TrueHadith

Sunan An-Nasa'i, Hadith 586 · Discussion on the Times of Prayers

Sunan An-Nasa'iHadith 586

أَخْبَرَنِي أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ صَلَّی بِالْبَصْرَةِ الْأُولَی وَالْعَصْرَ لَيْسَ بَيْنَهُمَا شَيْئٌ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ لَيْسَ بَيْنَهُمَا شَيْئٌ فَعَلَ ذَلِکَ مِنْ شُغْلٍ وَزَعَمَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّهُ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ الْأُولَی وَالْعَصْرَ ثَمَانِ سَجَدَاتٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا شَيْئٌالْوَقْتُ الَّذِي يَجْمَعُ فِيهِ الْمُسَافِرُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ

ابوعاصم خشیش بن اشرم، حبان بن ہلال، حبیب، ابن ابوحبیب، عمرو بن ہرم، جابر بن زید، ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے شہر بصرہ میں پہلی نماز (یعنی نماز ظہر) اور نماز عصر پڑھی (مطلب یہ ہے کہ اس درمیان نفل نماز نہیں پڑھی) اور نماز مغرب اور نماز عشاء اسی طریقہ سے پڑھی۔ یعنی درمیان میں کوئی دوسری نماز نہیں پڑھی اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کام کی وجہ سے اس طریقہ سے کیا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں نماز ظہر اور نماز عصر کی آٹھ رکعات پڑھیں اور درمیان میں ان کے کوئی نماز نہ تھی۔

It was narrated that Isma’il bin ‘Abdur-Rahman, a Shaikh of the Quraish, said: “I accompanied Ibn ‘Umar to Al-Hima. When the sun set I felt too nervous to remind him of the prayer, so he went on until the light on the horizon had disappeared and it was getting dark, then he stopped and prayed Maghrib, three Rak’ahs, then he prayed two Rak’ahs immediately afterwards, then he said: ‘This is what I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم do.” (Sahih)

Permalink

See the full chapter: جس وقت کوئی مقیم آدمی دو وقت کی نماز ایک ساتھ پڑھ سکتا ہے