TrueHadith

مناقب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آپ کی کنیت ابوتراب اور ابوالحسن ہے

Jami' TirmidhiHadith 3645

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْکِ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَمَضَی فِي السَّرِيَّةِ فَأَصَابَ جَارِيَةً فَأَنْکَرُوا عَلَيْهِ وَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِذَا لَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْنَاهُ بِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ وَکَانَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا رَجَعُوا مِنْ السَّفَرِ بَدَئُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفُوا إِلَی رِحَالِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَتْ السَّرِيَّةُ سَلَّمُوا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ أَحَدُ الْأَرْبَعَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَی عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ صَنَعَ کَذَا وَکَذَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ الثَّانِي فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ الثَّالِثُ فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالُوا فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْغَضَبُ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّ کُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ

قتیبہ بن سعید، جعفر بن سلیمان ضبعی، عن یزید رشک، مطرف بن عبد اللہ، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک لشکر کا امیر بنا کر روانہ فرمایا پس وہ (حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ایک چھوٹا لشکر لے کر گئے اور مال غنیمت میں سے ایک باندی لے لی لوگوں کو یہ بات ناگوار گزری اور چار صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عہد کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہونے پر بتا دیں گے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا کیا۔ مسلمانوں کی عادت تھی کہ جب کسی سفر سے لوٹتے تو پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے سلام عرض کرتے اور اسکے بعد اپنے گھروں کو جایا کرتے تھے۔ چنانچہ جب یہ لشکر سلام عرض کرنے کے لئے حاضر ہوا تو ان چار آدمیوں میں ایک کھڑا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے قصہ بیان فرمایا اور عرض کیا کہ دیکھیے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا پھر دوسرا کھڑا ہوا اور اس نے بھی وہی کچھ کہا جو پہلے نے کہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی چہرہ پھیر لیا تیسرے کے ساتھ بھی اسی طرح ہوا لیکن جب چوتھے نے اپنی بات پوری کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور پر غصے کے آثار نمایاں تھے اور تین مرتبہ ارشاد فرمایا کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تم کیا چاہتے ہو علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ سے ہیں اور میں اس میں سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مومن کا دوست ہے یہ حدیث غریب ہے ہم اس حدیث کو صرف جعفر بن سلیمان کی روایت جانتے ہیں۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) narrated Allah’s Messenger (SAW) sent an army and appointed an amir, Ali ibn Abu Talib over them. They were a sariyah. He took a female captive from the booty. The people disliked that and four of the sahabah resolved to inform Allah’s Messenger (SAW) of what Ali ibn Abu Talib (RA) did, on meeting him. The Muslims used to meet Allah’s Messenger first thing on returning home from a journey, and then go to their homes. Thus, when this sariyah returned, they greeted the Prophet (SAW) One of the four stood and said, “0 Messenger, of Allah, do you know that Ali ibn Abu Talib did this-and-that.” Allah’s Messenger turned his face away from him. Then the second stood up and spoke as the first had, and he turned away from him.Then the third stood and spoke similar words, and he turned his face away from him. Then, the fourth stood and spoke like they had spoken. Allah’s Messenger (SAW) turned to him and anger was obvious on his face. He said, ‘What do you expect from Ali? What do you expect from Ali. Ali is from me and I from him and he is the wali (friend or guardian), of all Muslims after me.” --------------------------------------------------------------------------------

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3646

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ قَال سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ أَوْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ شَکَّ شُعْبَةُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رَوَی شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَأَبُو سَرِيحَةَ هُوَ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، سلمہ بن کہیل، ابوطفیل، حضرت ابوسریحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہیا زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں (شعبہ کو شک ہے) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کا میں دوست ہوں علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس کا دوست ہے یہ حدیث حسن غریب ہے شعبہ اس حدیث کو میمون بن عبداللہ سے وہ زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کے ہم معنی نقل کرتے ہیں ابوسریحہ کا نام حذیفہ بن اسد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے یہ صحابی ہیں۔

Sayyidina Abu Sarihah (RA) or Zayd ibn Arqam-Shubah is uncertain about it-reported that the Prophet (SAW) said, “He of whom I am a friend, Ali is his friend.”

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3647

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَی الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَکْرٍ زَوَّجَنِيَ ابْنَتَهُ وَحَمَلَنِي إِلَی دَارِ الْهِجْرَةِ وَأَعْتَقَ بِلَالًا مِنْ مَالِهِ رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ يَقُولُ الْحَقَّ وَإِنْ کَانَ مُرًّا تَرَکَهُ الْحَقُّ وَمَا لَهُ صَدِيقٌ رَحِمَ اللَّهُ عُثْمَانَ تَسْتَحْيِيهِ الْمَلَائِکَةُ رَحِمَ اللَّهُ عَلِيًّا اللَّهُمَّ أَدِرْ الْحَقَّ مَعَهُ حَيْثُ دَارَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَالْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ کَثِيرُ الْغَرَائِبِ وَأَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ اسْمُهُ يَحْيَی بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ کُوفِيٌّ وَهُوَ ثِقَةٌ

