TrueHadith

دروازے پر کھڑے ہو کر تین مرتبہ سلام کرنے کے بعد بھی گھر میں سے جواب نہ ملے تو واپس ہو جاؤ۔

Mishkat SharifHadith (internal ref #1940602)

عن أبي سعيد الخدري قال أتانا أبو موسى قال إن عمر أرسل إلي أن آتيه فأتيت بابه فسلمت ثلاثا فلم يرد علي فرجعت . فقال ما منعك أن تأتينا ؟ فقلت إني أتيت فسلمت على بابك ثلاثا فلم ترد علي فرجعت وقد قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا استأذن أحدكم ثلاثا فلم يؤذن له فليرجع . فقال عمر أقم عليه البينة . قال أبو سعيد فقمت معه فذهبت إلى عمر فشهدت .

" حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میرے پاس ایک شخص کو بھیج کر مجھے بلا بھیجا ہے جب میں حسب طلب ان کے دروازے پر پہنچا اور اندر آنے کی اجازت طلب کرنے کے لیے تین مرتبہ سلام کیا تو مجھ کو سلام کا جواب نہیں ملا چنانچہ میں واپس چلا آیا پھر بعد میں ملاقات ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کہ میرے پاس آنے سے تمہیں کس چیز نے روکا تھا میں نے کہا کہ میں آپ کے پاس آیا تھا اور آپ کے دروازے پر کھڑے ہو کر تین مرتبہ سلام کیا لیکن آپ نے اس کا جواب نہیں دیا اور نہ ہی آپ کے کسی خادم ہی نے جواب دیا لہذا میں واپس آ گیا کیوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا تھا کہ جب تم میں سے کوئی شخص تین مرتبہ اجازت طلب کرے اور اس کو اجازت نہ ملے تو چاہیے کہ واپس چلا جائے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کہ اس حدیث کے گواہ لاؤ یعنی اس حدیث کے صحیح ہونے پر گواہ پیش کرو کہ یہ نبی کا ارشاد گرامی ہے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلنے کے لیے کھڑا ہوا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر گواہی دی۔ تشریح حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے سامنے مذکورہ واقعہ بیان کیا اور کہا کہ یہ حدیث چونکہ آپ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اس لیے میرے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلیے اور ان کے سامنے گواہی دیجیے چنانچہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور یہ گواہی دی کہ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ نے جو حدیث بیان کی ہے وہ بالکل درست ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا گواہ طلب کرنا محض احتیاط کے طور پر تھا کہ دوسرے لوگوں کو حدیث بیان کرنے کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے اور خاص طور پر وہ جھوٹے لوگ جو من گھڑ حدیثیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے بیان کرنا چاہیں ان کو اس بات کی جرات نہ ہو سکے ورنہ متفقہ طور پر یہ بات ہے کہ خبر واحد مقبول ہے خاص طور پر اس صورت میں جب کہ راوی حضرت موسی اشعری رضی اللہ عنہ جیسا صحابی ہو جو کبار صحابہ میں سے ہیں ۔ دروازے پر کھڑے ہو کر تین بار سلام اس لیے کرنا چاہیے کہ ایک سلام تو تعرف کے لیے ہوگا دوسرا سلام تامل کے لیے اور تیسرا سلام اجازت کے لیے ہوگا یعنی اہل خانہ پہلا سلام سن کر اس شخص کو پہچانیں گے کہ یہ کون شخص ہے اور دوسرا سلام سن کر وہ یہ سوچیں گے کہ آیا اس شخص کو اندر آنے کی اجازت دی جائے یا نہیں اور تیسرا سلام سننے کے بعد اندر آنے کی اجازت دیں گے۔

-

Permalink