Sunan Darimi — Hadith 2187
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَأَرَادَ مَوَالِيهَا أَنْ يَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ فَاشْتَرَتْهَا فَأَعْتَقَتْهَا وَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا وَكَانَ حُرًّا وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ هَذَا قِيلَ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں انہوں نے بریرہ نامی کنیز کو خریدنے کا ارادہ کیا اس کے مالکوں نے یہ شرط عائد کی کہ ولاء کا حق انہیں حاصل ہوگا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا تذکرہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم اسے خرید لو کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ہوتا ہے (راوی بیان کرتے ہیں ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے خرید کر آزاد کردیا۔ اس کنیز کو اس کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا اس کا شوہر آزاد تھا۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ کہاں سے آیاہے عرض کی گئی کہ یہ بریرہ کو صدقہ کے طور پر دیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے یہ ہدیہ ہے۔
-