Sunan Darimi — Hadith 1211
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَكَبَّرَ قَالَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ ثُمَّ يَسْتَفْتِحُ صَلَاتَهُ قَالَ جَعْفَرٌ وَفَسَّرَهُ مَطَرٌ هَمْزُهُ الْمُوتَةُ وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب نوافل ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہہ کر یہ دعا پڑھتے۔ اے اللہ تو پاک ہے حمد تیرے لیے ہے، تیرا اسم برکت والا ہے تیری عظمت بلند و برتر ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ میں سمیع و علیم اللہ کی شیطان سے اور اس کے ہمز و نفث اور نفخ سے پناہ مانگتا ہوں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کا آغاز کرتے تھے اس روایت کو راوی جعفر بیان کرتے ہیں مطر نے ان الفاظ کی وضاحت یوں کی ہے۔ ہمز کا مطلب موت ہے نفث سے مراد شعر ہے اور نفخ سے مراد تکبر ہے۔
-