TrueHadith

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مناقب

Jami' TirmidhiHadith 3770

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْمَعُ مِنْکَ أَشْيَائَ فَلَا أَحْفَظُهَا قَالَ ابْسُطْ رِدَائَکَ فَبَسَطْتُهُ فَحَدَّثَ حَدِيثًا کَثِيرًا فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

ابوموسی محمد بن مثنی، عثمان بن عمر، ابن ابی ذئب، سعید مقبری، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت سی احادیث سنتا ہوں لیکن یاد نہیں کر سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اتنی چادر پھیلاؤ۔ میں نے چادر پھیلائی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت سی احادیث بیان فرمائیں ان میں سے میں کچھ نہیں بھو لا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور کئی سندوں سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: I said, “0 Messenger of Allah, I hear from you something but cannot retain it (in my memory).” He said, “Spread your cloak.’ So, I spread it, Then, he narrated many ahadith, and I did not forget anything that he narrated. [Bukhari 118, Muslim 2492]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3769

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَسَطْتُ ثَوْبِي عِنْدَهُ ثُمَّ أَخَذَهُ فَجَمَعَهُ عَلَی قَلْبِي فَمَا نَسِيتُ بَعْدَهُ حَدِيثًا قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ

محمد بن عمر بن علی مقدمی، ابن ابی عدی، شعبہ، سماک، ابوربیع، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر چادر بچھا دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اکٹھا کر کے میرے دل پر رکھ دیا۔ اور اس کے بعد میں کچھ نہیں بھولا۔ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

Sayyidina Abu Hurayrah narrated: I went to the Prophet (SAW) and spread my cloak befoure him. He took it and rolled it up on my heart. After that, I never forgot (anything).

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3771

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يَعْلَی بْنُ عَطَائٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْتَ کُنْتَ أَلْزَمَنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحْفَظَنَا لِحَدِيثِهِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

احمد بن منیع، ہشیم، یعلی بن عطاء، ولید بن عبدالرحمن، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے تھے۔ اور ہم سب سے زیادہ ان کی حدیثوں کو یاد رکھنے والے ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) said to Sayyidina Abu Hurayrah “0 Abu Hurayrah, you were in the company of Allah’s Messenger (SAW) more than us and retained more hadith from him.” [Ahmed 4453]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3772

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَرَأَيْتَ هَذَا الْيَمَانِيَّ يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ أَهُوَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْکُمْ نَسْمَعُ مِنْهُ مَا لَا نَسْمَعُ مِنْکُمْ أَوْ يَقُولُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ قَالَ أَمَّا أَنْ يَکُونَ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ نَسْمَعْ فَلَا أَشُکُّ إِلَّا أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ نَسْمَعْ وَذَاکَ أَنَّهُ کَانَ مِسْکِينًا لَا شَيْئَ لَهُ ضَيْفًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدُهُ مَعَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکُنَّا نَحْنُ أَهْلَ بُيُوتَاتٍ وَغِنًی وَکُنَّا نَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَفَيْ النَّهَارِ فَلَا أَشُکُّ إِلَّا أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ نَسْمَعْ وَلَا نَجِدُ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ يَقُولُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ وَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ بُکَيْرٍ وَغَيْرُهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ

عبداللہ بن عبدالرحمن، احمد بن سعید حرانی، محمد بن سلمہ، محمد بن اسحاق، محمد بن ابراہیم، مالک بن عامر کہتے ہیں کہ ایک شخص طلحہ بن عبیداللہ کے پاس آیا اور عرض کیا ایابومحمد آپ نے اس یمنی (ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو دیکھا ہے کیا وہ تم سے زیادہ احادیث جانتا ہے؟ کیونکہ ہم اس سے وہ احادیث سنتے ہیں جو تم لوگوں سے نہیں سنتے یا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرتا ہے؟ انہوں نے فرمایا یہ صحیح ہے کہ اس نے ہم سے زیادہ احادیث سنی ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ مسکین تھا اسکے پاس کوئی چیز نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہمان رہتا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہی کھاتا پیتا تھا جبکہ ہم لوگ گھر بار والے اور مالدار لوگ تھے۔ ہم صبح و شام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ احادیث سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں اور تم کسی نیک شخص کو کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہوئے نہیں دیکھو گے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں۔ یونس بن بکیر وغیرہ یہ حدیث محمد بن اسحاق سے نقل کرتے ہیں۔

Maalik ibn Abu Aamir reported that a man came to Talhah ibn Ubaydullah and asked, “0 Abu Muhammad, what do you say about this man from Yaman-that is, Abu Hurayrah (RA) does he know more ahadith of Allah’s Messenger than you people? We hear from him what we do not hear from you ,or, does he ascribe to Allah’s Messenger what he has not said?” He said He has, indeed, heard from Allah’s Messenger (SAW) what we did not hear. This, because he was poor, having nothing. He was the guest of Allah’s Messenger ‘. His hand was with the hand of Allah’s Messenger ‘ while we were people with fanilies, homes and riches. We would come to Allah’s Messenger (SAW) at the two ends of the day. Hence, there is no doubt whatever that he has heard from Allah’s Messenger (SAW) what we have not heard. And, you will never find anyone who has good in him ascribe words to Allah’s Messenger (SAW) that he had never said.

