حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُکَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ الزُّبَيْرِ قَالَ کَانَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ فَنَهَضَ إِلَی صَخْرَةٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَأَقْعَدَ تَحْتَهُ طَلْحَةَ فَصَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی اسْتَوَی عَلَی الصَّخْرَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَوْجَبَ طَلْحَةُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
ابوسعید اشج، یونس بن بکیر، محمد بن اسحاق، یحیی بن عباد بن عبداللہ بن زبیر، عبداللہ بن زبیر، حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسن مبارک پر دو زرہیں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک پتھر پر چڑھنے لگے تو نہ چڑھ سکے۔ چنانچہ طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بٹھایا اور ان پر پاؤں رکھ کر چڑھ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیلئے جنت واجب ہوگئی۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Sayyidina Zubayr reported that during the Battle of Uhud, Allah’s Messenger (SAW) had two coats of mail on him. He began to climb over a rock, but could not. So, he made Talhah sit down and climbed over his back on to the rock. He (the narrator) reported that he heard the Prophet (SAW) say, “It is now the right of Tathah.” (meaning paradise). [Ahmed 1417]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَی الطُّلَحِيُّ مِنْ وَلَدِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَی شَهِيدٍ يَمْشِي عَلَی وَجْهِ الْأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلَی طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الصَّلْتِ وَقَدْ تَکَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ وَفِي صَالِحِ بْنِ مُوسَی مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِمَا
قتیبہ، صالح بن موسی، صلت بن دینار، ابونضرة، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو کسی شہید کو زمین پر چلتا ہوا دیکھ کر خوش ہوتا ہو وہ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھ لے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف صلت بن دینار کی روایت سے جانتے ہیں اور ان کے متعلق بعض اہل علم کلام کرتے ہیں۔ بعض محدثین صالح بن موسیٰ پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that he heard Allah’s Messenger (SAW) say, “He to whom it pleases to see a martyr walk on the surface of the earth should look at Talliah ibn Ubaydullah.” [Ibn e Majah 125]
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ مَنْصُورٍ الْعَنَزِيُّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ الْيَشْکُرِيِّ قَال سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ سَمِعَتْ أُذُنِي مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ جَارَايَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
ابوسعید اشج، ابوعبدالرحمن بن منصور عنزی، عقبہ بن علقمہ یشکری، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے کانوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ سے یہ الفاظ سنے کہ طلحہ اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنت میں میرے پڑوسی ہوں گے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) narrated: My ears heard from the mouth of Allah’s Messenger (SAW) he said, “Tathah and Zubayr are my two neighbours in paradise.”
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ يَحْيَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَمِّهِ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی مُعَاوِيَةَ فَقَالَ أَلَا أُبَشِّرُکَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَی نَحْبَهُ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
عبدالقدوس بن محمد عطار، عمرو بن عاصم، اسحاق بن یحیی بن طلحہ، حضرت موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا تو وہ کہنے لگے کیا میں تمہیں ایک بشارت نہ دوں؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں۔ جنہوں نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Musa ibn Talhah narrated: I went to Mu’awiyah who said, “Shall I not give you glad tidings? I had heard Allah’s Messenger (SAW) say: Talhah is one who has fulfilled his vow.”
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَی عَنْ مُوسَی وَعِيسَی ابْنَيْ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِمَا طَلْحَةَ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِأَعْرَابِيٍّ جَاهِلٍ سَلْهُ عَمَّنْ قَضَی نَحْبَهُ مَنْ هُوَ وَکَانُوا لَا يَجْتَرِئُونَ هُمْ عَلَی مَسْأَلَتِهِ يُوَقِّرُونَهُ وَيَهَابُونَهُ فَسَأَلَهُ الْأَعْرَابِيُّ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ إِنِّي اطَّلَعْتُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَيَّ ثِيَابٌ خُضْرٌ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَمَّنْ قَضَی نَحْبَهُ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَذَا مِمَّنْ قَضَی نَحْبَهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي کُرَيْبٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ بُکَيْرٍ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ کِبَارِ أَهْلِ الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي کُرَيْبٍ هَذَا الْحَدِيثَ و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يُحَدِّثُ بِهَذَا عَنْ أَبِي کُرَيْبٍ وَوَضَعَهُ فِي کِتَابِ الْفَوَائِدِ
محمد بن علاء، یونس بن بکیر، طلحہ بن یحیی، موسیٰ و عیسیٰ بن طلحہ، حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جاہل اعرابی سے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھو کہ کون ہیں جو اپنا کام پورا کر چکے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سوال پوچھنے کی جرائت نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تو قیر (عزت) کرتے اور ڈرتے تھے۔ چنانچہ اس اعرابی نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اس نے دوبارہ پوچھا اس مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چہرہ انور پھیر لیا۔ تیسری مرتبہ بھی ایس ہی ہوا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔ اتنے میں، میں بھی سبز کپڑے پہنے ہوئے مسجد کے دروازے میں پہنچا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر مجھ پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ سوال کرنے والا کہاں ہے۔ اعرابی نے کہا کہ میں ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے فرمایا یہ شخص ان میں سے ہے جنہوں نے اپنا کام مکمل کر لیا۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف ابوکریب کی روایت سے جانتے ہیں۔ کئی بار محدثین اسیابوکریب سے نقل کرتے ہیں۔ میں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری سے سنا وہ بھی یہ حدیث ابوکریب ہی سے نقل کرتے ہیں اور انہوں نے اسے کتاب الفوائد میں بیان ہے۔
Sayyidina Talhah reported that some of the sahabah instructed an ignorant villager to ask him (the Prophet (SAW)) about (completed his vow), “Who is the one?’ They did not dare to ask directly because they respected him and held him in awe. The villager asked him, but he evaded him. He asked him again, but he evaded him. Again he asked him but he evaded him. Then I came in the gate of the mosque wearing green garments. When the Prophet saw me, he asked, “Where is the one who asked about (the one who fulfilled his vow) ?“ The villager answered, “I, 0 Messenger of Allah!” He said, “He is the one who fulfilled his vow.”