TrueHadith

Sunan An-Nasa'i, Hadith 568 · Discussion on the Times of Prayers

Sunan An-Nasa'iHadith 568

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ أَنْبَأَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَی سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ وَضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ وَأَبُو طَلْحَةَ نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ قَالُوا سَمِعْنَا أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ يَقُولُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَقْرَبُ مِنْ الْأُخْرَی أَوْ هَلْ مِنْ سَاعَةٍ يُبْتَغَی ذِکْرُهَا قَالَ نَعَمْ إِنَّ أَقْرَبَ مَا يَکُونُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الْعَبْدِ جَوْفَ اللَّيْلِ الْآخِرَ فَإِنْ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَکُونَ مِمَّنْ يَذْکُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِي تِلْکَ السَّاعَةِ فَکُنْ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مَشْهُودَةٌ إِلَی طُلُوعِ الشَّمْسِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ وَهِيَ سَاعَةُ صَلَاةِ الْکُفَّارِ فَدَعْ الصَّلَاةَ حَتَّی تَرْتَفِعَ قِيدَ رُمْحٍ وَيَذْهَبَ شُعَاعُهَا ثُمَّ الصَّلَاةُ مَحْضُورَةٌ مَشْهُودَةٌ حَتَّی تَعْتَدِلَ الشَّمْسُ اعْتِدَالَ الرُّمْحِ بِنِصْفِ النَّهَارِ فَإِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَتُسْجَرُ فَدَعْ الصَّلَاةَ حَتَّی يَفِيئَ الْفَيْئُ ثُمَّ الصَّلَاةُ مَحْضُورَةٌ مَشْهُودَةٌ حَتَّی تَغِيبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغِيبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَهِيَ صَلَاةُ الْکُفَّارِ

عمرو بن منصور، آدم بن ابوایاس، لیث بن سعید، معاویہ بن صالح، ابویحیی سلیم بن عامرو ضمرة بن حبیب و ابوطلحہ نعیم بن زیاد، ابوامامہ، عمرو بن عبسہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا کوئی ایسا وقت موجود ہے کہ جس میں خدا تعالیٰ سے انسان کو زیادہ قربت حاصل ہو یا اس وقت میں یاد خداوندی میں مشغول رہا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جی ہاں تمام اوقات سے زیادہ بندہ خداوند قدوس کے قریب ہوتا ہے پچھلی رات میں (اس وقت خداوند قدوس پہلے آسمان پر نازل ہوتا ہے) پس اگر تم سے ہو سکے تو تم خداوند قدوس کی یاد کرنے والوں میں سے بن جاؤ اس لئے کہ اس وقت فرشتے نماز میں حاضر ہوتے ہیں (اس وجہ سے مجھے توقع ہے کہ وہ جلدی قبول ہو جائیں) سورج کے طلوع ہونے تک اس وجہ سے سورج طلوع ہوتا ہے شیطان کی دو چوٹی میں اور یہ وقت کافروں کی نماز کا تو اس وقت جس وقت سورج طلوع ہو رہا ہو تم نماز نہ پڑھو یہاں تک کہ سورج ایک نیزہ کے برابر بلند ہوجائے اور اس کی کرن خوب نکل آئے پھر فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ نماز میں شرکت فرماتے ہیں یہاں تک کہ سورج سیدھا ہوجاتا ہے دوپہر کے وقت (مطلب یہ ہے کہ اس کا کسی بھی جانب سایہ نہیں پڑتا جس طریقہ سے نیزہ بالکل سیدھا ہوتا ہے) اس وقت دوزخ کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور دوزخ دھونکائی جاتی ہے تو اس وقت تم نماز پڑھنا ترک کر دو یہاں تک کہ سایہ پڑھنے لگ جائے (زوال آفتاب سے) پھر نماز میں فرشتے شرکت کرتے ہیں سورج کے غروب ہونے تک اس لئے کہ سورج غروب ہوتا ہے شیطان کی دو چوٹی کے درمیان میں اور یہ وقت کافروں کی نماز کا ہے۔

It was narrated that ‘Ali said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم forbade praying after ‘Asr unless the sun was still white, clear and high.” (Sahih)

Permalink

See the full chapter: نماز عصر کے بعد نماز کے ممنوع ہونے کا بیان