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3773

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنِ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ قُلْتُ مِنْ دَوْسٍ قَالَ مَا کُنْتُ أَرَی أَنَّ فِي دَوْسٍ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ رُفَيْعٌ

بشر بن آدم، ازہر سمان، عبدالصمد بن عبدالوارث، ابوخلدہ، ابوالعالیہ، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا قبیلہ دوس سے۔ آپ نے فرمایا کہ میرا خیال تھا کہ اس قبیلے سے کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا جس میں خیر ہو۔ یہ حدیث غریب صحیح ہے۔ ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور ابوعالیہ کا نام رفیع ہے۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger (SAW) asked, “To what tribe do you belong?” He said, “I come from Daws.” He said, “I had thought that there was none among Daws with any good in him.”

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3774

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَی الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا الْمُهَاجِرُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمَرَاتٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ فِيهِنَّ بِالْبَرَکَةِ فَضَمَّهُنَّ ثُمَّ دَعَا لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَکَةِ فَقَالَ خُذْهُنَّ وَاجْعَلْهُنَّ فِي مِزْوَدِکَ هَذَا أَوْ فِي هَذَا الْمِزْوَدِ کُلَّمَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا فَأَدْخِلْ فِيهِ يَدَکَ فَخُذْهُ وَلَا تَنْثُرْهُ نَثْرًا فَقَدْ حَمَلْتُ مِنْ ذَلِکَ التَّمْرِ کَذَا وَکَذَا مِنْ وَسْقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَکُنَّا نَأْکُلُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ وَکَانَ لَا يُفَارِقُ حِقْوِي حَتَّی کَانَ يَوْمُ قَتْلِ عُثْمَانَ فَإِنَّهُ انْقَطَعَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

عمران بن موسیٰ قزاز، حماد بن زید، مہاجر، ابوالعالیہ ریاحی، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھجوریں لایا اور عرض کیا یا رسول اللہ ان میں برکت کی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جمع کرکے میرے لئے دعا کی اور فرمایا لو پکڑو اور اسے اپنے توشہ دان میں رکھ دو۔ جب تم لینا چاہو تو ہاتھ ڈال کر لے لینا اور اسے چھاڑنا نہیں۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس میں سے کتنے ہی ٹوکرے اللہ کی راہ میں خرچ کئے پھر خود بھی ہم اس میں سے کھاتے تھے۔ اور دوسروں کو بھی کھلاتے تھے وہ تھیلی کبھی میری کمر سے جدا نہیں ہوئی تھی۔ لیکن جس روز حضرت عثمان کو قتل کیا اس روز وہ گر گئی۔ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔ اور کئی سندوں سے حضرت ابوہریرہ سے اس سند کے علاوہ بھی منقول ہے۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narated: I brought some dates to the Prophet and requested him, ‘0 Messenger of Allah, pray to Allah for blessing in these.’ He gathered them and prayed for me in it, and said to me, “Take them and put them in your tifin carrier, this one. Whenever you wish take any (date) from it put your hand into it. Take it out but do not dust it out.’ Indeed, I have carried many baskets full of this date given away in Allah’s path, we ate from it ourselves and fed other people. And it has never been put away from my back till the day when Uthman was killed it dropped (somewhere and was lost). [Ahmed 8636]

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3775

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرَابِطِيُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ لِمَ کُنِّيتَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَا تَفْرَقُ مِنِّي قُلْتُ بَلَی وَاللَّهِ إِنِّي لَأَهَابُکَ قَالَ کُنْتُ أَرْعَی غَنَمَ أَهْلِي وَکَانَتْ لِي هُرَيْرَةٌ صَغِيرَةٌ فَکُنْتُ أَضَعُهَا بِاللَّيْلِ فِي شَجَرَةٍ فَإِذَا کَانَ النَّهَارُ ذَهَبْتُ بِهَا مَعِي فَلَعِبْتُ بِهَا فَکَنَّوْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

احمد بن سعید مرابطی، روح بن عبادة، اسامہ بن زید، حضرت عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ سے پوچھا کہ آپ کی کنیت ابوہریرہ کیوں رکھی گئی؟ فرمایا کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو َمیں نے کہا ہاں فرمایا کہ میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چرایاں کرتا تھا اور ایک میری چھوٹی سی بلی تھی۔ رات کو میں اسے ایک درخت پر بٹھا دیتا تھا اور دن کو اسے ساتھ لے جاتا اور اس سے کھیلتا رہتا۔ اسی طرح لوگ مجھے ابوہریرہ کہنے لگے۔ یہ حسن غریب ہے۔

Abdullah ibn Rafi’ reported that he asked Sayyidina Abu Hurayrah (RA) “How did you get the kunyah Abu Hurayrah? He asked, “Are you afraid of me?” He said, “Yes. By Allah, I fear you.” He said, “I used to graze the sheep of my family, and I had a small cat. I would put it up on a tree at night. When it was day, I would go out, and she with me and I would play with her. Thus, people gave me the kunyah Abu Hurayrah.”

Permalink

Jami' TirmidhiHadith 3776

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَخِيهِ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَيْسَ أَحَدٌ أَکْثَرَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَإِنَّهُ کَانَ يَکْتُبُ وَکُنْتُ لَا أَکْتُبُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

قتیبہ، سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار، وہب بن منبہ، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کے علاوہ مجھ سے زیادہ کسی کو احادیث یاد نہیں وہ بھی اس لئے کہ وہ لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: There is not anyone knowing more ahadith from Allah’s Messenger than me except Abdullah ibn Amr.He used to write down while I did not write down. [Tirmidhi 2677, Ahmed 7393, Bukhari 113] --------------------------------------------------------------------------------

Permalink