Sunan Darimi — Hadith 44
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبَانُ هُوَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهُ طَبَخَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِدْرًا فَقَالَ لَهُ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ وَكَانَ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ فَنَاوَلَهُ الذِّرَاعَ ثُمَّ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَنَاوَلَهُ ذِرَاعًا ثُمَّ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَكَمْ لِلشَّاةِ مِنْ ذِرَاعٍ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَنْ لَوْ سَكَتَّ لَأُعْطِيتُ أَذْرُعًا مَا دَعَوْتُ بِهِ
حضرت ابوعبید بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک ہنڈیا میں کھانا تیار کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تم ایک پائے کی بوٹی دو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پائے کی بوٹی پسند تھی۔ حضرت ابوعبید نے پائے کی بوٹی ان کی طرف بڑھا دی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ ایک پائے کی بوٹی مجھے دو۔ میں نے عرض کی اے اللہ کے نبی ایک بکری کے کتنے پائے ہوسکتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ اگر تم خاموش رہتے توجب تک میں تم سے پائے مانگتا رہتاتم دیتے رہتے۔
-