Sunan Darimi — Hadith 2885
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْأَشْعَثُ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْبَقِيعِ فَرَأَى رَجُلًا يُبَاعُ فَأَتَاهُ فَسَاوَمَ بِهِ ثُمَّ تَرَكَهُ فَرَآهُ رَجُلٌ فَاشْتَرَاهُ فَأَعْتَقَهُ ثُمَّ جَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي اشْتَرَيْتُ هَذَا فَأَعْتَقْتُهُ فَمَا تَرَى فِيهِ فَقَالَ هُوَ أَخُوكَ وَمَوْلَاكَ قَالَ مَا تَرَى فِي صُحْبَتِهِ فَقَالَ إِنْ شَكَرَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَشَرٌّ لَكَ وَإِنْ كَفَرَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ وَشَرٌّ لَهُ قَالَ مَا تَرَى فِي مَالِهِ قَالَ إِنْ مَاتَ وَلَمْ يَتْرُكْ عَصَبَةً فَأَنْتَ وَارِثُهُ
حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں تشریف لائے وہاں آپ نے ایک شخص کو فروخت ہوئے دیکھا آپ اس کے پاس تشریف لائے آپ نے اس کی بولی لگائی اور پھر اسے چھوڑ دیا۔ ایک شخص نے یہ بات دیکھی تو اسے خرید کر اس کو آزاد کردیا پھر اس شخص کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی میں نے اسے خرید کر آزاد کردیا ہے آپ اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ تمہارا بھائی ہے اور آزاد کردہ غلام ہے اس شخص نے دریافت کیا اس کے ساتھ اچھے سلو ک کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ تمہارا شکر گزار رہے گا تو یہ اس کے لے بہتر ہے تمہارے لیے برا ہے اور اگر تمہاری ناشکری کرے گا تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اس کے لے برا ہے ان صاحب نے دریافت کیا اس شخص کے مال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر یہ فوت ہوجائے اور کوئی عصبہ نہ چھوڑے تو تم اسکے وارث ہوگے۔
-