Sunan Ibn Majah — Hadith 3950
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ حُرْدَانَ قَالَ حَدَّثَتْنِي عُدَيْسَةُ بِنْتُ أُهْبَانَ قَالَتْ لَمَّا جَائَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ هَاهُنَا الْبَصْرَةَ دَخَلَ عَلَی أَبِي فَقَالَ يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَلَا تُعِينُنِي عَلَی هَؤُلَائِ الْقَوْمِ قَالَ بَلَی قَالَ فَدَعَا جَارِيَةً لَهُ فَقَالَ يَا جَارِيَةُ أَخْرِجِي سَيْفِي قَالَ فَأَخْرَجَتْهُ فَسَلَّ مِنْهُ قَدْرَ شِبْرٍ فَإِذَا هُوَ خَشَبٌ فَقَالَ إِنَّ خَلِيلِي وَابْنَ عَمِّکَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ إِذَا کَانَتْ الْفِتْنَةُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَأَتَّخِذُ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ مَعَکَ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيکَ وَلَا فِي سَيْفِکَ
محمد بن بشار، صفوان بن عیسیٰ ، عبداللہ بن عبید، حضرت عدیسہ بنت اہبان فرماتی ہیں کہ جب سیدنا علی کرم اللہ وجہہ یہاں بصرہ تشریف لائے تو میرے والد کے پاس آئے اور فرمایا اے ابوسلمہ ! ان لوگوں کے خلاف میری مدد نہ کرو گے ؟ عرض کیا ضرور پھر اپنی تلوار نکال لا۔ باندی تلوار لے آئی تو ایک بالشت کی مقدار تلوار نیام سے نکالی دیکھا تو وہ لکڑی کی تھی۔ قرم کہنے لگے میرے پیارے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچازاد بھائی نے مجھے یہ تاکید فرمائی تھی کہ جب مسلمانوں کے درمیان فتنہ ہو تو تلوار لکڑی کی بنالینا آپ چاہیں تو (یہی تلوار لے کر) میں آپ کیساتھ نکلوں فرمایا مجھے تمہاری اور تمہاری تلوار کی کچھ حاجت نہیں ۔
‘Udaisah bint Uhbãn said: "When Ali bin Abu Tâlib came to Basrah, he entered upon my father and said: ‘0 Abu Muslim,wll you not help me against these people? He said: ‘Of course.’ So he called a slave woman of his and said: ‘0 slave woman, bring me my sword.’ So she brought it, and he unsheathed it a span, and (I saw that) it was made of wood. He said: ‘My close Mend and your cousin P.B.U.H advised me, if tribulation (Fitnah) arose among the Muslims, that I should take a sword of wood. If you wish I will go out with you.’ He said: ‘I have no need of you or of your sword.” (Hasan)