی دوا لگاسکتا ہے جس میں خوشبو نہ ہو۔39.محرم کے نکاح کا بیان ۔40.محرم مرد اور عورت کو خوشبولگانے کی ممانعت کا بیان اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ محرم ورس یا زعفران کا رنگا ہو اکپڑا نہ پہنے ۔41.محرم کے غسل کرنے کا بیان اور ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا محرم حمام میں داخل ہوسکتا ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ وعائشہ رضی اللہ عنہا نے محرم کے لئے بدن کھجانے میں کوئی مضائقہ نہ سمجھا۔42.محرم کے موزے پہننے کا بیان جب کہ اس کے پاس جوتیاں نہ ہوں ۔43.جس کے پاس تہ بند نہ ہو وہ پائجامہ پہن لے ۔44.محرم کے ہتھیار باندھنے کا بیان اور عکرمہ نے کہا کہ جب دشمن کا خوف ہو تو ہتھیار باندھے اور فدیہ دے لیکن فدیہ دینے کے متعلق ان کے متابع حدیث کسی نے روایت نہیں کی۔45.حرم اور مکہ میں بغیر احرام باندھے ہوئے داخل ہونے کا بیان اور ابن عمر رضی اللہ عنہ بغیر احرام باندھے ہوئے داخل ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھنے کا حکم اس شخص کو دیا جو حج اور عمرہ کا ارادہ کرے اور لکڑیاں بیچنے والوں اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کا تذکرہ نہیں کیا۔46.ناواقفیت میں کوئی شخص قمیص پہنے ہوئے احرام باندھ لے، اور عطاء نے کہا کہ اگر ناواقفیت میں یا بھول کر خوشبو لگائے یا کپڑا پہنے تو اس پر کفارہ نہیں ہے ۔47.محرم کا بیان جو عرفات میں مرجائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ اسکی طرف سے حج کرکے باقی ارکان ادا کئے جائیں ۔48.محرم جب مرجائے تو اس کی تجہیز وتکفین کے طریقوں کا بیان ۔49.میت کی طرف سے حج اور نذروں کے پورا کرنے کا بیان اور مرد کا اپنی بیوی کی طرف سے حج کرنے کا بیان50.اس شخص کی طرف سے حج کرنے کا بیان جو سواری پر بیٹھ نہ سکے ۔51.عورت کا اپنے شوہر کی طرف سے حج کرنے کا بیان ۔52.بچوں کے حج کرنے کا بیان ۔53.عورتوں کے حج کرنے کا بیان اور مجھ سے احمد بن محمد نے بیان کیا کہ مجھ سے ابراہیم، انہوں نے اپنے والد اور انہوں نے ان کے دادا سے روایت کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری حج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو حج کرنے کی اجازت دی اور ان کے ساتھ عثمان بن عفان اور عبدالرحمن کو بھیجا۔54.کعبہ کی طرف پیدل جانے کی نذر ماننے کا بیان ۔55.مدینہ کے حرم کا بیان۔56.مدینہ کی فضیلت اور اس کا بیان کہ وہ برے آدمی کو نکال دیتا ہے ۔57.مدینہ طابہ ہے ۔ (صحیح مسلم کی روایت کے مطابق طابہ مدینہ کا یہ نام خود اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے ۔ اور علماء نے لکھا ہے کہ مدینہ کی مٹی، آب و ہوا اور وہاں پائی جانے والی ایک خاص قسم کی خوشبو کی وجہ سے یہ نام رکھا گیا اس کے علاوہ بھی مدینہ کے کئی نام ہیں، طیبہ، مطیبہ، مسکینہ، دار، جابر، مجبور، منیرہ، یثرب، مدری، محبوبہ وغیرہ۔ بعض حضرات نے مدینہ کے ناموں کی تعداد چالیس لکھی ہے۔58.مدینہ کے دونوں پتھریلے میدانوں کا بیان۔59.اس شخص کا بیان جو مدینہ سے نفرت کرے ۔60.ایمان مدینہ کی طرف سمٹ کر آئے گا۔61.اہل مدینہ سے فریب کرنے والوں کے گناہ کا بیان ۔62.مدینہ کے محلوں کا بیان ۔63.دجال مدینہ میں داخل نہیں ہوگا۔64.مدینہ برے آدمی کو دور کرتا ہے۔65.اس باب میں کوئی عنوان نہیں ہے۔66.مدینہ چھوڑنے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاناپسند فرمانے کا بیان ۔67.یہ باب ترجمۃ الباب سے خالی ہے۔