ابوالخطاب زیاد بن یحیی بصری، ابوعتاب سہل بن حماد، مختار بن نافع، ابوحیان تیمی، ان کے والد، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحم فرمائے اس نے اپنی بیٹی میرے نکاح میں دی اور مجھے دارالہجرة لے کر آئے پھر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی انہوں نے اپنے مال سے آزاد کروایا اللہ تعالیٰ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحم فرمائے یہ ہمیشہ حق بات کرتے ہیں اگرچہ وہ کڑوی ہو اسی لئے وہ اس حال میں ہیں کہ ان کا کوئی دوست نہیں اللہ تعالیٰ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحم فرمائے اس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رحم فرمائے اے اللہ یہ جہاں کہیں بھی ہو حق اس کے ساتھ رہے۔ یہ حدیث غریب ہے ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

Sayyidina Ali narrated: Allah’s Messenger (SAW) said, “May Allah have mercy on Abu Bakr. He married his daughter to me, brought me to the dar-ul-hijrah (Madinah) and emancipated Bilal with his wealth. May Allah have mercy on Umar. He speaks the truth even if it be bitter. Truthfulness has left him without friends. May Allah have mercy on Uthman! The angels show modesty to him. May Allah have mercy on Ali! 0 Allah, let truth be with him wherever he is.”

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3648

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ شَرِيکٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِالرَّحَبِيَّةِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ خَرَجَ إِلَيْنَا نَاسٌ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَأُنَاسٌ مِنْ رُؤَسَائِ الْمُشْرِکِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجَ إِلَيْکَ نَاسٌ مِنْ أَبْنَائِنَا وَإِخْوَانِنَا وَأَرِقَّائِنَا وَلَيْسَ لَهُمْ فِقْهٌ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا خَرَجُوا فِرَارًا مِنْ أَمْوَالِنَا وَضِيَاعِنَا فَارْدُدْهُمْ إِلَيْنَا قَالَ فَإِنْ لَمْ يَکُنْ لَهُمْ فِقْهٌ فِي الدِّينِ سَنُفَقِّهُهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَتَنْتَهُنَّ أَوْ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ عَلَيْکُمْ مَنْ يَضْرِبُ رِقَابَکُمْ بِالسَّيْفِ عَلَی الدِّينِ قَدْ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ عَلَی الْإِيمَانِ قَالُوا مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَکْرٍ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَالَ عُمَرُ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هُوَ خَاصِفُ النَّعْلِ وَکَانَ أَعْطَی عَلِيًّا نَعْلَهُ يَخْصِفُهَا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا عَلِيٌّ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ رِبْعِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ و سَمِعْت الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَکِيعًا يَقُولُ لَمْ يَکْذِبْ رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ فِي الْإِسْلَامِ کَذْبَةً و أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ قَال سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ أَثْبَتُ أَهْلِ الْکُوفَةِ

سفیان بن وکیع، وکیع، شریک، منصور، ربعی بن حراش، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رحبہ مقام پر فرمایا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر کئی مشرک ہماری طرف آئے جن میں سہیل بن عمرو اور کئی مشرک سردار تھے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارے اولاد، بھائیوں اور غلاموں میں سے بہت سے ایسے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے جنہیں دین کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں۔ یہ لوگ ہمارے اموال اور جائیدادوں سے فرار ہوئے ہیں۔ لہذا آپ یہ لوگ ہمیں واپس کر دیں اگر انہیں دین کی سمجھ نہیں تو ہم انہیں سمجھا دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اہل قریش ! تم لوگ اپنی حرکتوں سے باز آ جاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تم پر ایسے لوگ مسلط کریں گے جو تمہیں قتل کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے ایمان کو آزما لیا ہے۔ ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما اور لوگوں نے پوچھا کہ وہ کون ہے یا رسول اللہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جوتیوں میں پیوند لگانے والا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی نعلین مبارک مرمت کے لئے دی تھیں۔ حضرت ربعی بن حراش فرماتے ہیں کہ پھر علی رضی اللہ عنہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے گا۔ وہ اپنی جگہ جہنم میں تلاش کر لے۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو اس سند سے صرف ربعی کی روایت سے جانتے ہیں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib said at Rahbah: During the peace of Hudaybiyah, a number of idolators came to us. Suhayl ibn Amr and other chiefs were among them. They said, “0 Messenger of Allah, many people have come to you from our children, our brothers and our slaves. And they have no understanding of religion. They have only escaped from our wealth and our properties. So, return them to us. If they lack an understanding of religion, we shall make them understand.” So, the Prophet (SAW) said, “0 company of Quraysh, desist! If not then Allah will impose on you such people as will strike your necks with swrlds for religion. Allah has tried their hearts for faith.” They asked, “Who is he, 0 Messenger of Allah?”.Abu Bakr (RA) asked him, “Who is he, 0 Messenger of Allah?” And Umar(RA) asked, “Who is he, 0 Messenger of Allah?” He said, “He is the one who mends sandals,” and he had given his sandals to Ali to mend them. Then Ali turned to them and said : Allah’s Messenger said, “If anyone forges a lie on me intentionally then let him find his place in Hell.” [Bukhari 106, Muslim 2, Ibn e Majah 31] --------------------------------------------------------------------------------

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3649

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ إِسْرَائِيلَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

مسنگ

-

Permalink